soch bichar 3

ہم بھارتی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں

اوڑی سیکٹر میں ہونے والے حملہ کے بعد کنٹرول لائن پر فضا کشیدہ ہے۔ ایک طرف بھارتی فوجوں کے حملے کیلئے تیار ہونے کی خبریں آ رہی ہیں تو دوسری جانب پاکستانی فوج بھی سرحدوں پر چوکنا ہے۔ اس ساری صورتحال میں لائن آف کنٹرول پر بسنے والے لوگ غیریقینی کا شکار ہیں۔ چکوٹھی اور اس کے نواحی علاقے اوڑی سے کافی قریب ہیں۔ چکوٹھی کا بازار، ہسپتال، کالجز اور سکولز ایسے مقام پر ہیں جو بھارتی فائرنگ کی براہ راست زد میں ہیں۔ بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ دہشتگردی پاکستان کی سرزمین سے پھیل رہی ہے، پاکستان صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
بھارت نے پاگل پن کا مظاہرہ کر کے پاکستان کو پانی بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ترجمان بھارتی وزارت خارجہ وکاس سوارپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے اپنی سرزمین سے دہشتگردی ختم نہ کی تو سندھ طاس معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ ادھر بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی انتہا پسند جماعت مہاراشٹرا نونرمن سنہا (ایم این ایس) نے پاکستان کے فنکاروں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی اداکاروں اور آرٹسٹوں کو بھارت چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایم این ایس خود انہیں باہر نکال دے گی۔ اس وقت مختلف پاکستانی فنکار بھارت میں مختلف پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں جن میں فواد خان، علی ظفر، ماورا حسین، عمران عباس، مائرہ خان، گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم شامل ہیں۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ بھارت کے شدت پسند طرز عمل پر بعض بھارتی دانشور بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیادت سے رابطوں پر سخت پابندی ہے۔ کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے اور ٹیلی فون کی سہولت بھی نہیں ہے۔بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کرکٹ سیریز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان کے ساتھ کرکٹ نہیں ہو گی۔
وزیراعظم نوازشریف اور انکی ٹیم کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر‘ کشمیریوں کی خواہشات اور قوم کی امنگوں کے مطابق اٹھایا گیا۔ مسئلہ کشمیر اٹھانے کی کامیابی کا اندازہ بھارت کے واویلے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ جھوٹ اسکی فطرت ہے‘ کبھی جھوٹ پر ڈٹا رہتا ہے اور کبھی ثبوت سامنے آنے پر مکر جاتا ہے۔ اوڑی واقعہ میں بھارتی ڈی جی‘ ایم او جنرل رنبیر نے کہا تھا کہ حملہ آوروں سے برآمد ہونیوالے اسلحہ پر پاکستانی مارکنگ تھی‘ اب انکی طرف سے اپنے بیان کی تردید کردی گئی اور ملبہ میڈیا پر ڈال کر سنسر شپ عائد کردی ہے۔ اب بھارتی میڈیا کو ہر دفاعی حوالے سے خبر حکومت سے کلیئر کرانا ہوگی۔ بھارتی میڈیا پاکستان دشمنی میں اپنی حدود اور اخلاقی قیود عبور کرتا رہا ہے۔ اپنی حکومت کی طرح بلاتحقیق الزام تراشی اس کا وطیرہ ہے۔ جھوٹ اور لغویات میں بھارتی حکومت اور میڈیا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں دکھائی دیئے ہیں۔
اوڑی حملے کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کے الزامات بھی پاکستان پر لگائے گئے‘ انکے بھی بھارت پاکستان کو ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکا۔ دونوں حملوں کی تحقیقات کیلئے پاکستانی ٹیمیں بھارت گئیں جن سے بھارتی حکام نے تعاون نہیں کیا۔ اجمل قصاب تک رسائی نہ دی گئی جسے عجلت میں پھانسی دیدی گئی۔ سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں انڈین فوجی مجرم نکلے۔ پاکستان نے ہر حملے کے بعد عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے پر زور دیا اس پر بھارت کبھی تیار نہ ہوا۔ پاکستان نے اوڑی حملے کی تحقیقات بھی عالمی عدالت سے کرانے کی پیشکش کی ہے اگر بھارت کے موقف میں ذرّہ بھر بھی صداقت ہو تو وہ پاکستان کی پیشکش قبول کرے۔ مگر وہ حقائق‘ اپنی سازش اور ڈرامہ بازی سامنے آنے کے خطرے کے باعث ایسا کرنے پر آمادہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کے بعدبھارت زیادہ مکاری سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ مظفروانی کو شہید قرار دینے پر وزیراعظم کیخلاف پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردوں کا سپورٹر قرار دینے کا شور اٹھا دیا ہے۔ بھارتی انتہاء پسند تنظیم کرانتی دل کی جانب سے نواز شریف کا سر لانے والے کو ایک کروڑ دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بھارت سفارتی آداب اور تہذیب سے عاری ہو چکے ہیں اور ان کے رہنماؤں اور میڈیا سے متعلق افراد کی جانب سے گھٹیا بیان بازی بھی عروج پر ہے۔ بھارتی میڈیا انتہاء پسند تنظیموں کی دہشت گردی پر اکسانے والی بیان بازی کو مسلسل نشر کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا تو مودی سرکار اور بھارتی انتہا پسندوں کو آگ لگ گئی۔ سفارتی میدان میں پٹنے کے بعد بھارت میں جنگی جنون عروج پر پہنچ گیا۔
لائن آف کنٹرول پر اسلحہ اور فوج کی حقیقت گیدڑ بھبکیوں سے زیادہ نہیں۔ وہ دنیا پر اوڑی حملے کی آڑ میں اپنا جعلی اشتعال باور کرانا چاہتا ہے۔ دشمن کو بہرحال آسان نہیں لینا چاہیے۔ آج 65ء والی صورتحال نہیں‘ جب بھارت نے اچانک حملہ کردیا تھا‘ اس کو بھی پاک فوج اور قوم نے مل کر ناکام بنایا اور اسے شکست فاش سے دوچار کیا۔ اس کا بدلہ اس نے سازشوں اور جارحیت کے ذریعے بنگلہ دیش کو الگ کرکے لے لیا۔ آج حالات وہ نہیں۔ اسکی سازشیں ضرب عضب اور کراچی میں اپریشن سے ناکام بنائی جارہی ہیں۔ ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل ہیں۔ بری اورفضائی افواج پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں۔
اس اہم موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پوری قوم کی حمایت سے ملک کے چپے چپے کا دفاع کرینگے خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ پاکستان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے لیکن پوری قوم کے حوصلے اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں