Home » کالم » یو این کب اپنا فریضہ ادا کرے گی؟
asghar-ali

یو این کب اپنا فریضہ ادا کرے گی؟

asghar-ali

چار دسمبر کو مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکمران جماعت ” PDP “ کی سربراہ ” محبوبہ مفتی “ نے RSS کو داعش کی مشابہہ قرار دیتے ہوئے اس جنونی جماعت کے خلاف موثر کاروائی کا مطالبہ کیا ۔ اس سے پہلے گذشتہ ماہ مودی کے دورہ برطانیہ کے دوران ” دی گارڈین“ نے بھارتی ہندو دانشور ” منیش کمار “ کی تحریر اپنے ادارتی صفحے پر شائع کی جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ ” بھارت میں اس وقت ہندو طالبان بر سرِ اقتدار ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ایک جانب بین الاقوامی سطح پر داعش جیسی دہشتگرد تنظیمیں عالمی امن کے لئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں تو دوسری طرف اسرائیل اور بھارت کے حکمران طبقات اور RSS جیسی انتہا پسند تنظیم اپنی کاروائیوں سے داعش جیسی قوتوں کو بالواسطہ اور براہ راست دونوں طرح سے تقویت پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں ۔ اس سے کچھ روز قبل مہاراشٹر کے سابق آئی جی پولیس” ایس ایم مشرف “ نے کہا ہے کہ RSS دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد جماعت ہے “ ۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ” اسی دہشتگرد تنظیم نے مہاراشٹر کے اینٹی ٹیرارسٹ سکواڈ کے سابق چیف ” ہیمنت کرکرے “ کو قتل کیا کیونکہ ” کرکرے “ نے دہشتگردی کی بہت سی ایسی وارداتوں کا سراغ لگایا جو RSS کے ایما پر کی گئی تھیں ۔ “ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ہوئے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی اور عدم برداشت کی موجودہ صورتحال کو تب تک سمجھنا خاصا مشکل ہے جب تک اس کے اصل منبع یعنی RSS کے ارتقائی مراحل کا جائزہ نہ لیا جائے ۔ RSS داراصل ” راشٹریہ سویم سیوک سنگھ “ کا مخفف ہے جس کا مطلب قومی رضا کار تنظیم ہے ۔ نوے برس پہلے ڈاکٹر ہیگ واڑ نے 1925ءمیں RSS کی بنیاد رکھی ۔ 1940ءمیں موصوف نے گرو گول والکر کو اپنا جانشین نامزد کیا جو 1973ءتک اپنے عہدے پر قائم رہے ۔ اور در حقیقت ” گولوالکر“جنہیں سنگھ پریوار میں گرو جی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ) نے ہندو انتہا پسندی کو موجودہ سطح تک پہنچانے میں فعال کردار ادا کیا ۔ ان کی تینتیس سالہ قیادت کے دوران ہی RSS کے ایک رکن ” ناتھو رام گوڈسے “ نے تیس جنوری 1948ءکو مہا تما گاندھی کو قتل کیا جس کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ سال کے لئے یہ تنظیم کالعدم قرار دے دی گئی االبتہ نہرو حکومت نے اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ RSS کے تیسرے سربراہ ” بالا صاحب دیو رس “ تھے جو 1973 تا 2000ءتک اس منصب پر قائم رہے ۔ اسی دوران جب جون 1975ءمیں اندرا گاندھی نے بھارت میں ایمر جنسی نافذ کی تو چند ماہ کے لئے اس تنظیم کو کام کرنے سے روک دیا گیا ۔ RSS کے چوتھے سربراہ ” راجندر کمار عرف راجو بھیا “ تھے جس کے بعد ” کے سی سودرشن “ نے RSS کی قیادت سنبھالی اور 2009ءسے موہن بھاگوت اس تنظیم کے سربراہ ہیں جو مصدقہ ذرائع کے مطابق سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھی بالواسطہ طور پر ملوث تھے ۔ اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی اور 1947ءمیں بھارت کی آزادی کے بعد سے RSS اور اس کے حمائیتیوں کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ وہ بھارت کو ہندو نظریات کی حامل ریاست بنائیں گے اور اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے خواب کو عملی تعبیر دی جائے گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ سیاسی اقتدار حاصل کیے بغیر ان میں سے کسی ہدف کا حصول ممکن نہیں ۔ اسی مقصد کے لئے RSS نے 1951ءمیں اپنے سیاسی ونگ کے طور پر ” بھارتی جن سنگھ نامی پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ شیاما پرشاد مکر جی اس کا بانی صدر تھا ، بعد میں دین دیال اپادھیا اور بلراج مدھوک اس عہدے پر رہنے والوں میں نمایاں تھے ۔ جن سنگھ نامی یہ سیاسی نما انتہا پسند گروہ بتدریج 1980ءمیں BJP کی شکل اختیار کر گیا ۔ BJP کے سربراہ بالترتیب واجپائی ، ایڈوانی ، جوشی ، کیشو بھاﺅ ٹھاکرے ، بھنگارو لکشمن ، کرشنا مورتی ، ونکیا نائیڈو ، راج ناتھ سنگھ اور نیتن گڈکری رہے ۔ آج کے کل امت شاہ اس عہدے پر فائز ہے ۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ 1947ءمیں بھارت کی آزادی کے بعد کے ابتدائی چار سال تک RSS نے بھارت کے قومی پرچم کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیے رکھا کیونکہ اس کا موقف تھا کہ اس کا رنگ مکمل طور پر زعفرانی ہونا چاہیے ۔ ( زعفرانی رنگ کو بھگوا بھی کہا جاتا ہے اور ہندو مذہب کی علامت کا درجہ حاصل ہے گویا یہ ہندو ازم کا سمبل ہے) ۔ ہندو دانشوروں کے نزدیک یہ دہکتی آگ کا رنگ ہے ۔ بہر کیف مہا راشٹر کے سابق پولیس سربراہ ” مشرف “ کے علاوہ خود بھارتی تحقیقی ادارے ماضی قریب میں ثابت کر چکے ہیں کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ، مالیگاﺅں بم دھماکے ، حیدر آباد دکن کی مکہ مسجد اور اجمیر شریف کی در گاہ میں ہونے والے دہشتگردی کے سنگین واقعات کے علاوہ RSS شدت پسندی کی بہت سی وارداتوں میں ملوث ہے ۔ سوامی اسیما نند اس حوالے سے بھارتی عدالت میں اقبالی بیانات بھی ریکارڈ کروا چکا ہے ، اسی وجہ سے اعتدال پسند حلقوں نے یو این کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کے ساتھ ساتھ تمام عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اقوام متحدہ باقاعدہ طور پر RSS کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کیونکہ RSS اور اس کے کٹھ پتلی نریندر مودی اعلانیہ اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ RSS کے قیام کے سو سال پورے ہونے یعنی 2025 تک پورے بھارت کو ہندو ریاست کا روپ دینے کی کوشش کرینگے اور اگر اس تنظیم کو عالمی برادری نے فوری طور پر دہشتگرد قرار نہ دیا تو اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بین الاقوامی امن کے لئے داعش کی مانند بڑا خطرہ ثابت ہو ۔

About Admin

Google Analytics Alternative