2

ےہ قےاس آرائےاں کےوں ۔ ۔ ۔

زلزلے ہمےشہ اچانک آتے ہےں ۔ ان کے بارے مےں قبل از وقت کوئی حتمی پےشن گوئی نہےں کی جا سکتی ۔ ماہرےن کے بقول دنےا مےں 50فےصد زلزلے سرسبز پہاڑی علاقوں مےں ،40فےصد ساحلوں پر اور10فےصد صحراءوں ےا عام مےدانی علاقوں مےں آتے ہےں ۔ سائنسی ترقی سے پہلے قدےم زمانے کے انسان زلزلے کے بارے مےں الگ الگ نظرےات کے پےروکار تھے لےکن تازہ ترےن تحقےق کے مطابق زمےن اندر سے چھ بڑی پلےٹوں ےا ٹکڑوں پر مشتمل ہے ۔ ےہ ٹکڑے الگ الگ ہوتے ہےں وہ اےک دوسرے سے ٹکراتے ےا اچانک دور چلے جاتے ہےں تو زمےن ہلنے لگتی ہے ۔ ےہ چھ پلےٹےں اےشےاء افرےقہ ،شمالی اور جنوبی امرےکہ اور آسٹرےلےا تک پھےلی ہوئی ہےں ۔ ےہ مسلسل حرکت مےں رہتی ہےں ۔ بعض اوقات ان کے ٹکرانے سے سمندروں کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ابھر آتے ہےں ۔ تحقےق کے مطابق کوہ ہمالےہ،قراقرم اور ےورپ وغےرہ کے پہاڑوں کی جگہ پہلے سمندر تھے ۔ زمےن کی پلےٹوں کے ٹکرانے سے پہاڑ ابھر آئے ۔ حالےہ زلزلہ جو آزاد کشمےر مےر پور سے اےک کلو مےٹر دور جاتلاں مےں آےا کافی جانی و مالی نقصان کا باعث بنا ۔ اس زلزلے کے آفٹر شاکس ابھی تک نقصان کر رہے ہےں ۔ انہی دنوں حالےہ زلزلے کی تباہی کے حوالہ سے مختلف قےاس آرائےاں سامنے آئےں کہ ےہ خدا کا عذاب ہے ،ےہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے ،ےہ ہماری شامت اعمال ہے ،ہمےں اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئیے ۔ معزز قارئےن گو، اس نازک موضوع کو ماضی مےں بھی عنوان بنا چکا ہوں اےک بار پھر اس موضوع پر قلم آرائی کر رہا ہوں ۔ موضوع کے حوالہ سے اےک طبقہ فکر کا نظرےہ بےان کر چکا ہوں دوسرے طبقہ فکر کے خےال مےں عذاب اور سزا تو مجرموں کےلئے ہےں اس زلزلہ مےں کچھ معصوم بچے بھی جان سے گزر گئے ہےں وہ کےوں ناکردہ گناہوں کی سزا کے مستحق ٹھہرے ےہ تو خدا کے قانون عدل کے بھی خلاف ہے ۔ اس زلزلہ کو انسانی اعمال کے ساتھ منسلک کرنا قرےن انصاف نہےں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ےہ زمےن کی طبعی صورتحال کی تبدےلی ہے اور زلزلے کے نقصانات سے بچاءو ممکن نہےں لےکن پھر بھی انہےں بڑی حد تک کم کےا جا سکتا ہے ۔ ہم اپنے اعمال کی سزا صاف ستھری زندگی گزارنے والے پہاڑوں کے جفا کش باسےوں پر نہےں ڈال سکتے ۔ معزز قارئےن راقم نہ تو کسی قسم کی مناظرانہ جنبہ داری مےں پڑنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی اپنے محدود ناقص علم کے سبب خود کو اس قابل پاتا ہے کہ اس نازک موضوع پر حاشےہ آرائی کر سکے ۔ باب شہر علوم حضرت علی کرم ا;203; وجہہ کا بھی فرمان ہے کہ ’’ جس چےز کی گہرائےوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور فکر کی جولانےاں عاجز رہےں اس مےں اپنی رائے کو کار فرما نہ کرو‘‘باوجود اس کے اس موضوع پر اپنی حقےر سوچ کے مطابق سعی کی ہے جو ناظرےن کے پےش خدمت ہے ۔ معزز قارئےن ہماری نگاہوں کے سامنے جو حادثات و واقعات ظہور پذےر ہوتے ہےں ہم ابھی تک ان کے اسباب کو ہی نہےں جان سکے اشےائے کائنات کا علم کلی تو صرف خدائے بصےر کو ہے ۔ آفات ارضی و سماوی کے آگے انسان آج بھی اتنا ہی بے بس ہے جتنا کئی سو برس پہلے تھا ۔ زلزلے کے دو جھٹکے ہی ےہ فلک بوس عمارتےں اور ڈےم زمےن بوس کرنے کےلئے کافی ہےں اور ابھی زلزلے پر قابو پانا بھی انسان کے بس مےں نہےں ۔ پنسلےن کے موجد سر الےگزنڈر فلےمنگ نے کہا تھا کہ سائنس دانوں کی بلندی پر نگاہ دوڑائےں تو اےٹم بم کو پھاڑتے دکھائی دےتے ہےں ان کی بے بسی دےکھےں کہ وہ سب مل کر آج تک معمولی زکام کا علاج نہےں کر پائے ۔ سائنس کی دنےا ےہ بھی تسلےم کرتی ہے کہ قدرت کی طرف سے بعض حسےں جو جانوروں کو ودےعت کی گئی ہےں انسان کو ان سے محروم رکھا گےا ہے زلزلہ کی آمد سے قبل پرندوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے گھونسلوں سے نکل کر پرےشانی کے عالم مےں اڑنے لگتے ہےں ۔ سائنسدانوں کا خےال ہے کہ جانوروں کی چھٹی حس اےسے مواقع پر جلدی بےدار ہو جاتی ہے اور وہ آنے والے خطرے کی بو پہلے سونگھ لےتی ہے اگست1976ء مےں سی چوان (چےن) مےں ہی زلزلہ آنے سے پہلے رےنگنے والے جانور 40مےٹر دور اےک گڑھے مےں اکٹھے ہو گئے ۔ سونامی آنے سے قبل سری لنکا سے ہاتھی بھاگ کر دور دراز مقامات پر چلے گئے ۔ کچھ چےزےں اےسی بھی ہےں جو قدرت کی طرف سے پردہ غےب مےں لپےٹ دی گئی ہےں جن کا علم خدائے بزرگ و برتر نے صرف اپنے پاس رکھا ہے ۔ قرآن مجےد کی سورہ لقمان کی آخری آیت مبارکہ مےں اس کا ذکر کےا گےا ہے ان کی تفصےل مےں اےک قےامت کا علم ہے انسان نہےں جانتا کہ ےہ کب آئے گی وہ ےہ بھی نہےں جانتا کہ وہ کس سرزمےن پر مرے گا بارش کب ہو گی کوئی شخص کل کےا کرے گا اور ماں کے پےٹ مےں بچہ خوبصورت ہے ،ےا بد صورت ہے ۔ قارئےن انسانی علم کا انحصار تجربہ ، مشاہدہ اور اےمان پر ہے ہم اس نسبت سے اشےائے کائنات سے متعلق اپنی حتمی طور پر رائے قائم کرنے کے قابل ہوتے ہےں ا;203; کے قوانےن غےر متبدل ہےں قرآن مجےد مےں تسخےر کائنات کے سلسلہ مےں بہت سی قرآنی آےات نازل ہوئےں جن مےں شمس وقمر کی تسخےر ،لےل و نہار کی تسخےر ،سمندروں اور درےاءوں کی تسخےر حتیٰ کہ ارضی و سماویٰ تسخےر شامل ہے اس مےں مومن و کافر کا بھی فرق نہےں ہوتا جو انسان ےا قوم بھی چاہے ان قوتوں کو مسخر کر کے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکتی ہے ۔ کائنات کا متعےن کردہ راستہ علم و فکر کی وادےوں اور فہم و شعور کی پگڈنڈےوں سے گزرتا ہے جس کسی نے علم کا راستہ پا لےا اس نے دنےا مسخر کر لی ۔ ان قوتوں کی تسخےر انسانی علم کی ترقی اور وسعت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے فطرت کی قوتےں بے باک ہونے پر تباہی لاتی ہےں اور جب انسان انہےں اپنا تابع فرمان کر لےتا ہے تو پھر مرضی کے نتاءج برآمد ہوتے ہےں زلزلے اور سےلاب کا تعلق بھی نظام فطرت سے ہے جو قومےں ان قوانےن کا علم حاصل کر کے حفاظتی تدابےر اختےار کر لےتی ہےں ان کے ہاں ےہ حوادث اتنی تباہی نہےں مچاتے آج ترقی ےافتہ اقوام فطرت کے ان حوادث کا مقابلہ کرتی ہےں اور بچاءو مےں بڑی حد تک کامےاب بھی ہوتی ہےں ترقی ےافتہ قوموں نے تسخےر کائنات کا راز سمجھ لےا ہے جس کے باعث وہ فطرت کے ان حوادث کا مقابلہ اور ان کی روک تھام کے قابل ہو گئی ہےں ۔ ہالےنڈ ،پورے کا پورا ملک ساحل سمندر پر واقع ہے اور سطح سمندر سے بھی کتنے فٹ نےچا لےکن انہوں نے اےسا انتظام کر رکھا ہے کہ سمندر کا اےک قطرہ پانی بھی ان کے ملک مےں نہےں آسکتا چےن مےں درےائے زرد کا نام ہی ’’بلائے موت‘‘ تھا ےہ ہر سال ہزاروں چےنےوں کی جانےں لےنے کے ساتھ ساتھ ان کے بے حد و حساب مال و متاع اور موےشےوں کے نقصان کا سبب بنتا لےکن آج بند باندھنے اور جدےد انتظامات کے باعث ےہ اسی راستہ پر سفر کرنے پر مجبور ہے جو اس کےلئے مقرر کر دےا گےا ہے ۔ جاپان دنےا کا اےسا ملک ہے جہاں سب سے زےادہ زلزلے آتے ہےں لےکن اس کے ادارے مضبوط ہےں جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہےں انہوں نے اےسے مکانات بنا لئے ہےں جن کا زلزلے سے نقصان نہےں ہوتا ۔ اےک معتبر کالم نوےس نے واضع کےا کہ ےہ ہماری لاعلمی کی سزا ہے لاعلمی کی سزا کا اندازہ اس سے لگاےا جا سکتا ہے کہ 1976ء مےں چےن مےں آنے والا زلزلہ پانچ لاکھ سے زےادہ انسانی جانوں کے ضےاع کا باعث بنا جبکہ سان فرانسسکو مےں بھی اسی سکےل کا زلزلہ آےا مگر اس مےں صرف اےک انسان مرا وجہ صرف ےہ تھی کہ اس دور کا چےن اس وقت آفت سے بچنے کےلئے تےار نہےں تھا جبکہ امرےکہ نے اس مےں پکے مکانات کی تعمےر پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ 1970ء مےں خلےج بنگال کے طوفان مےں ساڑھے تےن لاکھ بنگالی لقمہ اجل بن گئے جبکہ امرےکہ مےں آنے والا طوفان رےٹا اس سے بڑا تھا لےکن جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوا کےونکہ انہوں نے وارننگ کے باعث پہلے سے اپنی بچت کا اہتمام کر لےا تھا ۔ مجھ جےسا گناہ گار انسان تو بس سن سکتا ہے کہ جان سکے کہ ا;203; کا عذاب کےونکر اور کےسے نازل ہوتا ہے اس لئے اپنے مضمون کا اختتام مشہور اور جےد عالم دےن مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے اس بےان پر کر رہا ہوں جو انہوں نے اکتوبر2005ء کے زلزلے کو گناہوں کی سزا قرار دےنے والے بعض دانشوروں کے جواب مےں اےک لےکچر مےں کہے تھے انہوں نے کہا تھا زلزلوں مےں ہونے والی تباہی ہمارے اعمال کا نتےجہ نہےں ہے ، گناہوں کی سزا کےلئے وہ دن مقرر ہے جب قےامت کے بعد سب خدا کے حضور پےش ہوں گے ، کراچی اور لاہور بداعمالےوں کے سب سے بڑے اڈے ہےں ۔ انہوں نے زلزلے کو فطرت کا اےک تسلسل قرار دےا آج جو لوگ قدرتی آفات کو گناہوں کی سزا قرار دے رہے ہےں وہ عمل سے رو گردانی علم و تحقےق کے دروازے بند کر رہے ہےں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں