Site icon Daily Pakistan

یومِ مزدور: پاکستان میں محنت کش طبقے کی حالتِ زار اور اصلاحات کی فوری ضرورت

تحریر: شمس الرحمٰن سواتی

ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد محنت کش طبقے کے حقوق، تحفظ، وقار اور فلاح و بہبود کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن یادگار ہے، مگر افسوس کہ زمینی حقیقت اس عزم سے بہت دور ہے۔ آج بھی لاکھوں مزدور بنیادی معاشی، سماجی اور قانونی تحفظات سے محروم ہیں۔
پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ محنت کشوں کی محنت پر کھڑا ہے، مگر وہی طبقہ سب سے زیادہ غیر محفوظ اور استحصال کا شکار ہے۔ یہ بنیادی تضاد پاکستان کی لیبر مارکیٹ کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
تازہ ترین Labour Force Survey کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس تقریباً 8.31 کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 81 فیصد مزدور انفارمل سیکٹر میں کام کر رہے ہیں جبکہ صرف 19 فیصد کے قریب فارمل سیکٹر میں شامل ہیں۔ یعنی معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی معیشت پر چل رہا ہے، جہاں مزدوروں کو نہ سوشل سیکیورٹی ملتی ہے، نہ قانونی تحفظ، نہ مستقل روزگار اور نہ ہی مناسب اجرت۔
مزدوروں کی اجتماعی نمائندگی کا اہم ذریعہ ٹریڈ یونینز ہیں۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ یونینز کی تعداد تقریباً 7000 کے قریب ہے جن میں سے صرف چند سو متحرک ہیں۔ کل ممبرز تقریباً 14 لاکھ ہیں جبکہ یونینائزیشن کی شرح کل لیبر فورس کے مقابلے میں صرف 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ اکثریت پاکٹ یونینز پر مشتمل ہے جن کا مقصد حقیقی مزدوروں کی بجائے آجروں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ بہت سے کارخانوں کے مزدور ان یونینز سے لاعلم بھی رہتے ہیں۔
پاکستان میں ٹریڈ یونینز کی کمزوری کی بنیادی وجوہات پرانے اور پیچیدہ لیبر قوانین، آجروں کی شدید مزاحمت، یونین سازی پر غیر رسمی دباؤ اور انفارمل سیکٹر کا قانونی دائرے سے مکمل طور پر باہر ہونا ہے۔ نتیجتاً مزدور اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند نہیں کر پاتے۔
سوشل سیکیورٹی کے شعبے میں بھی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ EOBI اور صوبائی سوشل سیکیورٹی ادارے موجود ہیں مگر ان کا دائرہ کار نہایت محدود ہے۔ EOBI میں رجسٹرڈ افراد تقریباً 8.6 ملین ہیں جبکہ فعال شراکت دار صرف 2.6 ملین ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ 90 فیصد سے زائد مزدور طبقہ کسی بھی قسم کے باضابطہ سوشل پروٹیکشن کے بغیر کام کر رہا ہے۔
جدید معیشت میں ایک نیا طبقہ تیزی سے ابھر رہا ہے جسے گیگ ورکرز کہا جاتا ہے۔ فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز، Careem، Bykea اور InDrive جیسے رائیڈ ہیلنگ ڈرائیورز، فری لانسرز اور ہوم بیسڈ ورکرز اس میں شامل ہیں۔ یہ لاکھوں مزدور پلیٹ فارمز پر کام کرتے ہیں مگر ان کے پاس مستقل ملازمت، انشورنس، پنشن یا صحت کا کوئی تحفظ نہیں۔ ان کی آمدنی غیر مستحکم ہے اور قانونی حیثیت غیر واضح ہے۔ پرانے لیبر قوانین اس نئی حقیقت کے مطابق نہیں ہیں جس کی وجہ سے یہ طبقہ شدید استحصال کا شکار ہے۔
لیبر کے شعبے کے ادارے کمزور گورننس، ڈیٹا کی کمی، غیر شفافیت، فنڈز کی بدعنوانی اور ادائیگیوں میں تاخیر کا شکار ہیں۔ یہ سب عوامل مزدوروں کے اعتماد کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔
پاکستان میں سب سے بڑا بحران تحفظ کا خلا ہے۔ کل لیبر فورس تقریباً 8.3 کروڑ ہے جبکہ محفوظ اور منظم طبقہ 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ 90 فیصد سے زائد مزدور غیر محفوظ ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور انسانی بحران ہے۔
مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے قومی لیبر رجسٹری قائم کی جائے جس میں تمام مزدوروں کو NADRA سے منسلک ڈیجیٹل سسٹم میں رجسٹر کیا جائے۔ انفارمل سیکٹر کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی مزدوروں کے لیے آسان اور کم لاگت والا رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے۔ گیگ ورکرز اور پلیٹ فارم ورکرز کی قانونی حیثیت واضح کرنے کے لیے نئے قانون میں ان کی تعریف شامل کرکے ان کے حقوق طے کیے جائیں۔
EOBI اور سوشل سیکیورٹی اداروں میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن، شفاف کنٹری بیوشن سسٹم اور خودکار فوری بینیفٹ ڈلیوری یقینی بنائی جائے۔ ٹریڈ یونین قوانین میں آسانی لائی جائے، رجسٹریشن کا عمل آسان بنایا جائے اور غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں۔ تمام لیبر فنڈز اور اداروں کے لیے پبلک ڈیش بورڈ بنایا جائے تاکہ شفافیت یقینی ہو۔
یومِ مزدور محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک سخت یاد دہانی ہے کہ پاکستان کا مزدور آج بھی کم اجرت، غیر یقینی روزگار، سوشل سیکیورٹی کی کمی اور قانونی تحفظ کے فقدان کا شکار ہے۔ مزدور طبقے کے کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری ان چند لوگوں کو بھی تعلیم سے دور کر رہی ہے جو کسی طرح پڑھ رہے تھے۔ کم خوراک کی وجہ سے بیماریاں عام ہیں اور ہسپتالوں کی نجکاری رہی سہی کثر بھی ختم کر دے گی۔
اگر پاکستان کو ایک مضبوط، پائیدار اور انصاف پر مبنی معیشت بنانی ہے تو محنت کش طبقے کو مرکزی اقتصادی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مزدور کو صرف کام کرنے والا ہاتھ نہ سمجھا جائے بلکہ معاشی نظام کا محفوظ، بااختیار اور باعزت حصہ تسلیم کیا جائے۔
مزدور طبقہ خود بھی جاگ اٹھے۔ ساڑھے آٹھ کروڑ کی یہ تعداد ایک جمہوری ملک میں بہت بڑی طاقت ہے۔ یہ آبادی کا تقریباً تیسرا حصہ ہے۔ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور افسر شاہی کے شکنجے سے نکل کر دیانتدار، اہل اور خدمت گزار قوتوں کے ساتھ مل کر اس گلے سڑے نظام کو بدلنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا۔
مزدوروں کی فلاح ہی پاکستان کی فلاح ہے۔
یومِ مزدور مبارک ہو — اور اس مبارک دن سے آگے، حقیقی جدوجہد کا آغاز ہو۔

Exit mobile version