Site icon Daily Pakistan

ہم نے وارث شاہ کو فراموش کر دیا

riaz-chuadary
پنجاب کے مشہور و معروف صوفی شاعر،مشہور زمانہ تصنیف ”ہیر“ کے خالق سید وارث شاہ، تاریخی قصبہ جنڈیالہ شیر خان شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ وہ درحقیقت درویش صوفی شاعر ہیں۔ ان کا دور محمد شاہ رنگیلا سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک محیط ہے۔ سید وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے پنجابی زبان کوہی عروج بخشا ہے۔ پنجابی زبان کی تدوین و ترویج میں سید وارث شاہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ان کا کلام پاک و ہند اور دنیا بھر میں پنجاب زبان جاننے والوں میں بہت مقبول ہے۔ابھی پچھلے دنوں ان کی 300 ویں سالگرہ تھی مگر حکومتی و نجی سطح پر کسی نے اس عظیم شاعر کو یاد تک نہ کیا۔ ہمارے محترم دوست اور مہربان بیر دیویندر سنگھ، سابق ڈپٹی سپیکر ، مشرقی پنجاب قانون ساز اسمبلی بھی سید وارث شاہ کے بڑے مداح ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ موجودہ حکمرانوں، (مشرقی) پنجاب کا محکمہ زبان و ادب اور پنجاب کی یونیورسٹیاں، ادیبوں، فنکاروں، مصنفوں اور پنجاب آرٹس کونسل کے عہدیداروں نے مل کر پنجاب کے عظیم ہیرو صوفی قصہ کار کو فراموش کر دیا ہے ۔ پنجاب کی قدیم اور لافانی لوک کہانیوں کے عظیم ہیرو سید وارث شاہ آج سے 300 سال قبل 23 جنوری 1722 کو گاو¿ں جنڈیالہ شیرخان (شیخوپورہ)، جو اب پاکستان میں ہے، میں پیدا ہوئے تھے۔ سید وارث نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ ان کے والدین کا انتقال ہوگیا۔ سید وارث کے والد کا نام سید گلشیر شاہ اور والدہ کا نام کمال بانو تھا۔ سید وارث شاہ اپنے والدین کی وفات کے بعد اداسی کی حالت میں اپنا گاو¿ں اور گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ پھر وہ ایک باکمال روحانی رہبر کی تلاش میں در در بھٹکتے رہے۔ آخر کار انہوں نے قصور کے حافظ غلام مرتضیٰ اپنا استاد بنا لیا اور ان سے ہر قسم کی تعلیم حاصل کی ۔ آپ نے بابا ب±لھے شاہ کے ہمراہ ا±ن سے تعلیم حاصل کی۔ دنیاوی علم حاصل کر چکے تو مولوی صاحب نے اجازت دی کہ جاو¿ اب باطنی علم حاصل کرو اور جہاں چاہو بیعت کرو۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بابا بلھے شاہ نے تو شاہ عنایت قادری کی بیعت کی جبکہ سید سید وارث شاہ نے خواجہ فریدالدین گنج شکر کے خاندان میں بیعت کی۔سردار بیردیویندر سنگھ کہتے ہیں کہ سید سید وارث شاہ نے چشتی طریقہ کے مطابق ہی ہیر رانجھا کے عشق اور مبنی، شاہکاری قصہ – شاعری کو ہیر سید وارث کے عنوان سے لکھا، جو اس قدر مشہور ہوا کہ لوگوں کی زبان پر ایک محاورہ بن کر ابھرا، جس میں آج بھی تقریباً 250 سال گزر جانے کے بعد بھی نیا پن جوں کا توں ہے۔ لیکن یہ ایک بڑا سوال ہے کہ پنجاب کے اس عظیم ہیرو، صوفی قصہ کار کی 300ویں یادگاری سالگرہ پر حکومت، ادباءاور اہل قلم کی توجہ کیوں نہ مبذول کرائی جا سکی؟ پنجاب کے ادیبوں میں سب سے پرانی پنجابی ساہتیہ اکیڈمی جو لدھیانہ میں ہے، نے بھی سید وارث شاہ کو ان کے یوم پیدائش پر یاد کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔بیر دیویندر سنگھ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ آرٹس کونسل آف مشرقی پنجاب جس کے جناب سرجیت پاترا جی سر پرست ہیں اور وہ خود بھی ایک عظیم شاعر ہونے کی حیثیت سے سید وارث کے وارث ہیں۔ انہوں نے بھی نہ تو حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی اور نہ ہی پنجاب آرٹس کونسل کی جانب سے اس صوفی قصہ کار کی 300ویں یادگاری سالگرہ منانے کےلئے کوئی کوشش کی۔اب جہاں حکومتیں اور سرکاری یونیورسٹیاں، آرٹ کونسلز اور حکومت کا لینگویج ڈیپارٹمنٹ سب گہری نیند میں گم ہیں، توپھرپنجاب کی لسانی ثقافت، لسانی ترقی، پنجاب کے سافٹ آرٹس، لوک کہانیاں اور لوک فن پاروں کو کون یاد رکھے گا۔ ؟ آخر پنجاب کی فنی ثقافت سے جڑے تحفظات سے سرکار کو کون واقف کرائے گا۔ سردار بیر دیویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستانی پنجاب کے لوگوں نے بھی سید وارث شاہ کی 300 ویں یادگار سالگرہ کو فراموش کر دیا۔ ہیر، سید وارث شاہ کی کہانی پنجابیوں کا مشترکہ ورثہ ہے، یہ پنجاب کی قدیم لوک کہانیوں کے ‘سترنگی کہکشاں’ کے درمیان ایک جلوہ افروز شاہکار ہے ، جس کا سراغ ملکوں کی سرحدی لکیروں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ اچھا ہو گا کہ دونوں پنجاب اب بھی اس سنگین غلطی کو درست لیں اور سید وارث شاہ کو یاد کرنے کےلئے سال 2022 میں کوئی اچھا یادگاری پروگرام منعقد کریں، جس سے پنجاب کی مشہور عوامی کہانی ‘ہیر وارث شاہ’ کو مناسب طریقے سے فروغ ملے۔ سردار بیر دیویندر سنگھ صاحب علم اور شعلہ بیان مقرر ہیں۔ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ مشرقی پنجاب میں نہ صرف پنجاب زبان کے ادیبوں ، شاعروں اور لکھاریوں کی بلکہ اردو زبان کے ادیبوں کی بھی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ خود بھی اردو زبان سے پیار کرتے ہیں۔ پنجابی زبان کے فروغ کےلئے ان کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ سید وارث شاہ کی ”ہیر“کے علاوہ دوسری تصانیف میں معراج نامہ، نصیحت نامہ، چوہریڑی نامہ اور دوہڑے شامل ہیں۔ افضل حق نے اپنی کتاب معشوقہ پنجاب میں لکھا ہے کہ آپ نے 10 محرم 1220ھ میں وفات پائی۔حجرہ وارث شاہ دا‘ ملکہ ہانس میں مشہور جگہ ہے جہاں 1767ءمیں انہوں نے’ ہیر رانجھا ‘ مکمل کی ۔تین سبز میناروں والی قدیم مسجد آج بھی اپنے حجرے کے ساتھ قائم ہے۔اس مسجد کا انتظام ’ انجمن وارث شاہ‘ نامی تنظیم کے سپرد ہے۔ ملکہ ہانس میں حجرہ سید وارث شاہ میں ہر سال ’جشن وارث شاہ‘ کے نام سے ایک میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں ہیر وارث شاہ پڑھنے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ سید وارث شاہ نے 76برس کی عمر میں 24 جون 1798ءکو وفات پائی ان کا مزار جنڈیالہ شیر خان میں مرجع خلائق ہے۔ جہاں سالانہ عرس کے سلسلے میں 23 تا 25 ستمبر، 3روزہ تقر یبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ]]>
Exit mobile version