Home » کالم » ہم ایڈنہیں ٹریڈلینے آئے ہیں ۔۔۔وزیراعظم کادورہ امریکہ کے دوران دوٹوک موقف
adaria

ہم ایڈنہیں ٹریڈلینے آئے ہیں ۔۔۔وزیراعظم کادورہ امریکہ کے دوران دوٹوک موقف

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی دورے کے دوران واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ سے امداد لینے نہیں بلکہ تعاون لینے گئے ہیں انہیں ایڈنہیں ٹریڈ کی ضرورت ہے، ساتھ یہ بھی انہوں نے کہاکہ مددمانگنے والوں سے مجھے نفرت ہے ،نیزڈونلڈٹرمپ کی مسئلہ کشمیرپرثالثی پیشکش پربھارتی رویے پرحیرانگی کا اظہارکیا، ادھر بھارت کی لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی مچ گئی،پورے بھارت میں آگ لگ گئی،بھارتی کانگریس کے اراکین نے نریندرمودی سے وضاحت مانگ لی کہ وہ واضح کریں کہ انہوں نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر اورپاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کیاہے ۔ لوک سبھا میں اتنی ہنگامہ آرائی ہوئی کہ آخرکارانہیں اجلاس ملتوی کرناپڑا، بھارتی میڈیا نے بھی مودی کوآڑے ہاتھوں لیا، عمران خان کادورہ دیکھاجائے تو ہراعتبار سے کامیاب رہا، عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی اور ترجیحی بنیادوں پرکوریج دی گئی،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اورسیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کیاگیا ،وہاں پرانہوں نے کیپیٹل ہل میں امریکی کانگریس کے اراکین سے بھی خطاب کیا،خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ امریکہ میں پاکستان کے حوالے سے غلط فہمی موجودتھی جسے دورکرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ہزاروں قربانیاں دیں ، امریکہ ہمیشہ پاکستان سے ڈومورکامطالبہ کرتاہے ،پاکستان اورامریکہ دونوں خطے میں امن چاہتے ہیں ،قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ ;200;ف پیس کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکاسے امدادنہیں تعاون مانگاہے،مسئلہ کشمیرکاحل موجودہے،کشمیریوں کی امنگوں کومدنظررکھاجائے، اگر آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں پڑتے ہیں ، ٹرمپ سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی، بھارتی ہم منصب سے کہا کہ اگرآپ ایک قدم آگے بڑھیں گے تو ہم دو قدم اٹھائیں گے، پاکستان اوربھارت کوغربت جیسے چیلنجز کاسامناہے،بھارت کےساتھ کشمیرکاتنازع ہے ،شروع سے کہتا آیا ہوں کہ افغان مسئلے کا حل جنگ میں نہیں ہے اور اب سب جانتے مسئلہ سیاسی مذاکرات سے حل ہوگا،افغان جنگ میں پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں ، افغان طالبان امریکہ کےساتھ مذاکرات کررہے ہیں ،بہت جلد امن معاہدہ کا امکان ہے،بھارت ،افغانستان اورایران سمیت تمام ہمسایوں کےساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں ، نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا،80کی دہائی کے بعد حکمرانوں کی کرپشن ملک کو نیچے لے گئی، ہم اقتدار میں ;200;ئے تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، پاکستان کے حکمران اقتدار میں ;200;نے کے بعد خود کو فائدہ دینے کا ہی سوچتے تھے، کرپشن کے ذریعے حکمران خود کو فائدہ پہنچانے کے چکر میں رہتے ہیں ، اپوزیشن ملک کوغیرمستحکم کرنے میں مصروف ہے، پاکستان میں میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزادہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست فرمایا ہے کہ امریکہ سے امداد نہیں تعاون مانگا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم نے دنیا میں سب سے زیادہ قربانی دی ہے ۔ اب دنیا ڈور مور کرے،پاکستان شروع سے ہی خطے میں امن کا خواہاں ہے اسی لیے افغان حکومت اور امریکا کی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کرر ہا ہے ۔ اس دورے سے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد کی فضا درست ہو ئی ہے ۔ اب چاہیے کہ امریکہ نے جو کولیشن فنڈ، جو پاکستان کا حق بنتا ہے، جسے امریکہ نے روک رکھا ہے وہ پھر سے جاری کیاجائے ۔ افغانستان جنگ میں پاکستان کا ڈیڑھ ار ب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے ۔ ہزاروں فوجی اور سویلین شہادتیں ہوئی ہیں ۔ امریکہ بھارت کی ایما پر افغانستان سے جاری دہشت گردی ختم کرائے ۔ مسئلہ کشمیر بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کو ملا کر حل کروائے ۔ اگر امریکہ ایسا کرتا ہے تو خطے میں امن قائم ہو جائے گا ۔ عمران خان وزیر اعظم پاکستان کا دورہ امریکا بھی صحیح معنوں میں کامیاب مانا جائے گا ۔ دوسری جانب عمران خان کے دورہ امریکہ کے موقع پر صدرڈونلڈ ٹرمپ کا پاک بھارت مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بیان پر بھارت میں کہرام مچ گیا ۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ٹرمپ بیان پر لاکھ صفائیاں اپوزیشن کو مطمئن نہ کر سکیں ۔ اس بیان پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ عمران خان نے جب صدر ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں مدد مانگی تو انہوں نے کشمیر مسئلہ پر مصالحت کرنے کی حامی بھری تھی ،مگر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خواہش پر اس معاملہ میں مدد کروں گا ۔ اب صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کی خواہش سب کے سامنے رکھ دی ،بھارت اس پر آگ بگولہ ہو گیا ہے ۔ اب مودی اپنا منہ چھپائے پھر رہے ہیں ۔ یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ ہی ایسے منفی رویے کا مظاہرہ کیا ہے اور بھارت کو ایک جنگی جنون میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ بدقسمتی سے بھارتی میڈیا کے اس رویے نے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی مثبت بات چیت کو آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ گزشتہ ادوار میں امریکہ نے ہمیشہ کشمیر معاملے پر دوغلی پالیسی اپنائی ،بیانات کی حد تک پاکستان کی حمایت کرتا نظر آتا ہے ،مگرحقیقت میں تمام تر ہمدردیاں بھارت کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ جب تک تینوں فریق یعنی پاکستان ،بھارت اور کشمیری لیڈر شپ مذاکرات کی میز پر نیک نیتی سے نہیں بیٹھیں گے اس مسئلہ کا حل نا ممکن ہے ۔ آج بھی نہتے کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ۔ حقوق انسانیت کی ٹھیکیدار دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر انتہائی جرات مندانہ طریقے سے پیش کیا ۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے یہ ثالثی کی پیشکش کوئی نئی نہیں ہے ماضی میں امریکہ سمیت کئی ممالک یہ پیشکش کر چکے ہیں جنہیں بھارت ہمیشہ سے مسترد کرتے آیا ہے لیکن امریکی صدر کا یہ انکشاف کہ مودی نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا ہے کافی مثبت پیشرفت ہے ۔

مبینہ ویڈیوکیس،چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جج مبینہ ویڈیو کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس میں ریمارکس دیئے کہ کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا، شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن صرف رائے دے سکتا ہے فیصلہ نہیں ، کیا سپریم کورٹ کی مداخلت کا فائدہ ہو گا یا صرف خبریں بنیں گی، کیا جج کا سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جانا درست ہے، کیا مجرم کے رشتے داروں اور دوستوں سے گھر اور حرم شریف میں ملنا درست ہے، فکر نہ کریں جج کے کنڈکٹ پر خود فیصلہ کریں گے، کسی کے کہنے پر ایکشن نہیں لیں گے، کچھ کرنا ہوا تو دیکھ اور سوچ سمجھ کر کریں گے،جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ عدالت دونوں فریقین کے الزامات کی حقیقت جاننا چاہتی ہے،جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس میں وفاق نے دائر درخواستوں کی مخالفت کر دی ۔ اٹارنی جنرل نے کہا قانونی فورم دستیاب ہے تو کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative