Home » کالم » ہمےں تلاش تھی جس کی ےہ وہ سحر تو نہےں

ہمےں تلاش تھی جس کی ےہ وہ سحر تو نہےں

حکومت کسی کی ہو اور کوئی بھی ہو جب اس کے ’’اچھے برے‘‘کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے ےہی دےکھا جاتا ہے کہ جمہور کی حکومت نے اپنے عوام کی بہتری اوربھلائی کےلئے کےا کےا ۔ ان کے مصائب و مشکلات مےں کمی کی ،حکمران ان کے دکھ درد مےں کس حد تک شرےک ہوئے ۔ جن حکمرانوں نے اپنے منشور پر عمل درآمد کےا کہ انتخابی منشور وعدے ہوتے ہےں جن پر عمل درآمد حکمرانوں کا فرض ہوتا ہے کہ ’’ اچھا‘‘ وہی کہلائے گا جو وعدے کا پکا ہو ۔ وہ کےسے اس وعدے پر قائم رہے ۔ راقم کے خےال مےں حکومت کی پرکھ کا ےہی اےک پےمانہ ہے ۔ اگرچہ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے اےک سال ہی ہوا ہے لےکن ےہ بات ہر صورت درست ہے ملک کے عوام بہت سے مسائل سے دوچار ہےں ۔ بے روزگاری بڑھ گئی ہے گرانی مےں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے ۔ سب سے اہم ےوٹےلٹی بلز عذاب بن گئے ہےں ۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کی اےک چوتھائی آبادی غربت کی لکےر سے نےچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ ماضی کے جمہوری حکمرانوں نے ان کے مسائل پر توجہ نہےں دی ۔ وہ تو اقتدار کےلئے آپس مےں اس طرح لڑتے رہے کہ جےسے ےہ ان کی مےراث ہو ۔ جن کے ووٹ سے وہ اس مقام تک پہنچے ان کےلئے کچھ نہےں کےا ۔ انتخابات مےں بڑے بڑے دعوے وعدے کئے لےکن جب اقتدار مل گےا تو بادشاہ بن گئے ۔ سب کچھ ہوا ،عوام کےلئے کچھ نہےں کےا گےا ۔ ےہ ملک 21کروڑ عوام کا ہے وہی اس کے وارث ہےں اور وہی حکمران اچھا قرار دےا جائے گا جو ان کی بہتری اور انہےں رےلےف دےنے کےلئے کام کرے گا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت اس دعوے کے ساتھ اقتدار مےں آئی تھی کہ وہ چوروں ، لٹےروں کا کڑا احتساب کر کے غرےبوں کو رےلےف فراہم کرے گی اور عوام خوشحال ہوں گے مگر جس دن سے پاکستان تحرےک انصاف برسر اقتدار آئی ہے عوام کو پہلے سے مےسر تمام رےلےف اورسبسڈی ختم کر دی گئی ہے ۔ روز بروز مہنگائی کا سلسلہ ہے کہ رکنے کونہےں آ رہا ۔ آئی اےم اےف کی کڑی شرائط کے بارے مےں سن کر غرےب اور متوسط آمدنی والے افراد افسردہ اور پرےشان ہےں ۔ بجلی ،گےس ،پٹرولےم مصنوعات ،آٹا ،گھی چےنی سمےت اشےائے خوردو نوش کی قےمتوں مےں اضافے کے علاوہ حکومت نے ٹےکسوں کی شرح مےں اضافہ کرتے ہوئے آنے والے مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے کےلئے عوام کو بے آسرا چھوڑ دےا ہے آئی اےم اےف نے تو بجٹ کے وقت ہی بجٹ کا اصل چہرہ دکھاتے ہوئے مہنگائی کے نئے سونامی کی پےشگی ہی اطلاع دے دی تھی ۔ ملک مےں جتنی تےز رفتار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے کہ انسان کا دماغ اس کا ساتھ نہےں دے رہا ۔ اس حوالے سے راقم کو اےک قصہ ےا آ رہا ہے ۔ کہتے ہےں کہ کسی ملک کے صدر نے عجائب خانہ کا دورہ کےا ۔ وہاں انواع و اقسام کی قدےم اشےاء موجود تھےں ۔ عجائب گھر کادورہ کرتے ہوئے وہ اےک اےسے حصے مے جا بےٹھے جہاں عجائب گھر کی دےور پر کئی گھڑےاں لٹک رہی تھےں اور ہر گھڑی کی سوئےوں کی رفتار دوسری سے مختلف تھی ۔ انہوں نے عجائب گھر کے مالک سے گھڑےوں کی رفتار سے متعلق پوچھا تو اس نے بتاےا کہ ےہ گھڑےاں متعلقہ ممالک مےں موجود برائےوں اورکرپشن کی رفتار سے گھومتی ہےں لےکن اس مےں خود ان کے ملک کی گھڑی نظر نہ آئی ۔ ےہ دےکھ کر وہ بہت خوش ہوئے ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے عجائب گھر کے مالک سے کہا اس کا مطلب ےہ ہے کہ ہمارے ملک مےں کوئی کرپشن ےا برائی نہےں ہے ۔ ےہ سن کر عجائب گھر کا مالک بولا ،صاحب آپ کے ملک کی گھڑی کی رفتار اتنی زےادہ تھی کہ وہ ہمارے عجائب گھر کے باورچی خانے مےں پنکھے کا کام دے رہی ہے ۔ آئے دن چےزوں کی بڑھتی ہوئی قےمتےں اسے مےلوں دور پےچھے چھوڑ ی چلی جارہی ہےں ۔ کہنے کو مےاں بےوی اےک گاڑی کے دو پہیے ہےں لےکن اس مہنگائی نے ان کا پہےہ جام کر دےا ہے ۔ اب گاڑی چلے تو کےسے;238; گھر کا باورچی خانہ تو وہ جگہ ہے جہاں سارے گھر کی رونقےں ےکجا ہوتی ہےں ۔ اےک چھت تلے گھی،تےل آٹا،شکر ،چاول ،دال دلےہ کسی نعمت کدہ سے کم نہےں ہوتا جب سب اےک اےک کر کے مہنگائی کی نذر ہوتے جائےں تو کےا خاک زندگی بسر ہو رہی ہو گی ۔ تےزی سے بڑھتی ہوئی قےمتےں اےک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر مےں غرےب آدمی کو آنکھےں دکھلا رہی ہےں اور پوچھ رہی ہےں کہ کہو کہ زندگی کی دوڑ دھوپ مےں مہنگائی کا ےہ روپ کےسا لگا;238; عام آدمی مہنگائی کے اس بھوت سے ڈر کے مارے سوتے ہوئے اٹھ جاتا ہے کہ اسے گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کے درمےان سوچ کے فلائی اوور سے گزرنا پڑتا ہے کہ کونسی اور کس کس کی فرمائش پوری کرنی ہے ۔ جےب ٹٹولتا ہے تو اداس ہو جاتا ہے ۔ بڑھتے ہوئے بس اور رکشہ کے کرائے اور سبزی کے دام اسے جھنجوڑتے ہےں کہ برق رفتار سے مہنگائی اسے کہاں لے جا رہی ہے اور اس بے قابو جن کو کون روکے گا;238;اس وقت ےہ صورتحال ہے کہ دکاندار کےلئے دکان کھولنا مشکل فےکٹری مالکان کےلئے فےکٹری چلانا مشکل ،تاجر کےلئے تجارت کرنا مشکل اور کسان کےلئے کاشتکاری مشکل ہو گئی ہے ۔ نجی ،کاروباری اور صنعتی اداروں کے ملازمےن کو ہر وقت ےہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ جانے کب ان کی ملازمت ختم ہو جائے کےونکہ اےف بی آر کے نئے قوانےن اور ٹےکسوں کی بھرمار کی وجہ سے فےکٹرےاں اور کارخانے بند ہو رہے ہےں ۔ غرےب کی صدائےں کبھی بھی بلند اےوانوں کی دےوارےں پار کرنے کی طاقت نہےں رکھتےں ۔ ہر حکومت اےک دعویٰ لے کر بر سر اقتدار آتی ہے کہ ہم غرےبوں کا معےار زندگی اےسا بنائےں گے کہ وہ آسانی سے گزر بسر کر سکےں مگر عملاً اےسا کبھی نہےں ہوا ۔ تسلےم کہ گزرے ادوار مےں تو دو خاندان حکمران تھے لےکن موجودہ تبدےلی پوری قوم کےلئے سحر کا پےام تھی کہ جو شخص وزارت عظمیٰ پر براجمان ہوا وہ سےاسی لحاظ سے کسی کا جانشےن نہےں اور کرپٹ بھی نہےں ۔ برسر اقتدار جماعت کو ووٹ اسی بنےاد پر ڈالا گےا تھا کہ ہم حقےقی اور عملی تبدےلی کے خوہاں تھے ۔ ہمےں اس تبدےلی کا خواب دکھاےا گےا جہاں دودھ کی نہرےں بہہ رہی تھےں اور جہاں ہر سو ہر چےز کی ارزانی اور فراوانی تھی اور زندگی کو گوےا سکون ہی سکون اور اطمےنان ہی اطمےنان حاصل تھا لےکن اب معلوم ہوتا ہے کہ ےہ بہشت در حقےقت حسن بن صباح کی اس بہشت جےسی تھی جس کے خواب دکھا کر وہ لوگوں کو بےوقوف بناےا کرتا تھا ۔ ملک بھر مےں اےک افراتفری کا عالم ہے اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا فرد بری طرح پرےشان ہے ۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زےادہ پسنے والوں مےں سر فہرست ہے ۔ تاجر طبقہ الگ سے پرےشان ہے ۔ عوام مہنگائی کی شدت سے کراہ رہے ہےں ۔ بےماروں کا علاج کروانا اور بچوں کو تعلےم دلانا اےک مجبوری ہے جس کےلئے وسائل نہ رکھنے والے سفےد پوش عزت نفس اور خودداری کا خون کر کے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھےلانے پر مجبور ہو گئے ہےں ۔ غربت کی لکےر سے نےچے زندگی بسر کرنے والوں کی شرح آئے روز بڑھتی جا رہی ہے ۔ زےادہ حساس طبعےت رکھنے والے حالات کے سامنے ہار مان کر خود کشےاں کر رہے ہےں اور عوام ےہ کہنے پر مجبور ہےں کہ

ہمےں تلاش تھی جس کی ےہ وہ سحر تو نہےں

About Admin

Google Analytics Alternative