ہم ایک سماجی تنظیم کی خصوصی دعوت پر کانفرنس اور ورکشاپ کیلئے گراز گئے۔ گراز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے تقریبا ً200 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ آسٹریا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ ویانا سے نکلتے ہی پہاڑی راستہ بے حد دلکش محسوس ہوتا ہے،الپس کے پہاڑوں کے شاندار مناظر اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ راستے میں بروک ان ڈیر مور ایک خوبصورت تاریخی قصبہ ہے جس کا روایتی طرزِ تعمیر نہایت متاثر کن ہے۔گراز اپنی تاریخ، جدیدیت اور ثقافتی ورثے کے حسین امتزاج کے باعث معروف ہے۔ یہ شہر اپنے پارکوں، باغات اور سبزہ زاروں کی وجہ سے بھی خاص شہرت رکھتا ہے۔ یونیسکو نے اس کی منفرد تاریخی اہمیت اور قدیم طرزِ تعمیر کے باعث اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔شہر کے مرکز میں ایک پہاڑی پر واقع قدیم قلعہ شلوس برگ ہے، جہاں سے پورے شہر کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قلعہ دسویں اور بارہویں صدی کے درمیان تعمیر کیا گیا۔ نپولین بوناپارٹ کے دور میں اس قلعے کو نقصان پہنچا تاہم کلاک ٹاور اور لیزل گھنٹہ گھر ایک معاہدے کے تحت محفوظ رہے۔یونیورسٹی آف گراز آسٹریا کی دوسری قدیم ترین اور بڑی یونیورسٹی ہے۔اس کی بنیاد آرچ ڈیوک کارل نے 1585 میں رکھی تھی۔ اس کے علاوہ گراز ٹیکنالوجی یونیورسٹی، گراز میڈیکل یونیورسٹی اور گراز موسیقی و فنونِ لطیفہ یونیورسٹی بھی یہاں موجود ہیں۔ گراز کو طلبہ کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی تقریبا ً25 فیصد آبادی طلبہ پر مشتمل ہے یعنی ہر چوتھا فرد یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔کنست ہاؤس گراز جدید فنی عجائب گھروں اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ یہ دریائے مور کے مغربی کنارے پر گراز کے تاریخی مرکز میں واقع ہے۔ اس کا ڈیزائن نامیاتی شکل کا حامل ہے جسمیں1288 نیلے ایکریلک گلاس پینلز استعمال کیے گئے ہیں۔ اس عجائب گھر میں 1960 کی دہائی سے لے کر آج تک کے جدید فن کی نمائش کی جاتی ہے۔ گراز اپنی پارکوں، باغات اور سبزہ زاروں کی وجہ سے بھی خاص پہچان رکھتا ہے۔ہم اس شہر میں سات دن قیام پذیر رہے، مختلف تقریبات میں شرکت کی اور شہر بھر میں تانکا جھانکی کی۔ ہمارے رفقا مختلف ممالک سے آئے ہوئے تھے اور ان سات دنوں کے دوران ہم نے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا۔ہمارے رفقا میں ایک دوست جیمز بھی تھا جو ہمارے ملک کا وزٹ کر چکا تھا۔ ایک روز اس نے گفتگو کے دوران کہا: مسٹر خالد آپ کا ملک دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں سے ایک ہے مگر ترقی پرہیز اور شہر آلودہ ترین ہیں اور اس کی بنیادی وجہ خود لوگ ہیں۔ جنہیں موقع ملتا ہے وہ اپنے ملک کے بجائے امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک میں رہائش اختیار کرنا پسند کرتے ہیں۔ وہ جائز وناجائز طریقے سے حاصل کی ہوئی دولت بھی انہی ممالک میں منتقل کر دیتے ہیں۔ان کو اپنے بچوں اور خاندان کو تیسرے درجے کے شہری کے طور پر وہاں رہنا گوارا ہے مگر اپنے ملک میں رہنا پسند نہیں کرتے،جیمز نے مزید کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے مگر وہاں کے لوگ صفائی کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھتے۔ لوگ جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھینکنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔
پنجاب میں آلودگی اور شور کی سطح بہت زیادہ ہے۔ کارخانوں اور گاڑیوں کے دھوئیں نے ماحول کو آلودہ کر رکھا ہے جبکہ اشیا فروخت کرنے والے لاڈ اسپیکروں کے ذریعے شور مچاتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ لوگ ان چیزوں کو برا نہیں سمجھتے اور نہ ہی پولیس اس کے خلاف کوئی خاص کارروائی کرتی ہے۔ اگر لوگ آلودگی اور شور کو سنجیدگی سے لیں تو ماحول صاف اور پرسکون ہو سکتا ہے مگر یہ سب کچھ عوامی شعور سے ہی ممکن ہے۔جیمز نے بتایا کہ اس نے لاہور میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان دیکھے۔ مینارِ پاکستان کے گرد باڑ لگی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے مقبرہ جہانگیر، مقبرہ نور جہاں، ہرن مینار، ہڑپہ اور کٹاس راج مندر سمیت مختلف تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ اس نے ان مقامات کی تعریف کی تاہم وہاں کے عملے کے بارے میں اس کا تاثر مثبت نہیں تھا۔جیمز کے مطابق آپ کا ملک ترقی کر سکتا ہے بشرطیکہ چند بنیادی امور پر توجہ دی جائے (1) دوسرے ممالک میں بسنے اور وہاں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے اپنے ملک کو ترجیح دی جائے اور دولت اپنے ہی ملک میں رکھی جائے۔ (2) میرٹ کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے۔ (3) صفائی کو اپنی عادت بنایا جائے۔ گلیوں، سڑکوں اور بازاروں میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکا جائے، آلودگی کے خاتمے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کی جائیں اور لاڈ اسپیکروں کا بے جا استعمال کو ختم کیا جائے تاکہ شور کی آلودگی کا خاتمہ ہو اور ماحول پرسکون بن سکے۔اس کا کہنا تھا کہ اگر صرف یہ تین اقدامات کر لیے جائیں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے کیونکہ یہاں ترقی اور خوشحالی کے امکانات دنیا کے کئی دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔گراز میں نہ آلودگی دکھائی دی اور نہ ہی پھیری والوں کی آوازیں یا لاڈ اسپیکروں کا شور سنائی دیا۔ لوگ پرسکون زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں زندگی پرانی روایات، جدید طرزِ تعمیر، شہری سرگرمیوں اور فطرت کے سکون کا ایک حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔گراز کے لوگ صبح سویرے بیدار ہوتے ہیں، کافی اور ہلکا ناشتہ کرتے ہیں۔ یہاں سائیکل چلانا عام ہے۔ لوگ دریائے مور کے کنارے بیٹھ کر فطرت سے لطف اندوز ہوتے ہیں، چہل قدمی کرتے ہیں اور قریبی پہاڑوں میں ہائیکنگ کرتے ہیں۔ الپس کے پہاڑوں سے آنے والا صاف پانی پائپوں کے ذریعے گھروں تک پہنچتا ہے جو منرل پانی سے بھی زیادہ صاف اور شیریں محسوس ہوتا ہے اور لوگ اسی پانی کو استعمال کرتے ہیں۔شام کے وقت لوگ اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ کیفوں اور پارکوں میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں کا ماحول کسی بڑے شہر کے بجائے ایک بڑے گاں جیسا محسوس ہوتا ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے سے ملنے جلنے کو اہمیت دیتے ہیں۔مختلف ریستورانوں اور فوڈ اسٹالز پر مقامی اور ایشیائی کھانے دستیاب ہوتے ہیں چونکہ اس شہر میں یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد زیادہ ہے اس لیے رات گئے تک کیفے، بارز اور کلبز کھلے رہتے ہیں۔گراز کی مقامی آبادی تقریبا 309000 ہے جبکہ عارضی رہائشیوں کی تعداد تقریبا 37400 ہے۔ خواتین اور مردوں کی تعداد تقریبا برابر ہے البتہ خواتین کی تعداد معمولی زیادہ ہے۔یہاں کے لوگ وقت کے پابند، منظم اور اصول پسند ہیں۔ وہ بامقصد گفتگو کرتے ہیں، صاف گو اور سچائی کو اہمیت دیتے ہیں۔ گراز کے لوگ انگریزی کے بجائے جرمن زبان میں گفتگو کو ترجیح دیتے ہیں۔ کسی کے گھر کھانے پر مدعو کیا جائے تو وقت کی پابندی انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہیحتی کہ پانچ منٹ کی تاخیر بھی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ کھانا کھاتے وقت چھری دائیں ہاتھ میں اور کانٹا بائیں ہاتھ میں رکھا جاتا ہے اور کھانا ختم ہونے پر دونوں کو پلیٹ میں متوازی رکھ دیا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ آپ کھانے سے فارغ ہوچکے ہیں۔ ریستورانوں میں عام طور پر بل کا 5 سے 10 فیصد بطور ٹپ دینا ایک روایت ہے۔ یہاں کے لوگ کدو کے بیج کے تیل کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اسے اکثر کھانوں میں استعمال کرتے ہیں، اسے کالا سونا بھی کہتے ہیں۔ کچرے کے معاملے میں سخت احتیاط برتی جاتی ہے اور خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ سڑک پار کرتے وقت زیبرا کراسنگ کا استعمال لازمی ہے اور گاڑیاں پیدل چلنے والوں کو راستہ دینے کیلئے فورا رک جاتی ہیں۔گراز ایک ایسا شہر ہے جو انسان کو محض دوڑ دھوپ نہیں بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔
گراز میں چند دن ۔۔۔!

