ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای کو مشیروں سے ملاقات کے دوران نشانہ بنایا گیا۔حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے۔انکی شہادت پرملک بھرمیں 40 روزہ سوگ اور7 روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔امریکی حملوں میں سپریم لیڈر کی فیملی کے پانچ افراد کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ شہید ہونے والے فیملی ممبران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیٹا،بہو،بیٹی،داماد اورنواسی شامل ہیں۔ایران نے سپریم لیڈر کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ مسلح افواج اپنے رہبر خامنہ ای کے راستے پر گامزن رہیں گی۔ملک میں جارحیت کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں گی۔ آیت اللہ عالی خامنہ ای کے قاتلوں سے سخت اور فیصلہ کن انتقام لیں گے۔آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایران کے تمام بڑے شہروں میں تعزیتی تقاریب کی جارہی ہیں۔ایرانی شہری اہم اسکوائر پر جمع ہوکر ماتم کرنے میں مصروف ہیں۔سپریم لیڈر کی شہادت پر شہری زار و قطار روتے رہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حلموں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف مختلف اہل تشیع تنظیموں کی جانب سے امریکی قونصل خانے کے باہراحتجاج کیا اور احتجاج کے دوران مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے مرکزی دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کی اور توڑ پھوڑکی۔ امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرے اور فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق 8 افراد کی لاشیں سول ٹراما سینٹر لائیں گئیں جبکہ ایک زخمی دوران علاج دم توڑ گیا، مجموعی طور پر 40 افراد کو زخمی حالت میں سول اسپتال لایا گیا، دو شدید زخمی افراد کی حالت تشویش ناک ہے، تمام افراد گولیاں لگنے سے جاں بحق اور زخمی ہوئے۔فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت کرلی گئی ان میں 23 سالہ کاظم ، 26 سالہ مبارک، 25سالہ عدیل، 25 سالہ عباس، 25 سالہ ساجد علی، 20سالہ خاورعباس، 23 سالہ محمد علی، 35 سالہ قاسم عباس اور 25 سالہ عامر سہیل شامل ہیں، جاں بحق افراد کی لاشیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے نمائش کے قریب امام بارگاہ منتقل کردی گئیں۔محترم حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایران نہیں پوری امتِ مسلمہ کا نقصان ہے۔ ہم ایران کے خلاف بلااشتعال کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے ایک بار پھر خود کو دہشت گرد ریاستیں ثابت کیا۔ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دنیا کے ضابطوں کو نہ ماننا عالمی امن کیلئے خطرناک رجحان ہے۔ ایران میں رجیم چینج کی بات کرنا عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔پورے ملک میں شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای مسلم دنیا کی ایک باوقار، بااثر اور مدبر قیادت تھے۔ انکی شہادت امتِ مسلمہ کیلئے ایک عظیم سانحہ ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کی خودمختاری، قومی وقار اور اسلامی اقدار کے تحفظ کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ان کی شہادت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت پردلی صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تمام مسلم دنیا کیلئے غم اور افسوس کا دن اور مقام ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ کبھی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا۔ ایران کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں تھا۔ اپنا دفاع ایران کا حق تھا جبکہ رجیم چینج کیلئے لیڈر کو مارنا کرمنل ایکٹ اور اسٹیٹ ٹیررازم ہے۔ ہم حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہماری دعائیں اور حمایت ایرانی لوگوں کے ساتھ ہیں۔ہم ایران کے سوگ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی اس جارحیت کے سنگین معاشی اثرات پوری دنیا خصوصاً خطے کے ممالک پر مرتب ہوں گے۔ امریکہ اور اسرائیلی بلاجواز حملوں کے نتیجے میں ہورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے ۔اس حقیقت سے انکارنہیں کہ کسی ملک کی قیادت کو ٹارگٹ کرنا بدترین ریاستی دہشتگردی ہے ۔یہ نقصان صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا نقصان ہے۔ عالمِ اسلام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عالمی برادری فوری نوٹس لے اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرے۔ دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہئے امریکا کسی کا دوست نہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آشیرباد حاصل کرکے کچھ پا لیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ پاکستان کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ حملہ صرف ایران پر نہیں ہے۔ یہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل کو پاکستان کی ایٹمی طاقت بری لگتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی دہشت گرد اور جنگی مجرم قرار دینا چاہئے۔ امریکا کی تاریخ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے ایک بار پھر خود کو دہشت گرد ریاستیں ثابت کیا ہے۔ ہمیں چین سے بات کرنی چاہیے۔ امریکہ کو پتہ ہے چین کی عسکری اور معاشی حالت امریکہ سے بہتر ہے۔ پاکستان کو امریکا کی چاپلوسی کی پالیسی ترک کرکے ایران کو کھلے عام سپورٹ کرنا چاہئے۔ ہم ہر ملک سے تعلقات چاہتے ہیں مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ چین اور روس سمیت خطے کی بڑی طاقتوں سے رابطوں پر زور دینا چاہئے۔ پاکستان اور افغانستان کی لڑائی کسی کے حق میں نہیں۔ پاک افغان لڑائی کے خاتمے کیلئے عالم اسلام کے ممالک کو کردار ادا کرنا چاہیئے۔ افغانستان کی سرزمین سازشوں کیلئے استعمال کی جارہی ہے۔ ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں۔ پاک افغان جنگ سے کسی کا فائدہ نہیں۔ افغانستان اور پاکستان کی حکومت کو اس حوالے سے بات چیت کا ذریعہ اختیار کرنا چاہیے۔ پاک افغان جنگ میں نقصان صرف مسلمانوں کا نقصان ہے۔ افغانستان کو سمجھنا چاہیے کہ بھارت کبھی آپ کا دوست نہیں ہوسکتا۔ مودی کا اسرائیل کا دورہ ثابت کرتا ہے وہ کسی مسلمان کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔ اس وقت ملک میں قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔آج امت مسلمہ، ایران اور پاکستان کے عوام کے لیے سوگوار دن ہے۔ ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تمام ممالک صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں اورمسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ حکومت پاکستان امریکہ اور ایران میں ثالثی، مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کیلئے بھرپور کوشش کرے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا۔ جس کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔ خطے میں عدم استحکام کے باعث تجارتی راستے متاثر ہوں گے اور شپنگ اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، امت مسلمہ کا بڑا نقصان

