Home » کالم » ہندی کوبھارتی سرکاری زبان بنانے کا حکم

ہندی کوبھارتی سرکاری زبان بنانے کا حکم

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے حکومت سنبھالتے ہی تمام تر سرکاری خط و کتابت ہندی میں کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ بہت سے بھارتی بیورکریٹس بات چیت تو ہندی زبان میں کرتے ہیں لیکن باقاعدہ سرکاری زبان کے لیے،جن رسمی جملوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ انہیں نہیں آتے۔ مودی کے ابتدائی فیصلے بھارت کے طاقتور سرکاری افسران کی صفحوں میں اب تک بے چینی کی لہر پیدا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی طرح بھارتی بیوروکریسی میں بھی گریجویشن کی ڈگری ایک عام سی بات ہے۔ بہت سے اعلی افسران آکسفورڈ، کیمبرج یا ہاورڈ میں پڑھے ہوئے ہیں اور ان کی پرورش بھی انگلش ماحول اور انگلش میڈیم اسکولوں میں ہوئی۔ بھارت میں زیادہ تر سرکاری دستاویزات کی خط و کتابت کے لیے بھی انگریزی زبان ہی استعمال کی جاتی تھی ۔ بھارت کے اعلی افسران کی شامیں اب ہندی سیکھنے میں گزر رہی ہیں ۔نئی دہلی میں ایک اعلی سرکاری افسرنے بتایاکہ آپ یقین نہیں کر سکتے کہ مجھے ہندی لغت میں الفاظ تلاش کرتے ہوئے کس قدر زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ اس افسر کا حکومتی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب مجھے ایک عام سا خط لکھنے میں گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ مودی کے اقتدار میں آتے ہی یہ رپورٹ بھی منظر عام پر آئی تھی کہ حکومت نے دہلی گولف کلب کے تمام ممبران کی فہرست طلب کر لی ہے۔ یہ رپورٹ بہت سے لوگوں کو ڈرانے کے لیے طلب کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کا یہ مطلب تھا کہ اگر آپ باقاعدگی سے گولف کھیلنے آتے ہیں تو کام آپ کی ترجیح نہیں ہے۔ نئی دہلی میں سیاسی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیورکریٹس کی دنیا بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ روایتی طور پر کانگریس پارٹی میں انگلش بولنے والے زیادہ تھے اور بیورکریٹ بھی انہی کی زبان بولتے تھے، دہلی کا ڈرائنگ روم دوبارہ سیٹ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری افسران نئی حکومت کے بارے میں شک و شبہات کا شکار ہیں۔ حکومت اور افسران میں صرف زبان ہی نہیں بہت سارے دیگر معاملات پر بھی اختلافات ہیں۔ اعلی سرکاری افسران کے ساتھ اپنی پہلی ہی میٹنگ میں نریندر مودی نے اپنے قوانین کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے تمام افسران پر واضح کر دیا تھا کہ سرکاری معاملات میں تاخیر ناقابل برداشت ہوگی، سرخ فیتے کا خاتمہ کیا جائے، زیادہ سے زیادہ احتساب ہوگا اور کارکردگی کو دیکھا جائے گا۔جو کہ اب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ نریندر مودی نے سرکاری افسران سے حکومت کی بجائے نظام پر توجہ دینے کا کہا ہے۔

نریندر مودی کی طرف سے ہندی کو سرکاری خط و کتابت کے لیے استعمال کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارتی خود پر فخر محسوس کر سکیں۔ اقتدار میں آتے ہی مودی حکومت نے وزارت داخلہ کو سوشل میڈیا پر ہندی زبان استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔ مودی نے سرکاری افسران کو نوٹس تک ہندی زبان میں لکھنے کا کہا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ بھی غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ہندی میں بات کریں گے۔
بی جے پی اراکین پارلیمان ایک مختلف زبان بولتے ہیں اور سماجی نقطہ نظر سے قدامت پسند بھی ہیں۔ یقینی طور پر بیورو کریٹس میں پریشانی کی لہر موجود ہے لیکن ہندی زبان مودی کے لیے سیاست بھی ہے۔ مودی ایک ہندو انتہا پسند تنظیم راشڑیہ سوایمسیوک سانگھ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں اور اس قوم پسند جماعت کے نزدیک بھارت کی سب سے اہم اور طاقتور زبان ہندی ہی ہے۔بھارت کی 1.2 بلین آبادی میں سے تقریبا 45 فیصد افراد ہندی بولتے ہیں۔ اس ملک میں سرکاری زبانوں کی تعداد 22 ہے اور اسی وجہ سے ہندی زبان کے غلبے پر سوال بھی اٹھتا ہے۔
حالیہ چند برسوں سے عالمی اقتصادیات میں بھارت کا کردار بڑھا ہے اور انگلش وہاں کی اشرافیہ کے علاوہ بھی بھارتیوں کی ضرورت بن چکی ہے۔ بھارتی اعلیٰ سرکاری افسران کے مطابق اچانک زبان کے تبدیلی ان پر اضافی بوجھ ہے۔ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم امیتابھ پانڈے نے کہاکہ بیوروکریٹس سوچتے تو انگلش میں ہیں لیکن انہیں خط و کتابت ہندی میں کرنا پڑ رہی ہے۔ اس سے پورا عمل سست ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومتی کارکردگی کو تیز تر کرنا چاہتے تھے لیکن اس کا اثر الٹا ہو ا۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative