Home » کالم » ہندوستانی پالیسیاں اور پاکستان
azmat-shir

ہندوستانی پالیسیاں اور پاکستان

گزشتہ سے پیوستہ

ہندی بولنے والے لوگوں کا نفسیاتی مسئلہ کچھ زیادہ ہی سوا ہے ان کے اندر ایک احساس برتری یااپنی عظمت یا ایک عظیم نسل ہونے کا خناس سما گیا ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا ہے عام آدمی کے ذہن میں اپنے احساس عظمت کو راسخ کرنے کے لئے نئے نئے ڈرامے لکھے جا رہے ہیں جس میں دکھایا جاتا کہ ہندو سائنس اور ٹیکنولوجی میں ایجادات میں سب سے آگے تھے مثلا مہابھارت میں کوروں اور پانڈؤوں کی لڑائی میں ایسے projectile استعمال کئے گئے تھے جو موجودہ میزائلوں سے مشابہ تھے وغیرہ وغیرہ اور اس طرح کی چیزیں جن کا حقیقیت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کو پروپیگنڈے کے زور پر راسخ کیا جا رہا ہے genetcally ہندو شجاع نہیں ہوتا اور عموما مصلحت سے کام لیتا ہے جس کی ایک کلاسیکی مثال پنڈت چانکیا کی کتاب ارتھ شاستر ہے جس میں جھوٹ اور دھوکہ بنیادی وصف ہے جسے ذہانت کا نام دیا جاتا ہے اور انڈیا کے موجودہ سیاستدانوں کی اکثریت اس کتاب سے استفادہ کرتی ہے بلکہ یہ شدت پسند RSS کے فلسفے کی بنیادی دستاویز ہے اور یہی ہندی بولنے والی اقلیت ہی اکثریت کی گردن پر سوار دہلی کے طاقت کے مراکز پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہے اب چونکہ موجودہ ہندوستان بھانت بھانت کی بولیوں اور الگ الگ کلچر کی چھوٹی چھوٹی اکائیوں پر مشتمل ہے مذہبی طور پر بھی ہندو دو انتہاؤں پر ہیں مثلا شمال میں راون کی مذمت کرتے ہوئے آگ میں جلایا جاتا ہے لیکن جنوبی ہندوستان میں اس کی پوجا کی جاتی ہے یعنی بہت کم مشترکات ہیں اب اتنے بڑے ملک کو جو اصل میں بھان متی کا کنبہ ہے اس کو متحد رکھنے کے لئے ایک عدد دشمن کی ضرورت تھی جو پاکستان سے پوری کی جارہی ہے لیکن کیا موجودہ مسلط ٹولے نے کبھی سوچا ہے کہ اس سوچ اور عمل کی انڈیا کیا قیمت اداکر چکا ہے اور ادا کر رہا ہے آپ اگر بر صغیرکا نقشہ اٹھا کر دیکھیں جنوب مشرق سے شمال مغرب کی طرف انڈیا ایک مٹکے کی شکل میں دکھے گا جس گردن پر پاکستان سوار ہے شمال میں چین اور مشرق کی سمت میں نیپال بھوٹان شکم اور میانمار ہے جہاں کی انڈیا کیا لیجا کر بیچے گا سارا خریدار تو مغرب میں ہے جس میں مشرق وسطی پورا افریقہ اور یورپ ہے اس کے علاوہ توانائی کے بہت بڑے اور untapped ذخائر ازبکستان تاجکستان اور ترکمانستان میں ہیں جس کا واحد راستہ صرف پاکستان کے پاس ہے جہاں انڈیا انجنیرنگ پراڈکٹس بیچ سکتا ہے اور وہاں کے توانائی کے ذخائر سے استفادہ کر سکتا ہے یاد رہے کہ یہ علاقے Locked land ہیں شمال میں سمندر تو ہے جو ایک تو دور ہے اور سال کے 10 ماہ برف کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہتا اب انڈیا کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ کیاوہ اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرے گا کیا اسے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور روزافزوں غربت احساس ہے جس میں پاکستان دشمنی کی وجہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کشمیر میں 7 لاکھ فوج اور کشمیریوں پربد ترین تشدد کے باوجود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں اور پاکستانی پرچم لہرائے جا رہے ہیں یہ سب کب تک چل سکے گا اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو ختم کر سکے گا تو جواب ہے کہ ایسا ممکن نہیں اس کی پہلی وجہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ملک اللہ کی خصوصی عطاء4 ہے اور جس اللہ کے نام سے بنا ہے وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا دوسرے پاکستانی عوام کا شماردنیا کی ذہین ترین قوموں میں ہوتا ہے جو اپنے وطن کی حفاظت کے لئے سب کچھ کر گزرنے کی اہلیت اور جذبہ رکھتے ہین پاکستان کی مسلح افواج اپنے آپ کو دنیا کی بہترین فوج ثابت کر چکے ہیں پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام انڈیا سے کئی دہائیاں ایڈوانس ہے انڈیا کا اپنا فائٹر جہاز تیجس کئی دہائیوں سے آزمائشی مراحل میں ہے اور اب بھی آزاد فضاؤں میں اڑسکنے کا متمنی جبکہ پاکستان کا fj 17 تھنڈر مارکیٹ میں اپنے ہم پلہ جہازوں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور بہترین جہازوں میں بہتر جو پاکستان کی اپنی پروڈکٹ ہے آئندہ بلاک 2 مزید ترقی یافتہ ہوگا انڈیا کو چاہئے کہ اپنے نفسیاتی مخمصے سے باہر نکلے قوموں کا مزاج بنتے بنتے بنتا ہے فلمیں یا ڈرامے بنانے سے نہیں دنیا آپ کی جادوگریاں دہائیاں پہلے سمجھ چکی ہے امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم کے بیانات ریکارڈ کاحصہ ہیں جو آپ کشمیر کے حل سے فرار چاہنے کے لئے نت نئے ڈرامے ترتیب دیتے ہیں کبھی پارلیمنٹ پر خود حملہ کرواتے ہیں کبھی ممبئی حملہ کبھی مالیگاؤں یہ سب آپ کے ذہن سرا کے کارنامے ہیں مغرب کشمیر اور دیگر معاملات پر آپ سے بہت بڑی قیمت وصول کر چکا ہے یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے آپ جو پاکستان کے ساتھ کرنا چاہ رہے ہیں کبھی نہیں کر پائیں گے لہٰذا آئیے ایک بار پھر آپ کی طرف اچھی ہمسایگی اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو بعد ازاں دست تعاون بن سکتا ہے تاریخ کے غلط رخ ہر مت جائیے نوشتہ دیوار ہے کہ جو کام آپ کو 15 ،20 سال بعد حالات کے جبر سے کرنا پڑے گا آج کر گزریے اسی میں خطے کے تمام عوام کا بھلا ہے تاریخ میں اپنے لئے اچھی یادیں اور اچھا نام چھوڑ جائیے یہی تاریخ کا سبق ہے اللہ سے آپ کی صحیح سمت میں رہنمائی اور حقیقی دانش اور فراست کے لئے دعاگو ہیں اور رب جلیل سے تمام انسانوں کیلئے رحمت اور عفو کے طالب۔

About Admin

Google Analytics Alternative