Home » کالم » گزرے گا کبھی تُو بھی اسی راہ گزر سے

گزرے گا کبھی تُو بھی اسی راہ گزر سے

اےک بےمار ڈاکٹر کے پاس بغرض علاج گےا ۔ جب ڈاکٹر نے بےماری کی تفصےل معلوم کرنا چاہی تو مرےض نے کہا کہ ہر وقت ٹانگوں مےں درد رہتا ہے ڈاکٹر نے کہا ےہ بڑھاپے کی وجہ سے ہے کھانا ہضم نہےں ہوتا ےہ بھی بڑھاپے کی علامت ہے مرےض نے کہا کہ نےند بھی نہےں آتی اس کا سبب بھی بڑھاپا ہے نقہت و کمزوری محسوس ہوتی ہے ےہ بھی بڑھاپے کے کارن ہے بےنائی بھی متاثر ہے اس کی وجہ بھی بڑھاپا ہے آخر کار ڈاکٹر نے مرےض سے کہا کہ بزرگوارم بڑھاپا بذات خود اےک بےماری اور بہت سی بےمارےوں کا موجب ہے انگرےزی پروورب ہے ;65; man is as old as he thinksانسان اتنا ہی بوڑھا ہے جتنا وہ خےال کرتا ہے لےکن حقےقت بہرحال حقےقت ہے جس سے صرف نظر ممکن نہےں بڑھاپا خود اےسی بےماری کا نام ہے جو اپنے دامن مےں کمزوری وناتوانی اور کسمپرسی لئے ہوتا ہے اقوم متحدہ کے عالمی کمےشن برائے بڑھاپا کی تحقےقاتی رپورٹ کے مطابق بڑھاپے کی چار اقسام ہےں ان مےں عمر کے بوڑھے ،روےوں کے بوڑھے ،سوچ کے بوڑھے اور آخری قسم ہے جو وقت سے پہلے اپنے پر خود بڑھاپا طاری کر لےتے ہےں راقم کے پےش نظر اس کالم مےں عمر کے بوڑھے ہی ہےں ضعےفی کے ضعف کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہےں جو عمر کے اس حصے سے گزر رہے ہےں ان بوڑھوں کا ما سوائے ان کی بوڑھی بےوےوں کے کوئی غم خوار نہےں ہوتا وہ بھی اگر بقےد حےات ہوں اس عمر مےں بوڑھے بچوں جےسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہےں بوڑھوں کا من پسند کام نصےحت کرنا اور اپنی گزشتہ زندگی کو کارناموں کی شکل مےں دہرانا ہوتا ہے وہ اپنی جوانی کو ےاد کرتے ہےں اور ماضی کی داستانےں دہرا کر داستان گو بن جاتے ہےں ےہ دراصل پرانی ےادوں کے سہارے اپنی لاچارگی کے کرب کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہےں ان کی اولادےں ،احباب اور اقربا ء ان کی باتےں سن سن کر تنگ آ چکے ہوتے ہےں وہ سمجھتے ہےں ےہ تو وہی بات ہے جو سےنکڑوں بار پہلے بھی سنی جا چکی ہے نوجوان نسل ان کا مذاق اڑاتی ہے جےسے انہوں نے کبھی بڑھاپے کی منزل سے کبھی گزرنا ہی نہےں مےرے واجب الاحترام قارئےن مغربی دنےا کے معاشرے مےں مختلف حقوق کےلئے کام کرنے والی تنظےموں کی اےک طولانی فہرست ہے ان مقاصد کےلئے ان کے پاس اربوں ڈالرز کے فنڈز بھی موجود ہوتے ہےں مغرب کی تقلےد مےں ہمارے ہاں بھی کبھی کبھار مختلف طبقوں کے حقوق کی خاطر آوازےں سنائی دےتی ہےں لےکن حقوق انسانی کا استحصال کوئی نئی بات نہےں فرد کی سطح سے لے کر مجموعی زندگی تک انسانےت اور انسانی حقوق کی پامالی مختلف اشکال لئے ہمارے سامنے آتی ہے جس تےزی سے انسان مادی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اسی تےزی سے وہ سچے اور خوبصورت جذبوں سے دور ہوتا جا رہا ہے ہمارا معاشرہ بزرگوں کی عزت و تکرےم کے معاملے مےں اپنی خاص پہچان رکھتا تھا مگر اس مادی دور کی تےز رفتاری ، نفسا نفسی مےں ادب آداب اور خاندانےت کا پرانا تصور ماضی کی راہدارےوں مےں کہےں گم ہو کر رہ گےا جسے نئے سرے سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ہر سال ےکم اکتوبر بزرگاں منانے کےلئے مختص ہے اس دن ان کےلئے رہائش اور خوراک کی سہولتوں کا بندوبست کرنے کا عہد کےا جاتا ہے انہےں صحت کی سہولتےں بہم پہنچانے کے پروگرام مرتب کئے جاتے ہےں لےکن ہر گزرتا دن ماہ اور سال ےہ کہتا ہوا گزر جاتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو جنم دےنے والوں کو بھولتا جا رہا ہے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے ہی بچے اپنے والدےن کو اندھےروں مےں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہےں آج کے اس افراتفری کے دور مےں ہر انسان کی سوچ صرف اپنے بےوی بچوں کے گرد گھومتی ہے وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے جنم دےا پروان چڑھاےا اور اس قابل کےا اسلامی حقوق کا باب تو نہاءت روشن ،وسےع اور جامع ہے ہمارا معاشرہ ان مذہبی اور سماجی اقدار پر فخرتو کرتا ہے لےکن عملی زندگی مےں ہمارا روےہ بوڑھوں کے ساتھ کےا ہے کسی بزرگ نے کہا تھا کہ آدم;174; کے ماں باپ نہےں تھے صرف اولاد تھی اس لئے جذبات کا بہاءو آگے کی طرف تھا سو بنی نوع انسان کی ےہ مجبوری ہے کہ جو محنت اولاد کےلئے ہوتی ہے وہ ماں باپ کےلئے نہےں روز مرہ زندگی مےں ہمےں کئی بوڑھے گندے کپڑوں اور چےتھڑوں مےں نظر آتے ہےں اور ناکافی لباس مےں جسم کی پوشےدگی قائم رکھنے سے بھی عاجز و قاصر دکھائی دےتے ہےں ان کے بال گردوغبار سے اٹے ہوئے اور ان کے بالوں کو تےل کنگھی سے آرائش کئے کافی عرصہ بےت چکا ہوتا ہے اےسی خبرےں بھی مےرے ناظرےن کی نظروں سے گزری ہوں گی کہ اےک بےٹے نے باپ کی زرعی زمےن اپنے نام ٹرانسفر کرانے کے بعد باپ کو اس کے اپنے ملکےتی گھر سے ہی نکال باہر کےا ان بدقسمت انسانوں کی اےسی لرزا دےنے والی کہانےاں ہمارے لئے اور سماج کےلئے بھی باعث شرم ہےں ےہ بوڑھے چارپائی پر حےات و زےست کی کشمکش مےں مبتلا ہوتے ہےں تو ان کی زےادہ نگہداشت اور خبر رکھنے کی بجائے ان کو تنہا کر دےا جاتا ہے جب گھر مےں کوئی مہمان ،رشتہ دار ےا عزےز آتا ہے تو اےسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بوڑھے کی بہت زےادہ دےکھ بھال کی جا رہی ہے حالانکہ حقےقت اس کے برعکس ہوتی ہے اس بے چارے کو تو دو وقت کے کھانے سے بھی محروم رکھا جا رہا ہوتا ہے بوڑھے لوگوں کے مسائل مےں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی