Home » کالم » یوم پاکستان کی شاندار تقریب، دفاعی قوت کا بھرپور مظاہرہ
adaria

یوم پاکستان کی شاندار تقریب، دفاعی قوت کا بھرپور مظاہرہ

تحریک آزادی پاکستان کے دوران 23 مارچ 1940 کو مولوی فضل الحق نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان پیش کی ،جسے بھاری اجتماعی اکثریت سے منظوری دی گئی۔اسی قرارداد ہی کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔اس عظیم دن کی مناسبت سے ہم بحیثیت قوم ہر سال23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک بھر میں قرار دادِ پاکستان پیش کیے جانے کے 79سال پورے ہونے پر یومِ پاکستان خصوصی جوش و جذبے سے منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے مرکزی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں فوجی قوت اور اتحاد کا بھر پورمظاہرہ کیا گیا۔ اسلام آبادپریڈ گراؤنڈ میں ہونے والی پریڈ میں پاکستان کی مسلح افواج کیساتھ دوست ممالک چین، ترکی، سعودی عرب بحرین ، سری لنکا ، اور آذربائیجان کے دستے اور ہوا باز بھی شریک ہوئے،پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے صدر پاکستان کو سلامی پیش کی، ائر ماشل مجاہد انور نے فلائی پاسٹ کی قیادت کی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر ، وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت عارف علوی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ غیر ملکی مہمان بحرین کی نیشنل گارڈ کے سربراہ اور آذربائیجان کے وزیر دفاع بھی تقریب میں شریک تھے۔ علاوہ ازیں چیئرمین جوائنٹ چیفس، تینوں سروسز چیف، حکومتی شخصیات، غیر ملکی سفراء اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مرکزی تقریب میں شرکت کی۔ قرار داد پاکستان کے 79 سال بعد بھی قوم میں جذبہ پاکستان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وطن عزیز کی مسلح افواج اسی مناسبت سے پریڈ اور دفاعی طاقت کی نمائش کرتی ہیں جس کو یوم پاکستان پریڈ کہا جاتا ہے۔یوم پاکستان پریڈ کی رنگا رنگ تقریب میں بری، فضائی اور بحری افواج کی جانب سے اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔اس دن کے آغاز پر شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علی الصبح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا جبکہ مفکر پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان کے مزارات پر پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقاریب بھی منعقد ہوئیں۔اسلام آباد کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک جامع خطاب کیا کیا،انہوں نے پوری قوم کو مبارک دیتے ہوئے کہا ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، جس نے ہمیں آزادی کی نعمت عطا فرمائی، 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا وہ دن ہے جس دین برصغیر کے مسلمانوں نے قرار داد پاکستان پیش کی۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم نے مسلمانوں میں وہ روح پھونک دی کہ حالات کی بندشیں بھی قیامِ پاکستان کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جس طرح آزادی کا حصول قربانی کا متقاضی ہوتا ہے اسی طرح اسے برقرار رکھنے کیلئے مزید قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔انہوں نے دشمن کی رشہ دوانیوں اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ میں بہت نشیب و فراز آئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، ہمیں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے عزم، مہارت اور حکمت عملی سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ دیں امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے دہشت گردی کے خلاف اتنی لمبی لڑائی لڑی جس میں ہم سرخرو ہوئے۔صدر نے پڑوسی ملک بھارت کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کوتاہ بینی ہے کہ وہ پاکستان کو 1947 سے پہلے کے نظریات کی عینک سے دیکھتا ہے جو خطرناک ہے، اسے پاکستان کی حقیقت کوتسلیم کرنا ہوگا۔پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی قوانین کو بلائے طاق رکھتے ہوئے جارحیت کی جس کا جواب دینا ہمارا حق اور فرض تھا۔انہوں نے دشمن پر یہ بھی واضح کیا کہ قوم کے عزم اور افواج پاکستان کی جرأت و بہادری سے ہم سرخرو ہوئے اور الحمداللہ آج ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت کیساتھ ساتھ دفاعی ایٹمی قوت ہیں۔ہم امن چاہتے ہیں، ہمیں جنگ کے بجائے تعلیم اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے،ہماری اصل جنگ غربت کے خلاف ہونی چاہیے ۔ صدر نے سرحدوں پر دفاع وطن کا فریضہ انجام دینے والے جوانوں کو بھی سلام پیش کیا اور کہا کہ بلاشبہ آپ قوم کا فخر و وقار ہیں، آپ کے دل میں موجود جذبہ حب الوطنی نے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ پاکستان الحمداللہ محفوظ ہے، ہماری معاشی ترقی سیکیورٹی حالات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے لیکن اب پاکستان کو ترقی کی طرف لے جانے کا وقت آگیا ہے، ترقی یافتہ پاکستان شہدا اور غازیوں کیلئے سب سے بڑا خراج تحسین ہوگا۔قبل ازیں یومِ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا اور کہا کہ حکومت ایک ایسے معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہے جہاں ہرکوئی اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ملک کی سماجی واقتصادی ترقی میں اپناکرداراداکرسکے۔انہوں نے کہا کہ قومی دن کے موقع پرہمیں اپنے ان کشمیری بھائیوں کوفراموش نہیں کرناچاہیے جو طویل عرصے سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کانشانہ بن رہے ہیں اورمصائب ومشکلات میں زندگی بسرکرنے پرمجبورہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان نیا پاکستان ہے، پاکستان قوم ماردِ وطن کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ہم ایسا معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں ہمدردی و انصاف کی بنیاد پر مبنی ہو جس میں موجود ہر شخص معاشی و اقتصادی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کر سکے۔پاکستان برابری کی بنیاد پر اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ خطے کے تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطے میں غربت و افلاس کو ختم کریں اور لوگوں کی سماجی و معاشی ترقی حاصل کریں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی دنیا کو باور کرایاکہ پاکستان کی امن کوششوں کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوگیا۔
پاکستانی تقریب کا بائیکاٹ،مودی سرکار کا قابل مذمت رویہ
سفارتی آداب و روایات سے بے بہرہ بھارت نے ایک بار پھر سطحی حرکت کی اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میںیوم پاکستان کی ضیافت کا بائیکاٹ کیا جسکا جواز حریت پسندرہنماؤں کو تقریب میں مدعو کرنا کا گھڑاگیا۔تاہم دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم منصب عمران خان کو خیر سگالی کا پیغام بھی بھیجا جس میں مل جل کر کام کرنے اور امن کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔اس دوہرے عمل پر بھارت میں مودی کو شدید تنقید کا سامنا ہے تو وہ درست ہے۔یہ کتنا افسوسناک امر ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی پولیس اور سادہ کپڑوں میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گھیراؤ کیے رکھا اور وہ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کیلئے آنے والے مہمانوں کو ہراساں کرتے رہے۔ان کے نام پوچھتے رہے سادہ کپڑوں اور یونیفارم میں پولیس اہلکارشرکت کرنے والوں کو روک کر انہیں بتاتے کہ حکومت نے یوم پاکستان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ، صحافی جو اس تقریب کی رپورٹنگ کیلئے آئے تھے انہیں بھی شرکت نہ کرنے کا پیغام دیا گیا۔مودی سرکار کا یہ رویہ قابل مذمت ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative