Home » کالم » ہمیں متحدہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا

ہمیں متحدہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا

پاکستان دشمنی تو ہمیشہ سے ہی بھارت کاانتخابی نعرہ رہی ہے۔پاکستان کے بہتر اور پرامن برتاؤ نے نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک مودی اور اس کی حکمران جماعت کو شکست فاش دی۔ بھارتی عوام نے بھی اپنی سرکار کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا۔ جنگی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو تیز کرنے کیلئے اپنے پرانے دوستوں اور ایجنٹوں سے رابطے کئے گئے۔ایم کیو ایم لندن، براہمداغ بگٹی اور پی ٹی ایم سمیت دیگرکا لعدم تنظیموں کو اربوں روپے کی فنڈنگ کا فیصلہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھارت نے پاکستان کے خلاف 6321 فیک آئی ڈیز بنائی ہیں جن کے ذریعے مذہبی نفرت پھیلانے ، صوبائی عصبیت پیدا کرنے اور حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے اور جعلی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا کام کیا جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان آئی ڈیز کو افغانستان، ساؤتھ افریقہ، لندن اور بھارت سے آپریٹ کیا جائیگا۔اس کے ساتھ ساتھ جعلی مدارس اور دہشت گردی کے کیمپس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جائیں گی۔ اس خوفناک منصوبے کیلئے انتہا پسند ہندوؤں کو باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے جنہوں نے مسلمانوں کی طرح داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں اوران کو مسلمان ظاہر کر کے پاکستان بھیجا جائے گا جہاں ان کی ایسی ویڈیوز بنائی جائیں گی کہ مسلمان دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کو چلا رہے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے اہم اداروں کو اطلاع مل چکی ہے اور انہوں نے اس کے سدباب کیلئے کام بھی شروع کر دیا۔مودی منصوبے کے تحت ایم کیو ایم لندن کے وفد نے براہمداغ بگٹی سے حال ہی میں ملاقات بھی کی ہے۔ان ویڈیوز کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جائیگا۔ کہا یہ جائے گا کہ پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کی ویڈیوز ہیں ۔پھر ایک ڈرامہ کے تحت اپنے لوگوں کو خود ہی گرفتار کر کے ان سے پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپوں کے بارے میں بیان دلوایا جائے گا کہ پاکستان ان کیمپوں کے ذر یعے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے پاکستان سے بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ دہشت گرد بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے جو مختلف شہروں میں اہم عمارات ، ہوائی اڈوں، مساجد اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔جنگی جنون اور خطے کے امن کو تباہ کرنے کے خواہشمند مودی نے اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی پاکستان کو حملے کی دھمکی دی ہے۔ جہاں تک ایم کیو ایم لندن کا تعلق ہے تو ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ایم کیو ایم لندن اور را کے شروع دن سے تعلقات رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پر یہ الزام کئی بار لگا کہ اس کے نہ صرف بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ اینجسی را کے ساتھ نہ صرف روابط رہے بلکہ یہ سچائی بھی بڑی حد تک کھل کر سامنے آتی رہی کہ ایم کیوایم بھارت سے خفیہ طور پر رقم بھی لیتی رہی۔ایم کیو ایم لندن کے کارکن بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے عسکری تربیت لیتے رہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے ایک اہم کارکن صولت مرزا نے پھانسی سے پہلے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم کے کارکن بھارت میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے صولت مرزا کے اس بیان کو اپنے کانوں سے سنا۔ ایم کیو ایم لندن کے را کے ساتھ رابطوں کے بارے میں دستاویزی ثبوت پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔بھارت بلوچستان کے باغیوں کی نہ صرف پیٹ ٹھونک رہا ہے بلکہ انہیں مالی وسائل بھی مہیا کر رہا ہے۔ بھارتی سازشوں کا مرکز افغانستان کے صوبہ قندھار میں ہے اور اس کی بیشتر برانچیں اب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی میں کھل گئی ہیں۔ جہاں پاکستان سے اغوا کیے گئے بے روزگار پڑھے لکھے جوانوں کو معاشی ترغیبات سے اپنے ہی ملک کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو دس دس ہزار روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔بھارت تو اس انتظار میں ہے کہ نام نہاد بلوچ لیڈر ہندوستان میں پناہ کیلئے باضابطہ درخواست دیں تو چند ہفتوں میں انہیں پناہ دیدی جائے گی۔ کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ انڈیا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟لہٰذا بھارت کے حالیہ منصوبوں میں ایم کیو ایم لندن اور بلوچ علیحدگی پسند وں کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں ۔ہمیں متحدہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا جس طرح حالیہ صورتحال میں حکومت، اپوزیشن، فوج اور عوام اپنے ذاتی وسیاسی اختلافات بھلا کر ایک ہوئے اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی اسی طرح ہم ایک ہو کر دشمن کو ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ ناکام و نامراد کر سکتے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative