Home » کالم » یوم یکجہتی کشمیر اور عالمی ذمہ داری!
asgher ali shad

یوم یکجہتی کشمیر اور عالمی ذمہ داری!

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے عملی طور پر تین فریق ہیں ، پاکستان، کشمیری عوام اور بھارت، اور اس تنازعہ کو محض اقوام متحدہ کی منظور قرار دادوں کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ جب تک کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہیں دیا جاتا، تب تلک کوئی یکطرفہ فارمولہ پاکستان و کشمیری عوام کو کسی صورت قبول نہیں ۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس مسئلے کو بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم نے اعلانیہ طور پر اقرار کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہی حل کیا جائے گا ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمرانوں ان وعدوں سے منحرف ہوتے چلے گئے ۔ مگر اس سب کے باوجودآرٹیکل 370 اور 35-;65; بھارتی آئین کا حصے رہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے، ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی ہے ۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے ۔ ان آرٹیکل کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے ۔ اس تناظر میں انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار نے 5 اگست کو اپنی دیرینہ مکروہ روش کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح تمام انسانی، اخلاقی اور قانونی ضابطوں کو پامال کیا، اس پر بجا طور پر پوری قوم میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے ایک جانب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارت میں تعیناتی کیلئے نامزد پاکستانی ہائی کمشنر معین الحق کو جانے سے روکا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان و ہندوستان کے مابین دوطرفہ معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے ، علاوہ ازیں 14 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا جبکہ بھارتی یوم آزادی یعنی 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظورکی گئی ہے ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کسی طرح قابل قبول نہیں کیونکہ یہ پاکستان بھارت کے مابین ایک متنازع علاقہ ہے ۔ قرار داد میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کے حالات میں نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی دو دن جاری رہا ۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں 5 فیصلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں :1 ۔ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کئے جائیں گے ۔ 2 ۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کی جائے گی ۔ 3 ۔ دو طرفہ معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا ۔ 4 ۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا ۔ 5 ۔ ملک کے طول و عرض میں 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا ۔ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے ۔ اس سے قبل پاک افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ ہیں اور اس سلسلے میں آخری حد تک جائیں گے ۔ کسے معلوم نہیں کہ گزشتہ برسوں میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری اپنی جانوں کی بازی ہار چکے ہیں اور بھارتی درندگی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ ایسے میں اگر عالمی برادری نے مزید چشم پوشی سے کام لیا تو اس کے اثرات نہ صرف پورے خطے کو متاثر کرینگے بلکہ پورا عالمی امن لپیٹ میں آ سکتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative