Home » کالم » ہمارے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں

ہمارے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں

امریکہ نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان ماضی میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث رہا ہے۔ اس نے شمالی کوریا، ایران اور شام کو ایٹمی ہتھیار منتقل کئے ہیں۔ نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کے فروخت کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مغربی الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلا ؤ کے ذمہ دار مغربی ممالک ہیں۔ انہوں نے ہی ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے غیر محفوظ ہاتھوں میں ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کا ذکر ہوتا ہے تو مغربی میڈیا خصوصاً اسرائیل کھینچ تان کر اس کی ڈور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے ملا دیتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اسرائیل کی آنکھ میں چبھنے والے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کسی طرح متنازعہ بنا کر اسے ختم کرانے کیلئے عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔ پہلے شمالی کوریا کے نیوکلیئر پروگرام میں پاکستان کو ملوث کیا گیا۔ پھر ایران کو ایٹمی مواد اور مشاورت دینے کے الزامات لگائے گئے اورپھرایک کوشش لیبیا کے حوالے سے کی گئی ہے۔ پاکستانی حکام کی پر زور تردید کے باوجود ان کا ذمہ دار پاکستان کو ہی ٹھہرایا گیا۔ یہ سب شرارت ہنود و یہود گٹھ جوڑ کی ہے۔یہ بات واضح ہے کہ ایران، لیبیا اور شمالی کوریاکے ایٹمی پروگراموں میں یورینیم کی افزودگی کیلئے استعمال ہونے والے ’’ سینٹری فیوج‘‘ کا طریقہ ہالینڈ میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔ لہٰذا ان ممالک کو غیر قانونی طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی تحقیقات کا دائرہ پاکستان سے نکل کر ہالینڈ سمیت یورپ کے دیگرممالک تک پھیل گیا ہے۔IAEA کا کہنا ہے کہ ہالینڈ میں تیار ہونے والا یورینیم کی افزودگی کا نظام جو کہ ایران کو منتقل کیا گیا ہے کیا اسے ہالینڈ کی کمپنی نے براہ راست ایران پہنچایا، یا کسی دوسرے ذریعے سے یہ ایران پہنچا۔ اس سلسلے میں ہالینڈ کے دو وزراء نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ شمالی کوریا اور لیبیا نے خفیہ طور پر یورپ میں تیار کردہ ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستان ایٹمی اسلحہ کو فروغ دے رہاہے ، تو یہ الزام کسی بھی فورم پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔ حالانکہ بھارت اور اسرائیل کی طرف سے اس کی متعدد بار کوشش بھی کی گئی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو منجمد کرانے اور اسے رول بیک کرانے کے لیے سالہاسال سے کوششیں جاری ہیں جو ہمیشہ ناکام رہیں۔ یہ پاکستان کا اپنا پروگرام ہے جو بغیر کسی بیرونی امداد کے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہم کب تک مدافعانہ رویہ اختیار کرتے رہیں گے۔ کب تک بے بنیاد الزامات کو سہتے رہیں گے اور بد خواہوں کو یہ موقع دیں گے کہ وہ ہمارے ایٹمی کردار کے بارے میں مزید قیاس آرائیاں کریں اور افواہیں پھیلائیں۔ جب ہمارا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہے تو ہمیں کمزوری دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ چپ سادھ کر بیٹھ رہنے کی پالیسی اب مزید کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ جس طرح دوسرے ایٹمی ممالک کے بارے میں یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ وہ ذمہ دار ایٹمی ملک ہیں، اسی طرح پاکستان بھی ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے۔ لیکن ایک منصوبے کے تحت اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ اس کا اسلامی تشخص ہے جو یہود و ہنود کی انکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ پاکستان ایٹمی ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنے کے خلاف ہے کیونکہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ کا قائل ہے۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی سائنسدانوں سے پوری طرح چھان بین کی ہے ۔ یورپی اور دیگر ملکوں بھی چاہیے کہ وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی خاطر اپنے ہاں بھی ایسی ہی چھان بین کریں تاکہ ایٹمی ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو منتقل نہ ہو سکے۔ پاکستان اس بارے میں دوسرے ملکوں اور بین الاقوامی اٹامک ایجنسی سے بھی ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ پر یقین رکھتا ہے اور ہماری جوہری عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر گامزن ہے اور وہ دنیا کے دیگر تمام ملکوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی پالیسیوں اور اصولوں کی پیروی کر رہا ہے ۔ ہماری حکومت نے ایٹمی کمانڈ اتھارٹی قائم کر رکھی ہے جو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی روک تھام کر رہی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative