قرآن شریف میں اللہ سے مقابلہ کرنیوالے یہود کے بارے میں ہے:۔ ” یہ سب اس لیے ہوا کہ انھوں نے اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کا مقابلہ کیا، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ (الحشر۔٤) اللہ نافرمانوں کو معاف کرنے والا ہے۔ مگر اللہ سے لڑنے والے یہودیوں کوکبھی معاف نہیں کرے گا۔یہود جو کہتے ہیں نا کہ وہ فلسطین کے پرانے باشندے ہیں۔ مولانا سید ابوالا مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن سورة الحشر کے صفحہ ٣٧٠ جلد پنجم میں لکھتے ہیں۔ عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند دنیا میں موجود نہیں۔ انھوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پرکوئی روشنی پڑ سکے۔ اور عرب سے باہر کے یہودی مورخین و مصنفین نے اُن کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کی جزیرة العرب میں آکر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑگئے تھے، اور دنیا کے یہودی سرے سے اُن کو اپنوںمیں شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتیّٰ کی نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی۔حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں، اُن میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے عرب کی تاریخ کا پیشتر انحصار اُن زبانی روایات پرہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھاخاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلا یا ہوا تھا۔حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے و ہ حضرت موسیٰ کے آخر عہد میں جہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عمایقہ کا نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے جہاں آکر فرمان نبی کی تکمیل کی، مگرعمالقہ کے باشاہ کا ایل لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا، اسے انھوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کے ساتھ لیے ہوئے فلسطین واپس پہنچے۔اس وقت حضرت موسیٰ کا انتقال ہو چکا تھا۔اُن کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا، کہ ایک عمالق کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعتِ موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس بنا پر انھوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا، اور اسے مجبوراًیثرب واپس آنا پڑا (کتاب الاغانی ،ج ١٩ ،ص ٩٤) ۔اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدّعی تھے کہ وہ ١٢ سو برس قبلِ مسیح سے جہاں آباد ہیں۔ لیکن در حقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں، اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ فسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔دوسری یہودیت مہاجرت، خودیہویوں کی اپنی روایات کے مطابق ٥٨٧ قبل مسیح میںہوئی۔ جبکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا پھر میں تتربتتر کر دیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اس زمانے میںہمارے متعدد قبائل آکروادی القریٰ، تیما، اور یثرب میں آباد ہو گئے تھے۔( فتوح البدان البلازری) لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ درحقیقت جوبات ثابت ہے، وہ یہ ہے کی جب ٧٠عیسوی میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں ک قتل عام کیا، اور ١٣٢ ء میں انھیںاس سرزمین سے بالکل نکال بار کیا۔ اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جناب میں متصل ہی واقع تھا۔ جہاں آکر انھوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے، وہاںٹھیر گئے اوررفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعے سے ان پر قبضہ جما لیا۔ایلہ،مقنا، تبوک تیماء وادیالقریٰ، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اُسی دور میں قائم ہوا۔ اور بنی قریظہ، بنی نضیر ،بنی بہدل اور بنی قینقاع بھی اسی دور میں آکر یثرب پر قابض ہوئے۔ یثرب میں آباد ہونیوالے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے۔ کیونکہ وہ کاہنوں کے طبقے سے تھے۔ انھیں یہدویوں میں عالی نصب مانا جاتا تھا،اور ان کو اپنی ملت میں مذہبی سیادت حاصل تھی۔مقامی عرب قبائل کو دبا کر سر سبز شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ تین صدی بعد یمن میں اُس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورة سبا کے دوسرے رُکوع میں گز ر چکا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے یمن کے قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل گئے ۔غسانی ملک شام میں جا بسے۔ (……جاری ہے)
یہودی اللہ سے لڑنے والے