کا کرب ہے جس سے وہ ڈپرےشن کا شکار ہو جاتے ہےں اےک سروے کے مطابق وطن عزےز مےں لاکھوں مزدور ، رےٹائر منٹ کے بعد اپنا بڑھاپا کسمپرسی مےں گزار رہے ہےں جہاں بوڑھوں سے گھروں مےں تضحےک آمےز سلوک ہوتا ہے وہاں معاشرے مےں بھی ان کو عزت و احترام نہےں دےا جاتا ےہ انفٹ بوڑھے آپ کو بےنکوں ،ہسپتالوں ،کچہرےوں اور دےگر پبلک مقامات پر خوار ہوتے دکھائی دےں گے ےہ بزرگ تو اب سماج مےں اپنی بہوءوں کے تابع ےوٹےلٹی بلوں کی ادائےگی کےلئے وقف ہےں ۔ دنےا کے ترقی ےافتہ شہرےوں کو سٹےزن الاءونس ،ہر قسم کے علاج معالجے کی سہولت مفت اور بزرگ شہرےوں کی قےام گاہ مےں پناہ دی جاتی ہے لےکن ان کےلئے عزےزوں کی جدائی سوہان روح رہتی ہے وہ اپنے بےٹوں ،بےٹےوں ،پوتے، پوتےوں اور نواسے ،نواسےوں کی فوٹو اپنے مےز پر سجائے حسرت بھری نظروں سے سارا سال اس آس مےں گزار دےتے ہےں کہ کب بزرگ شہرےوں کا دن آئے اور ان کے عزےزواقارب ان کےلئے تحفے تحاءف ےا کم از کم پھولوں کا گلدستہ لا کر انہےں پےش کرےں وطن عزےز مےں کبھی کبھار مختلف سطحوں پر مختلف طبقوں کے حقوق کی صدائے بازگشت سنائی دےتی ہے لےکن ےہ موہوم اور نحےف صدا صرف صدا تک محدود رہتی ہے اور کوئی عملی اقدام اٹھانے سے قبل ہی راستے مےں دم توڑ دےتی ہے معاشرے کا ہر فرد زبانی تو اس کا اعتراف کرتا ہے کہ بوڑھے ہماری متاع بے بہا ہےں لےکن عملی طور پر انہےں نظر انداز کےا جاتا ہے ۔ حکومت بھی اگر ان کی مدد کی خواہاں ہے تو انہےں فری طبی سہولتےں دےنے کا اہتمام کرے سرکاری ہسپتالوں مےں بزرگوں کی امراض کے ماہر ڈاکٹر تعےنات کرے ان معمر شہرےوں کو بس،رےل اور ہوائی جہاز سے سفر کےلئے کم از کم پچاس فےصد کراےہ مےں رعاےت دے بزرگ پنشنرز جن کی عمر ستر سال ےا اس سے زائد ہے ان کو ان کے موجودہ ہم عصر پےنشنرز کی پنشن کے مساوی پنشن دے بے سہارا بزرگ شہرےوں کےلئے سنئےر سٹےزنز ہومز قائم کرے جہاں ان کو رہائش ،قےام ، طعام اور علاج معالجہ کی سہولت مےسر ہو اگر اےسا نہےں کےا جاتا تو چڑےا گھروں مےں بزرگوں کا فری داخلہ ان کے کسی کام نہ آےا ہے نہ آئے گا اس طرح تو وہ شاید چڑےا گھر کے مستقل رہائشی ہو جائےں گے اور رات کو بھی جانوروں کے پنجرے مےں قےام کرےں گے ۔ واجب الاحترام قارئےن اگر ہم ان بوڑھے لوگوں کا خےال نہےں کر پاتے تو اس کا حساب ہمےں دےنا ہو گا ۔ اےسے مجبور، بے بس اور مظلوم لوگوں سے محبت کرنا اور ان کی تکالےف کا ازالہ کرنا ہی روحانی و مذہبی اقدار کی پاسداری کرنا ہے اور ےہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آج بوڑھے جس دور سے گزر رہے ہےں کل کو ہمےں بھی اس دور سے گزرنا ہے

وقت آخر راحےل نے کہا ےہ اپنے پسر سے

گزرے گا کبھی تو بھی اسی راہ گزر سے

About Admin

Google Analytics Alternative