گھر میں سب چھوٹے بڑے اُن کو ”ابو ‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ دُنیا اُنہیں عرفان صدیقی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ ریشم جیسی ملائم طبعیت، گھنی چھائوں جیسی شفقت اور محبت، دینی اور خاندانی روایات میں گندھی شرافت، پہاڑوں سے بلند اعلی ظرفی اور جھیل کے پانیوں جیسا ٹھہرائو، اُنکی شخصیت کا خاصہ تھا۔ چہرے پر ہر وقت ایک ایسی مسکراہٹ اور سکون کہ جس سے سارا گھر روشن، تروتازہ، کھِلا کھِلا اور مہکتا رہتا تھا۔ وہ صرف ہمارے ہی نہیں، اپنے بہن بھائیوں اور دیگر عزیز رشتہ داروں، سب کیلئے ایک ”مرکز” تھے۔ 10 نومبر کی رات یہ مرکز بکھر گیا اور ہمارے ابو وہاں چلے گئے جہاں ایک دِن سب کو جانا ہے۔ انہوں نے اپنی بے شمار خوبیوں، تخلیقی صلاحیتوں، علمی، ادبی، دینی اور قومی خدمات کے ذریعے ایک عہد تخلیق کیا۔ سوچ رہا ہوں اُن کی کہانی کہاں سے شروع اور کہاں پر ختم کروں۔ایسی کہانیاں شاید شروع تو ہوتی ہیں مگر ختم نہیں ہوتیں ۔ نہ ایسے عہد ختم ہوتے ہیں جس کی روشنی سے آنیوالے زمانے بھی چمکتے رہیں اور نہ ایسے شخص ختم ہوتے ہیں۔ بقول احمد ندیم قاسمی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجائوں گا
میں تو دریا ہوں، سمندر میں اتر جائوں گا
اُن کی شخصیت کو الفاظ کے دامن میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں اور قلم کی طاقت کا احاطہ کرنے کیلئے آج کوئی دوسرا قلم موجود نہیں۔ وفات سے ایک دِن قبل جب وہ کچھ بولنے اور دیکھنے سے قاصر تھے۔ میں اُنکے سرہانے کھڑا اُن کا داہنا ہاتھ پکڑے سوچ رہا تھا کہ اِس ہاتھ سے کیسی کیسی شاہکار تحریریں رقم ہوئیں اور کِس طرح اِن تحریروں نے ایک جہاں کی ذہن سازی کی۔ انہوں نے جس حوالے سے جو بھی لکھا، وہی اَمر ہوا۔ نمایاں پہلو یہ ہے کہ جس موضوع پر جو بھی لکھا یوں لگا جیسے اِس سے بہتر تحریر ممکن نہیں۔ یہ اُن کے فنِ تحریر کی معراج تھی کہ انہوں نے اپنا ایک اچھوتا، جداگانہ اسلوب متعارف کروایا، اُس کو منوایا اور پھر یہ معیار ہمیشہ کیلئے قائم رَکھا۔ ریڈیو ڈرامے لکھے تو صفِّ اوّل کے ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوا۔ کالم نگاری میں قدم رَکھا تو وہاں اپنا لوہا منوایا۔ سفرِ حجاز پر قلم اٹھایا تو پڑھنے والے کی اُنگلی تھام کر مکّہ مدینہ ہی میں چھوڑ آئے۔اپنی کتاب ‘مکّہ مدینہ’ میںوہ لکھتے ہیں ۔ ”میں دیر تک بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ کل بھی سحر کی انہی مشکبو ساعتوں میں فجر کی آذان گونجے گی۔ حرم اسی طرح دورو نزدیک سے آئے بندگانِ خدا سے چھلک رہا ہو گا۔جہاں میں بیٹھا ہوں وہاں کل کوئی اورپاکستانی،ایرانی،افغانی، سوڈانی، مصری یا عراقی بیٹھا ہوگا۔جہاں ابھی ابھی میری جبیں نے زمینِ حرم کو بوسہ دیا تھا وہاں کل کسی اور کی جبیں سجدہ ریز ہوگی۔ اسی طرح ابابیلوں جیسے ننھے پرندے خانہ خدا کے آس پاس اور اُوپر نیچے آتے، چہچہا رہے ہوں گے۔ امام کعبہ کی پُرسوز قرآت دِلوں میں گداز پیدا کر رہی ہوگی اور میں یہاں نہیں ہوں گا۔ بچھڑنے کے احساس نے مجھے آزردہ کردیا۔”
