Home » صحت » گرم چائے پینا جان لیوا مرض کا باعث
Coffee and Heart Health

گرم چائے پینا جان لیوا مرض کا باعث

چائے کے شائقین زیادہ تر افراد گرما گرم چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق نیم گرم یا ٹھنڈی چائے میں وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو گرم چائے میں ہوتا ہے۔

اگرچہ عالمی ادارہ صحت بھی گرما گرم چائے یا دیگر مشروب پینے سے روک چکا ہے اور ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی تھی کہ تیز گرم چائے صحت کے لیے نقصان کار ہوتی ہے۔

تاہم اب امریکی ماہرین کی جانب سے ایران میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تیز گرم چائے جان لیوا مرض یعنی گلے یا غذائی نالی کی کینسر کا باعث بنتی ہے۔

انٹرنیشل جرنل آف کینسر (آئی جے سی) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے غذائی نالی یا گلے کی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

تیز گرم چائے کے کپ کو 4 منٹ کے بعد پیا جائے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
تیز گرم چائے کے کپ کو 4 منٹ کے بعد پیا جائے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

امریکن کینسر سوسائٹی (اے سی ایس) کے ماہرین کی جانب سے ایران کے شمال مشرقی صوبے گلستان کے 5 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ جو افراد 60 سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے پیتے ہیں ان میں گلے یا غذائی کینسر ہونے کے 90 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے 40 سے 75 سال افراد کی جانب سے تیز گرم اور نیم گرم چائی پیے جانے کے نتائج کو 2004 سے 2017 تک مانیٹر کیا اور بعد ازاں رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لیا۔

جائزے کے نتائج سے معلوم پتہ چلا کہ جو افراد ابلتی ہوئی تیز گرم چائے پینے کے عادی ہیں ان میں غذائی نالی اور خصوصی طور پر گلے کی کینسر کے امکانات عام افراد یا پھر نیم گرم چائے پینے والے افراد کے مقابلے 90 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی تحقیق سے قبل بھی یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے، تاہم ان کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کتنی گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد یومیہ 700 ملی لیٹر یعنی چائے کے 2 بڑے کپ تیز گرم پیتے ہیں وہ جلدی سے کینسر کا شکار بنتے ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ چائے کے شوقین افراد کو نیم گرم چائے پینی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر چائے کے شوقین افراد تیز گرم چائے کے کپ کو محض 4 منٹ کے بعد پینا شروع کریں گے تو ان میں کینسر کے خدشات کم ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت بھی کہ چکا ہے کہ چائے یا دیگر گرم مشروب کو 65 سینٹی گریڈ سے زائد گرم صورت میں نہ پیا جائے۔

لندن میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نہ صرف چائے اور مشروب بلکہ ہر تیز گرم غذا کو کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور سے غذائی نالی، گلے، معدے اور اسی طرح کے دیگر کینسر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

غذائی نالی یا گلے کے کینسر کا شمار کینسر کے 8 ویں بڑی قسم میں ہوتا ہے اور اس سے سالانہ 4 لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

رواں سال میں اب تک امریکا میں غذائی یا گلے کی کینسر کے مجموعی طور پر 16 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جن میں سے 4 ہزار کے قریب خواتین مریض ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative