Site icon Daily Pakistan

یومِ حق خودارادیت

دنیا کی قوموں میں ایمان کے بعد آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں، آزادی کی قدر غلامی میں گزری زندگی کے بعد ہی زیادہ بہتر انداز میں سمجھ میں آ سکتی ہے، آزادی کی یہ نعمت مضبوط نظریات کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے، نظریاتی، دفاعی اور اخلاقی سرحدات کمزور پڑنے پر آبا اجداد کی قربانیوں کے نتیجے میں ملنے والی آزادی کی قدر و منزلت میں اگر کمی آنے لگے تو پھر اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 21اپریل 1948اور 13 اگست 1948 کی قرادوں کی موجودگی میں 5 جنوری 1949 کی قرارداد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیونکہ 3 جون 1947 کے لارڈ مانٹ بیٹن کے تقسیم ہند کے فارمولے کی روح اور اس وقت کی سوادِ اعظم جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی 19 جولائی 1947 کی قرارداد الحاق پاکستان کے مطالبے سے مطابقت نہ رکھنے کی بنا پر اس میں چند ضروری اور بنیادی ترامیم کی ضرورت پیش آئی، دراصل انہی دو قرادادوں نے جنوری 1949 کی قرادادوں کو بنیاد فراہم کی جن کے مطابق اقوام متحدہ کا کردار بطور نگران، ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا، جنوری کی قراداد میں رائے شماری کے طریقہ کار کے علاوہ مہاجرین کی واپسی، سیاسی آزادی کی ضمانت اور عسکری و نیم عسکری اثرات کے خاتمہ سمیت دیگر انتظامی ڈھانچے کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے تنازعہ کشمیر کی بین الاقوامی حقیقت تسلیم کی گئی ہے، ان وجوہات کی بنیاد پر 5 جنوری کا دن ریاستِ جموں و کشمیر کی تاریخ میں نہایت اہم اور فیصلہ کن تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اس روز اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ہند و پاک نے تنازعہ کشمیر اور خطے میں پیدا ہونیوالی سیاسی و عسکری کشیدگی کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھ کر ایک ایسی اہم قرار داد منظور کی، جس نے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو بین الاقوامی سطح پر باضابطہ تسلیم کیا۔ اس کے تحت ریاست میں سیز فائر کی توثیق، مرحلہ وار فوجی انخلا، امن و امان کی بحالی اور غیر جانب دار سیاسی ماحول کی فراہمی کو بنیادی شرائط قرار دیا گیا، تاکہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزاد، شفاف اور غیر جانبدار رائے شماری کرائی جا سکے۔ اس مجوزہ رائے شماری کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کے عوام اپنی آزاد مرضی سے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس ملک کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمیشن کے دائرہ کار سے متعلق جوزف کاربل لکھتے ہیں۔ "کمیشن سلامتی کونسل کی 21 اپریل کی قرارداد میں دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کا پابند تھا ۔” 5 جنوری کی قرارداد کے دیباچے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نے 23دسمبر اور 25 دسمبر 1948کے مراسلوں میں ان اصولوں کو قبول کرنے کا اظہار کیاجو 13 اگست 1948 کی کمیشن کی قرارداد کے تکمیلی اصول تھے ۔ "ریاست بھر کے عوام کو اپنی مرضی سے حقِ رائے دہی کے ذریعے اپنے مستقبل کے انتخاب کا موقع دیا گیا، ان قراردادوں پر جتنا جلد عملدرآمد ممکن بنایا جا سکا اتنی جلد آزادی کی منزل قریب سے قریب تر ہوتی چلی جائے گی، ریاستی قیادت اور عوام کی یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ کسی صورت بھی نظریہ الحاق پاکستان اور استحکام پاکستان کی راہ میں اندرونی اور بیرونی سازشوں کا بے لوث اور مردانہ وار دفاع کرتے رہیں۔ 5جنوری نہ صرف مسئلہ کشمیر کی قانونی، تاریخی اور سفارتی بنیاد کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ عالمی برادری کی اس اخلاقی اور ذمہ دارانہ کمٹمنٹ کی بھی یاد دہانی ہے جو آج تک مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کر سکی، اس لئے یہ دن نہ صرف تجدیدِ عہدِ حقِ خود ارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے بلکہ اپنے لاکھوں شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی ہے اور پورے قوم کے اندر یکجہتی، اتحاد اور بھرپور عزم کے اعادہ کا دن بھی ہے جس کے نتیجے میں ہماری تسلسل کے ساتھ جدوجہد آزادی کے ثمرات جموں و کشمیر کی سرزمین کو مکمل آزادی کی صورت میں سامنے آسکیں۔

Exit mobile version