Home » تازہ ترین » ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے اور بھارتی سفیر کو بھی جانا ہوگا،وزیرخارجہ

ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے اور بھارتی سفیر کو بھی جانا ہوگا،وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔

پارلیمنٹ میں خطاب سے قبل ایک انٹرویو میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پانچ بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں سے ایک پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے اختیارات اور سفارتی سرگرمیاں محدود کردی جائیں گی اور اب ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کشمیر کے مسئلے پر ڈرایا جائے اور مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، بھارت نے 5 اگست کو جو حرکت کی اس سے خود عالمی ممالک کو سب کچھ پتا چل گیا، بھارت نے اپنے اقدام سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کردیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی 5 اگست کی حرکت بڑی حماقت تھی، تاریخ بتائے گی اس فعل سے بھارت کے وفاق پر کاری ضرب لگی ہے، وقت بتائے گا یہ بھارتی اقدام کا نقصان خود اسے ہی ہوگا، راجیہ سبھا میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے قراردادیں دھوکے سے پیش کیں لیکن بھارتی اپوزیشن نے امیت شاہ کی بات سننے سے انکار کردیا، سب لوگ سمجھتے ہیں مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ کردیا ہے، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کی تمام قیادت نے بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ مودی سرکار کے ایک فیصلے نے تمام کشمیریوں کو یکجا کر دیا، مودی آج کرفیو اٹھائے اور کشمیریوں سے پوچھے کہ 5 اگست کے اقدام پر آپ پر آپ کی کیا رائے ہے ہے تو اسے پتا چل جائے گا، جو غیرقانونی فعل بھارت نے کیا اس پر بھارت میں بھی تنقید کی جا رہی ہے، محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ  ہمارے بڑوں سے تاریخی غلطی ہوئی تھی، چدمبرم نے کہا تاریخ بتائے گی 5 اگست بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، بھارت کےاندرایک قانون بحث چھڑگئی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ میں بھی اس غلط فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر ہو گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہماری اس بھارتی اقدامات کی تیاری نہیں کی، ہمیں اندازہ ہو رہا تھا بھارت کچھ نہ کچھ کرنے جا رہا ہے، 31جولائی کو کشمیر کمیٹی کو دعوت دی جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی، پاکستان نے یکم اگست کومسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تحفظات اقوام متحدہ کو بھجوائے اور اقوام متحدہ کو کنٹرول لائن اور کشمیر پر مداخلت کا کہا، پاکستان کا لکھا مراسلہ سلامتی کونسل کے ہر ممبر میں تقسیم کیا گیا، ہم نے او آئی سی سے بھی رابطہ کیا انہوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، 5اگست کو بھارت نے کچھ اقدامات کیے جن کی فی الفور مذمت کی گئی۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ آج ہر کشمیری بچہ یونین کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور کشمیری  پاکستانی پارلیمان کا فیصلہ سننے چاہتے ہیں، تمام ارکین اسمبلی بشمول اپوزیشن نے ثابت کیا کہ کشمیر کاز پر ہم سب متفق ہیں، آج ہماری قرارداد بھارت کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہو گا۔

About Admin

Google Analytics Alternative