ہندوستانی ہلاکو مودی اور دلی کے مظلوم مسلمان

45

ہندوستان کے25کروڑ مسلمان خصوصاً دلی کے مسلمانوں پہ ان دنوں کیا بیت رہی ہے،اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ انہیں صرف اس جرم کی سزا مل رہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور ہندوستان کے ہلاکو خان کے دور اقتدار میں غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ۔ ہلاکو خان کو 1252 ء میں حکمران بنا کر ایران کا اقتدار دیا گیا تو اس نے چند سالوں میں پہلے ایرانی مسلمان کمیونٹی کو تہہ تیغ کیا اور پھر عراق کا رخ کرتے ہوئے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ کچھ یہی حال ہندوستان کے ہلاکو مودی کا ہے جسے پہلی بار گجرات کی وزارت اعلیٰ ملی تو اس نے گجرات کے دوہزار سے زائد مسلمان مروا دیئے اور دوسری بار وزارت عظمیٰ ملنے کے بعد اس نے کشمیر پر یلغار کرتے ہوئے 80لاکھ سے زائد مسلمانوں کو یرغمال بنا ڈالا ہے جبکہ بھارتی مسلمانوں کے خلاف خصوصی کالے قوانین کے ذریعے حملہ ;200;ور ہے ۔ شہریت کے متنازعہ ترمیمی قوانین کی وجہ سے بھارت ہندو مسلم فسادات کی زد میں ہے، خصوصاً دلی کے گلی کوچے اِن دنوں 1252 ء کے بغداد کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ گجرات فسادات کے بعد یہ بد ترین مذہبی فسادات ہیں جس میں پچاس سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں ، مرنے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جنہیں زبردستی’’جے شری رام‘‘ کے نعروں پر مجبور کیا جاتا رہا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہَ بھارت کے موقع پر مسلم کش فسادات شہریت کے متنازعہ ترمیمی قانون کی مخالفت اور حمایت میں کیے گئے مظاہروں کی وجہ سے پھوٹے ۔ سرکاری طور پر ان فسادات کو روکنے کی کہیں کوئی کوشش نظر نہ ;200;ئی ۔ پولیس کی کھلم کھلا چشم پوشی سے ان گنت مکانات، مساجد اور دیگر نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ۔ مسلح انتہا پسند حملہ ;200;ور جتھوں نے نہتے بے گناہ لوگوں کو ڈنڈوں سوٹوں کے علاوہ تلواروں سے بھی زد و کوب کیا اور لوگوں کو زندہ جلایا ۔ اس بربریت کے دوران بھارتی وزارت داخلہ اور دیگر بی جے پی کے لیڈروں کا کردار اشتعال انگیز رہا ۔ پارٹی کے کئی لیڈروں کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کرتے رہے ۔ ’’ملک کے غداروں کو گولی مارو‘‘ جیسے زہریلے اشتعال انگیز نعروں نے کئی جانیں لے لیں ۔ مسلم کشی بی جے پی کا پولیٹکل ایجنڈا ہے،جس پر وہ عمل پیرا ہونے کی مکمل کوشش کر رہی ہے ۔ مودی حکومت کی مجوزہ پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی پالیسی سازوں کا جو ردعمل دیکھنے میں ;200;نا چاہئے تھا اگرچہ ویسا ردعمل نہیں ;200; رہا تاہم عالمی میڈیا اور عوامی حلقوں میں آوازیں اٹھنا بھی غنیمت ہیں کہ شاید کسی وقت مغربی و یورپی اداروں کے بند کواڑوں کے اُس پار کوئی صدا کسی کو سنائی دینے لگے ۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے نزدیک نئی دہلی میں ہونے والے فسادات گجرات قتل عام کے بعد بد ترین فسادات ہیں ، اخبار کا ماننا ہے کہ فسادات کی بنیادی وجہ مودی سرکار کا شہریت سے متعلق قانون ہے ۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دہلی فسادات کا ذمہ دار کپل مشرا کو ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے گلی کوچے کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ ایک اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ دہلی پولیس فسادیوں کو روکنا نہیں چاہتی یا روک نہیں سکتی ۔ ادھر عوامی سطح پر برطانیہ ایران، کابل اور بنگلہ دیش میں احتجاج دیکھنے ;200;یا ہے ۔ گزشتہ ہفتے جمعہ کے روز بنگلہ دیش میں جبکہ ہفتہ کے روز برطانیہ کے ایک اہم شہر برمنگھم میں بڑے مظاہرے ہوئے ۔ چار مارچ کو ایران اور کابل میں دہلی کے مسلمانوں کےساتھ یکجہتی کےلئے مظاہرہ ہوا ۔ کابل اور تہران دونوں مودی کے حلقہ قرابت میں ہیں ۔ تہران سے مزید سخت آوازیں آ رہی ہیں ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے ویزہ سیکشن کے سامنے مظاہرہ ہونا تھا لیکن پولیس اور این ڈی ایس کے اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا گیا ۔ برطانیہ میں مظاہرین نے ہندوستانی قونصل خانے کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرہ میں نئی دہلی کے متاثرہ خاندانوں کے علاوہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کے امتیازی قوانین کی منظوری اور ;200;ر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی بھرپور مذمت کی ۔ مظاہرین نے ہندوستانی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں ;200;ر ایس ایس کے فاشسٹ نظریات نریندر مودی کی ظالمانہ روش کے خلاف برطانوی حکومت اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان میں جاری وحشیانہ مظالم کے ظالمانہ سلسلے کو بند کرانے کیلئے مداخلت کریں اور بھارت میں اقلیتوں کیساتھ ہونیوالی نسلی نا انصافی کے سدباب کیلئے ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں ۔ دوسری جانب بنگلہ دیش جو بھارت کا حلیف اور ہمنوا ہے اسکے دارالخلافہ ڈھاکہ کی بیت المکرم مسجد کے باہرمختلف اسلامی تنظیموں کے حامیوں نے زبردست مظاہرہ کیا ۔ بیت المکرم مسجد بنگلہ دیش کی ایک بڑی اور قومی مسجد ہے ۔ یہاں سے اٹھنے والی ;200;واز پورے بنگلہ دیش میں گونجتی ہے ۔ دلی میں خونریزی ہو یا شاہیں باغ کا تین ماہ سے جاری خواتین کا دھرنا ، یہ سب کیا دھرا مودی کی بی جے پی کا اپنا ہے اور اس کی فاشسٹ پالیسیوں کا ہے جسے بین الاقوامی میڈیا بھی بے نقاب کر رہا ہے لیکن عادتِ بد کے ہاتھوں مجبور مودی انتظامیہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر دنیا کی ;200;نکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہے ۔ تجزیہ نگار اس حوالے سے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت پاکستان میں اقلیتوں کو نشانہ بنوا کر دنیا کی توجہ اس جانب کروانے کی سازش رچا سکتا ہے ۔ اس خدشے کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ اس سے قبل کئی مواقع پر ایسا ہو چکا ہے ۔