2

یہ چَو کَھمُبِیَاں کیاہیں

اُردو نظم میںیہ چَوکھمبیاں کی نئی صنفِ سخن کیاہے؟افائدہ عام کے لئے آج کے مضمون میں ہم اِس کو اشکار کر تے ہیں۔وہ اس طرح کہ اُردو کے مشہور شاعر جناب یوسف راہی چاٹگامی نے اپنی نئی کتاب’’ چو کھمبیاں‘‘ ہمارے مطالعے کے لئے کراچی سے بھیجی ہے۔ یوسف راہی صاحب ایک نئی صنفِ سخن چو کھمبی کے مخترع ہیں۔ اس کتاب کے انتساب کو ہمارے دوست اور ملک کے مایا ناز اور عظیم دانشور، ٹی وی کے اینکر اور مقامی اخبارکے سینئر کالم نگار سے منسوب کر کے اس کتاب کو چار چاند کر دیا ہے۔ یوسف راہی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔انکی تخلیقات میں۱۔ اشک سوزاں( غزلوں کا مجموعہ)،ولائے محمدؐ ( نعتیہ مجموعہ)،۱۰۰ مشہور نعتیں( نعتیہ انتخاب)،ثنائے سید الکونین( نعتیہ مجموعہ)،۲۰۰ مشہور نعتیں( نعتیہ انتخاب) ، چوکھمبیاں (،چوکھمبوں کا مجموعہ)۲۔ترتیب و تالیف میں سنگ و سمن غزلوں کا مجموعہ(کاوش عمر)، بحر خواں نظموں کا مجموعہ(کاوش عمر)،شیشوں کا مسیحا( ڈرامہ کمال احمد رضوی)۳۔مخترع اُردو ادب کی نئی صنف سخن بہ نام چو کھمبی ۴۔ ترتیب و تزئین زیر طبع ۔شہر خوباں( غزلوں اور نظموں کا مجموعہ)،ایضاع سخن(اصلاحِ سخن علامہ تمنا عما وی)، کلید سخن(علمِ عروض خلش کلکتوی) نوائے شوق(منقبتیں’’ کاوش عمر‘‘) اور نعتیہ چوکھمبیاں۔ ہم تو سنتے آئے ہیں کہ اُردو میں ایک صنف نثر اور ددوسری نظم ہے۔ پھر اہل علم و ادب اور اہل زبان نے ان کی مختلف ا صناف ایجاد کیں ہیں۔ بقول خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی صاحب کے ’’اُردو اور فارسی شاعری میں دس سخن رائج ہیں۔ وہ یہ ہیں غزل،قصیدہ،رباعی،قطعہ،مسمط، ترکیب، بند، ترجیع بند مستراد،اور فرد ہیں حوالہ محسن اعظم ملیح آبادی چو کھمبیاں کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یوسف راہی نے مربع یا قطعہ چہار مصری کی تبدیل کردہ شکل کا ہندی الاصل نام جو اب اُردو کی ایک صورت ہے’’چو کھمبی‘‘ رکھا ہے۔ اس کے چاروں مصرع ایک ہی شکل کے ہونے کے سبب یہ نام د رست ہے۔ کسی نام کا مشہور ہونا یا نہ ہونا تو ادباء اور شعراء کے رد و قبول پر منصر ہے۔ میرے نزدیک یہ نام مقبولیت حاصل کر لے گا‘‘۔ یٰسین خان بہار شاہجہان پوری سابق استاد شعبہ اُردو لندن کالج آف مینجمنٹ پاکستان کیمپس کراچی لکھتے ہیں کہ ’’ چوکھمبی‘‘ کے موجد مشہور صحافی، ادیب، مبصر، اور شاعر یوسف راہی چاٹگامی ہیں۔ موصوف سینئر شعری میں شمار ہوتے ہیں کوئی پینتالیس برس سے شعر کہہ رہے ہیں۔ اس کی شعری تخلیقات میں توانائی بہ درجہ اتم پائی جاتی ہے۔ میں نے چو کھمبیوں کا مطالعہ کیا ہے، ان میں بڑی مقصدی اور فکر آفریں شوکھمبیاں موجود ہیں جو انہیں ایک ذہین و زیرک شاعر دکھاتی ہیں اور عہد عاضر کے توانا شعرا میں جگہ دلاتی ہیں‘‘ہم جیسے (راقم )کم علم اورشاعری سے نا بلد نے یوسف راہی صاحب کی نئی شاعری کی کتاب کا مطالعہ کیا اور پہلی نظر دیکھا کہ ہر چوکھمبی کے سب الفاظ ایک جیسے یعنی مخصوص بحر کے پابند ہیں اور چاروں مصرے ایک وزن کے ہیں اس لیے یہ چار کھمبوں والی شاعری ہے۔ یوسف راہی صاحب مشرقی پاکستان کے شہر چاٹگام میں پیداہوئے۔ تعلیم بھی وہیں سے مکمل کی۔کئی اخبارات کے رپورٹر، مضمون نگار، مدیر رہے۔ سیکرٹری نشر و اشاعت حلقہ اہل قلم چاٹگام۔ نامہ نگار شام و سحر کراچی، ریاض انٹر نیشنل ملتان مبصر فیصل آباد ۔موجودہ ڈائریکٹر پبلشنگ رابطہ فورم انٹر نیشنل ہیں۔ مدیر زاویہ نگا ہ کراچی۔ ممبر ارٹس کونسل کراچی۔ یوسف راہی چاٹگامی ، مشرقی پاکستان کے شہر چاٹگام کے رہائشی ہوتے ہوئے، اپنی آنکھوں سے قومیت کی بنیاد پر ملکِ پاکستان کو ٹوٹتے دیکھتے ہوئے، اپنے وطن کے باسیوں کے دھکوں کو محسوس کرتے ہوئے،اپنے وطن کے اُن طبقوں کو جو معدود قومیت کے زہر میں مبتلا ہو کر اس وطن عزیر پاکستان میں قومیت اور علاقیت کا تعصب پھیلاتے رہے اور پھیلا رہے ہیں کواپنی مندرجہ ذیل چو کھمبی میں ان کو محصور، معمور، مقہور اور ناسور جیسے الفاظ استعمال کر کے مخاطب ہوتے ہیں کہ:۔
تعصب میں محصور ہے یہ وطن
تعصب سے معمور ہی یہ وطن
تعصب میں مقہور ہے یہ وطن
لیے دل میں ناسور ہے یہ وطن
وہ لوگ جو ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاتے ہیں ان کو مخاطب کر تے ہیں۔ اس میں وہ علامہ اقبالؒ کی خود اعتمادی کے فلسفہ کو بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنی ایک چوکھمبی میں فرماتے ہیں:۔
اے لوگو! نہ بازو کبھی شل کرو
اے لوگو! نہ تم خود کو بے بَل کرو
ہر اک دن نہ تم آج اور کل کرو
مسائل جو اپنے ہیں خود حل کرو
یوسف راہی صاحب اسلام کے اصولوں پر عمل کرانے کے لئے اپنے مخاطب کو رزق حلال کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اپنے کلام میں کہتے ہیں:۔
سفر یہ مشقت کا جاری رہے
سفر اپنی محنت کا جاری رہے
سفر کار عزت کا جاری رہے
سفر رزق حرمت کا جاری ہے
کیونکہ ان کی کہی ہوئی چوکھمبیوں میں چار ہم قافیہ و ہم ردیف مصرے لازم وملزوم ہیں تو ہم نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ یہ چار ستون والی شاعری ہے۔ اب ہمیں نہیں پتہ کہ یہ بات درست ہے یا غلط، اس کی یوسف راہی صاحب ہی تصحیح فر مائیں گے۔بہر حال یوسف راہی نے شاعری میں ایک نئی صنف ایجاد کی ہے۔یوسف راہی بجا طور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ویسے یوسف راہی صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۳۹ پر خود بھی فرماتے ہیں کہ چو کھمبی سے مراد چار کھمبوں والی، چار گھنٹوں والی، چار پایوں والی، چار پائی جیسے اور چار ستونوں والی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ ہمیں ان کی شاعری میں انسان دوستی نظر آئی ہے۔ درج ذیل والی چوکھمبی میں اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں:۔
ہراِک سنگ ہے، اور کہاں ہے وہ درپن
ہر ایک تیرگی ہے کہاں ہے ضوافگن
ہر اِک ایک زندان ہے کب ہے وہ مامن
ہر اِک پردہ دوستی میں ہے دشمن
صاحبو! میں شاعریوسف راہی چاٹگامی صاحب کو ذاتی طور جانتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک دردِ دل رکھنے والے ، اپنی شاعری میں قوم کو حو صلہ دینے والے، برائیوں سے بچنے کی تلقین والے، رزق حلال کمانے کی تلقین کرنے والے ہیں اور نیکیوں پر گامزن شاعر ہیں۔ ان پر شراب و کباب اورعورتوں کا جنون سوارنہیں۔ ناچ گانے شراب و کباب، صنف نازک کے چہرے، گال، زلفوں اور کمر کی تعریفیں کرنے والے شاعر نہیں ہیں۔ وہ قوم کے معمار شاعر ہیں۔یوسف راہی چاٹگامی صاحب نے اپنی شب و روز محنت سے شاعری میں ایک نئی صنف سخن ایجاد کی ہے۔ اُمید ہے اسے علم و ادب کے حلقوں میں مناسب پذیرائی ملے گی۔ انشاء اللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں