ہومیو ادویات سے علاج

147

انسان کے زمین پر ;200;نے کے بعد مختلف اقسام کی بیماریوں نے بھی سر اٹھانا شروع کیا جڑی بوٹیوں سے علاج شروع ہوا تو انسان صحت یاب بھی ہوتا رہا ۔ یہ جڑی بوٹیاں بے مقصد نہیں ، ;200;پ نے ضرور دیکھا ہو گا کہ ;200;ج کل پیلے یعنی زرد رنگ کے پھولوں کی چادریں بچھی ہیں یہ خودرو ہیں اس کی خاصیت یہ ہے کہ اگر گہرا زخم بھی لگ جائے تو اس کا عرق استعمال کرنے سے وہ زخم قلیل ترین مدت میں صحیح ہو جاتا ہے اسے کیلن ڈولا کہتے ہیں ، بازار میں ہومیو پیتھک ادویات بیچنے والوں کے پاس اس سے تیارشدہ مرہم بھی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان جڑی بوٹیوں میں شفا کی تاثیر رکھی ہے ۔ پہلے زمانے میں حکماء ان پر تحقیق کرتے تھے اور ان سے تیار شدہ ادویات کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ ;200;ج بھی حکماء جو ایلوپیتھک طریقہ علاج کے عام ہونے کی وجہ سے سیکنڈ ڈیفنس لائن میں چلے گئے ہیں انہی جڑی بوٹیوں سے بیماریوں کے علاج کرتے ہیں ۔ گاءوں اور چھوٹے شہروں کے رہنے والے جنہیں فوری ہسپتال تک رسائی نہیں انہی حکماء کی خدمات حاصل کر کے شفایاب ہوتے ہیں ۔ میں ;200;پ کو ذاتی تجربے کی بات بتاتا ہوں ۔ میں بھی پڑھے لکھے طبقے کی طرح اس طریقہ علاج پر یقین نہیں رکھتا تھا بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ اور پھر ایلوپیتھک ادویات کے استعمال سے صحت یاب ہو جاتا ۔ تقریباً دس سال پہلے میری دائیں ٹانگ پر خارش شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کچھ اس طرح پھیلی کہ زخم کی صورت اختیار کر گئی ۔ ڈاکٹری علاج جاری رہا کوئی افاقہ نہ ہوا، وقتی طور پر اس پریشانی سے نجات ملتی لیکن کچھ عرصہ بعد پھر شدت پیدا ہو جاتی بہرحال ایک دوست کے کہنے پر بے دلی سے ان کی ہمراہی میں ایک تجربہ کار ہومیو ڈاکٹر کے پاس چلا گیا انہوں نے تفصیل سنی اور میٹھے سے پاءوڈر میں چند قطرے دوائی کے ڈال کر میرے منہ میں وہ پاءوڈر جھاڑ دیا ۔ ایک شیشی میں چھوٹی چھوٹی میٹھی گولیاں ڈالیں اور اس میں چند قطرے دوائی ڈال کر مجھے دے دیں ۔ دن میں چار بار چار چار گولیاں منہ میں ڈال کر چوسنے کو کہا ۔ میں نے دوائی اور طبی مشورے کی فیس کا پوچھا تو انہوں نے پچاس روپے مانگے ۔ چند روز میں مجھے افاقہ محسوس ہوا، دو ماہ مسلسل زیرعلاج رہا اور اب اس زخم کا نشان تک باقی نہیں ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جڑی بوٹیوں سے علاج ابتدائی زمانے سے ہے اور اب تک جاری ہے ۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج کے لئے ڈاکٹر کا بیماری کی علامات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہومیو ڈاکٹر دوائی تجویز کرتا ہے اور بیماری تشخیص کرتا ہے ایلوپیتھی کی ادویات کا اپنا مقام ہے نامور اور تجربہ کار ڈاکٹرز جو غیر ممالک سے ڈگریاں لے کر ;200;تے ہیں ان کی فیس اور پھر ادویات عام ;200;دمی کی پہنچ میں نہیں ایلوپیتھک ادویات کا سائیڈایفکٹ بھی ضرور ہوتا ہے لیکن ہومیو پیتھک ادویات کا کوئی سائیڈ ایفکٹ نہیں ہوتا بلکہ مشتاق احمد یوسفی صاحب مرحوم جو طنز، مزاح کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ہومیو پیتھک ادویات کا کوئی سائیڈ ایفکٹ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ایفکٹ ہی نہیں ہوتا، ڈاکٹرز صاحبان ہومیو پیتھک طریقہ علاج پر یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ ہی ہومیو ادویات کے استعمال کی ترغیب دیتے ہیں وہ اسے سوتیلی ماں سمجھتے ہیں اس طریقہ علاج کو، ہومیو ڈاکٹر بننے کےلئے چار سال کا تعلیمی کورس مکمل کرنا پڑتا ہے ۔ راولپنڈی میں ڈاکٹر نور محمد مرحوم اب ان کے بیٹے ڈاکٹر غفور صاحب اور ڈاکٹر ریاض صاحب کا چرچہ تھا، ڈاکٹر ریاض صاحب خوکنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کئے ہوئے تھے لیکن وہ پریکٹس ہومیو پیتھک ادویات میں کرتے تھے ۔ انہوں نے ایک ہسپتال بھی بنایا تھا جہاں ہومیو ادویات سے مریضوں کو شفا یاب کیا جاتا تھا وہ اب اس دنیا میں نہیں ۔ اسی طرح ڈاکٹر حمید بھی کسی تعاون کے محتاج نہیں ، جرمنی نے اس شعبے میں بہت تحقیق کی اور اب جرمنی کی بنی ادویات مانگ میں ہیں ۔ بڑے بڑے سٹورز میں ہومیو میڈیسن ;200;سانی سے مل جاتی ہیں لیکن چیک نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ان ادویات کی قیمتوں میں اچھا خاصہ اضافہ کر رکھا ہے ورنہ سو سوا سو روپے میں مدد ٹنکچر دستیاب ہو جاتی تھی ۔ اس طریقہ علاج سے متاثر ہو کر میں نے بھی چار سال کا کورس کیا اور ادویات سے شناسائی وائرس کا چرچہ تھا لوگوں میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا اس بیماری سے نجات کے لئے ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں ایک دوائی جس کا نام لیڈم ;76;edum ہے اسے دو سو کی طاقت میں جسے ہومیو پیتھی میں پوٹینسی کہا جاتا ہے دن میں تین سے چار بار استعمال کی جاسکتی ہے ۔ پانی کے ایک گھونٹ میں پانچ قطرے دوائی کے ڈال کر پینے سے اللہ شفاء عطا فرماتا ہے ۔ دوائی لینے سے ;200;دھ گھنٹہ پہلے اور ;200;دھ گھنٹہ بعد تک کوئی بھی کھانے پینے کی اشیاء استعمال میں نہیں لانی چاہیے ۔ ;200;ج کل کرونا وائرس تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے، اس بیماری کے جراثیم انسانی پھیپھڑوں پر اثر کرتے ہیں اور پھر بخار کی علامت کے ظاہر ہونے پر جسمانی نقاہت پیدا ہوتی ہے ۔ مریض دن بدن کمزور ہوتا جاتا ہے اگر کرونا وائرس میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے ظاہر ہو جائے تو مریض کو مندرجہ ذیل ادویات کا استعمال دن میں چار بار کروائیں ۔ اللہ تعالیٰ بیماری سے شفا عطا فرمائیں گے ۔

;84;uberclonium-200

;80;hosphorus-200

متعلقہ خبریں

پاکستان سپر لیگ کی 3 فرنچائزز نے آئی پی ایل سے مدد لی

;83;ulpher-200

;66;ryonium-200

طریقہ استعمال اس طرح ہے کہ ایک گھونٹ پانی میں ہر شیشی سے پانچ پانچ قطرے اس ایک گھونٹ پانی میں ڈال لیں اور وہ پانی پی لیں استعمال سے پہلے اور بعد میں تقریباً ;200;دھ گھنٹہ کچھ اور نہ کھائیں پئیں اللہ سے امید ہے وہ بیماری سے شفا عطا فرمائے گا ۔ ایلوپیتھک ادویات کا استعمال بھی جاری رکھیں لیکن دونوں میڈیسن کے استعمال میں وقفہ رکھیں ۔ تلی ہوئی اور کھٹی چیزوں سے پرہیز بھی ضروری ہے جسم کے کسی بھی حصے پر ایگزیما جسے عام زبان میں داد یا چنبل کہا جاتا ہے اس کےلئے ;83;ulpherون ایم کے چند قطرے استعمال کر کے دن میں چار بار اسی دوائی کی ابتدائی طاقت جو کہ تیس سے شروع ہوتی ہے استعمال کریں کچھ ہی عرصہ میں اس مرض سے جو کہ جلدی بیماری ہے اللہ شفا عطا فرمائے گا ۔ اسی طرح ;200;ج کل ہائی بلڈپریشر ہر تیسرے شخص کو ہے اس کےلئے ;68;iacard اکثیر کا درجہ رکھتی ہے اس کے استعمال سے دل کی تیز دھڑکن اور بلند فشار خون سے نجات مل جاتی ہے، پانی کے ایک گھونٹ میں دس قطرے دوائی کے ملا کر دن میں چار بار لینے سے نمایاں فرق نظر ;200;تا ہے ۔ امراض قلب میں اس دوائی کے استعمال سے فائدہ ہوتا ہے یہ جسم جس کی اندرونی مشینری اور ظاہری اعضاء بہت پیچیدہ ہیں انہیں توانا رکھنے کےلئے اللہ نے انہی جڑی بوٹیوں میں شفا رکھی ہے ۔ ہومیو طریقہ علاج سستا ہے ہر ایک کی دسترس میں ہے اب تو مقامی سطح پر بھی ادویات بنانے کی فیکٹریز کام کر رہی ہیں ہمارے ملک میں ایک اندازے کے مطابق دو سو اقسام کی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں اور ان کا استعمال بیماریوں کے دفع کرنے کےلئے کیا جا رہا ہے اس لئے حکومت کی سرپرستی میں ہومیو پیتھک طریقہ علاج کو عام کرنے میں مدد ملے گی ۔ اس شعبے میں کام ہو رہا ہے لیکن اس کی ترویج اور ترقی کے لئے مزید کام کی ضرورت ہے ۔