وہ ایک دنیا کے ہی استاد نہیں، ہمارے بھی استاد تھے۔ ہماری تربیت انہوں نے کچھ اسطرح کی کہ مارپیٹ تو دور کی بات، کبھی اونچی آواز میں ڈانٹا تک نہیں۔ہمیشہ ہمیں محنت، دیانت، شرافت اور شائستگی سے جینا سکھایا۔اُنکی شخصیت سے ہمیں اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ، بولنے کا قرینہ اور زندگی گزارنے ڈھنگ ملا۔کبھی وہ ہمارے ساتھ گاڑی میں جا رہے ہوں اور ہم غلطی سے ہارن بجا دیں توہمیں ٹوک دیتے تھے کہ پتہ نہیں دوسرا انسان کِس مشکل اور کرب میں ہے ۔ وہ خود تو خوش لباس تھے ہی ، ہمیں بھی خوش لباسی کی تلقین کرتے اور کہتے تھے کہ اچھا لباس در اصل اس شخص یا اس محفل کی قدر افزائی ہوتی ہے جہاں آپ اسے پہن کر جاتے ہیں۔یہ ان کی تربیت اور شخصیت کا ہی اثر تھا کہ آج یہ سوچ کر ہمیں آسودگی کا احساس ہوتا ہے کہ بچپن سے لے کر ابو کی آخری سانوں تک کسی بھی طرف سے ہماری کوئی شکایت، گلہ یا شکوہ اُن تک نہیں پہنچا۔ بلاشبہ یہ بات نہ صرف ہمارے لئے بلکہ جاتے جاتے اُن کیلئے بھی باعث فخر ہوگی۔روات سے آگے چک بیلی خان روڈ پر گائوں ”ڈھوک بدہال” میں آنکھ کھولی۔ بچپن غربت میں گذرا۔ کم وسائل کے باعث مڈل تک ابتدائی تعلیم گائوں میں ٹاٹ والے سکول میں حاصل کی۔ مڈل کرنے کے بعد ڈینیز ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا اور لالےٰ موسیٰ سے ‘جے وی’ کا امتحان پاس کیا اور ‘لال کُرتی’ (راولپنڈی) میں استاد کی حیثیت سے تدریس کا آغاز کردیا۔ محنت اور تگ ودَو ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ ‘بی۔ایڈ’ میں پورے پنجاب میں اوّل آئے اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ایم اے اُردو کیا، سرسید سکول میں اور بعدازاں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر سرسیّد کالج میں استادکی حیثیت سے جگہ بنائی۔ 1988 تک وہ سرسیّد کالج میں اردو پڑھاتے رہے۔ ہم دیکھتے تھے کہ قدرت نے ان کی شخصیت میں کچھ ایسی کشش رَکھ دی تھی کہ جو بھی ایک بار اُن سے ملتا اُن کی شفقت اور محبت کا گرویدہ ہوجاتا۔ وہ کالج کے بھی ہر دلعزیز استاد تھے۔ اُسی کالج سے فارغ التحصیل ہزاروں شاگرد آج بھی ہر شعبہ زندگی میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ آج بھی اُن کو یاد کرتے اور اُن پر فخر کرتے ہیں۔عملی صحافت کا آغاز ہفت روزہ ”زندگی” سے کیا۔ اسکے بعد وہ صلاح الدین مرحوم کے ہفت روزہ ”تکبیر” میں بھی لکھتے رہے۔اپنی تحریری اور تخلیقی صلاحیتوں پر اُن کو اتنا اعتماد تھا کہ اپنے کیرئیر کے عروج پر کالج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر صحافت اور لکھنے لکھانے کو ہی اپنا کل وقتی مشغلہ بنالیا۔
میں غالباً پہلی یا دوسری جماعت میں تھا جب ابو نے اپنے ایک شاگرد سے سکینڈ ہینڈ سکوٹر خریدا۔ اِس سے قبل وہ سائیکل پر آتے جاتے تھے۔ وہ سکوٹر کے پیچھے سٹینڈ پر ہمارے سکول بیگز باندھتے۔ میں، میرے بڑے بھائی عمران اور دونوں بہنیں اِسی ایک سکوٹر پر ابو کے ساتھ سکول آتے جاتے۔ کچھ عرصہ بعد ابو نے بڑے بھائی کو ایک سائیکل خرید کر دی کہ اَب چاروں کا سکوٹر پر بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔ اسکے کچھ عرصہ بعد ابونے پہلی سیکنڈ ہینڈ گاڑی لی اور یوں آنے جانے میں سہولت ہونے لگی۔ بچپن سے محنت اور تگ ودَو نے اُن میں اپنا ہر کام خود کرنے کی عادت ڈال دی تھی۔ گھر میں بھی وہ اپنے کام کیلئے کم ہی کسی کوکہتے تھے۔ ہم انہیں بہت روکتے بھی اور کوشش بھی کرتے مگر وہ اپنے کپڑے تک خود ”پریس” کرتے تھے اور اپنے جوتے بھی خود چمکاتے تھے اور کہتے تھے کہ ”یہ میرا شوق ہے، مجھے اچھا لگتا ہے۔” اُنکا یہ عمل جب تک وہ فعال رہے، جاری رہا۔ خوش لباس، خوش شکل اور خوش گفتار ہونے کیساتھ ساتھ وہ خوش خوراک بھی تھے۔ وہ خود بھی بہت اچھا کھانا بنالیتے تھے جب کبھی اُن کو فرصت ملتی وہ خودکہتے کہ آج میں خود کچھ بنائوں گا۔ جس طرح ہر کام میں وہ منفرد تھے ، اُسی طرح اُن کا بنایا ہوا کھانا اور تراکیب بھی الگ، نرالی اور خوش ذائقہ ہوتی تھیں (جاری ہے)(ڈاکٹر نعمان صدیقی، عرفان صدیقی کے چھوٹے صاحبزادے ہیں)

