Site icon Daily Pakistan

ازبکستان کے صدرکاکامیاب دورہ پاکستان !

پاکستان اورازبکستان کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے موقف کوہرعالمی پلیٹ فارم پر سراہاوہیں ازبکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بھرپوراورکھل کرحمایت کرتا ہے۔دونوں ممالک کے مابین باہمی افہام و تفہیم، اسلامی بھائی چارے اور ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی پر مبنی دیرینہ بھائی چارے کارشتہ ہے جس کی بنیادمشترکہ اقدار اورمشترکہ منزلیں ہیں۔دونوں ممالک اقوام متحدہ،اوآئی ایس،ای سی اوسمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے بھی رکن ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن مستقل بنیادوں پر منعقد ہوتا ہے ۔ 1991ء میں ازبکستان کی آزادی کے بعدپاکستان اُن چندممالک میں شامل ہے جس نے سب سے پہلے ازبکستان کوتسلیم کیا ۔ اگرتجارتی تعلقات کی بات کی جائے تو آئندہ چار برس میں پاکستان اور ازبکستان کے مابین تجارت کے حجم کو 4 ارب ڈالر پر پہنچانے، ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ ، ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، دونوں ممالک کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور پاکستان و ازبکستان کی کاروباری برادری کے مابین تعاون پربڑی تیزی رفتاری سے کام جاری ہے ۔اِسی تسلسل میں گزشتہ روزجب ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزائیوف پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد نورخان ائیربیس پہنچے توصدرمملکت آصف علی زرداری،وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف نے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑاورمعاون خصوصی ہارون اخترخان کے ہمراہ معززمہمان کابھرپوراستقبال کیا ۔ بعد ازاں وزیر اعظم ہائوس پہنچنے پرمسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے ازبکستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخطوںکی تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے دو طرفہ تجارت کا حجم اگلے پانچ سال میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے پروٹوکول اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے ایکشن پلان مرتب کرنے کیلئے ورکنگ گروپ قائم کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے ازبکستان کے صدر کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ دینے کا اعلان کیا ۔ وزیراعظم نے شوکت مرزائیوف کواعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ کا سرٹیفکیٹ عطا کیا ۔ پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیہ سمیت تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت و غذائی تحفظ، کان کنی، دفاعی تعاون، ماحولیاتی تبدیلی، کھیل و ثقافت، ادویہ سازی، انسداد منشیات اور دیگر شعبوں میں تعاون کے 29 معاہدوں اور ایم او یوز پر بھی دستخط کئے۔اِسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے اورکاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے پاکستانـازبکستان بزنس فورم کاانعقاد بھی کیاگیاجس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کاروباری برادری کے کردار کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کے فروغ میں کلیدی قرار دیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ کاروبار کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا، دونوں ممالک کے سرمایہ کار کاروباری مواقع سے استفادہ کرکے عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کویہ سہراجاتاہے کہ جہاں پاکستان کے امارات،یورپ،چین سے تجارتی تعلقات مزیدمستحکم ہوئے وہیںوسط ایشیائی ممالک سے بھی تاریخی تعلقات اورتجارتی معاہدے ہورہے ہیںاور پاکستان کی معیشت بھی دِن بدن مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔حکومت نے مہنگائی کی شرح کو 30 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ پر لایا۔اِسی طر ح آئی ٹی کے شعبے میں گزشتہ سال 18 فیصد اضافے کے ساتھ برآمدات ریکارڈ 3.8 ارب ڈالر ممکن ہوئیں ۔ ازبکستان کے صدر کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔ خصوصاًازبک صدر کی جانب سے پاکستانی تاجروں کواگلے دس سالوں کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے اعلان سے بھی تجارتی تعلقات مزیدمضبوط ہونگے ۔ اِسی طرح ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ کے حوالے سے پاکستان، افغانستان اورازبکستان اگراِس میگا منصوبے کوعملی جامع پہناتے ہیں تو نہ صرف مشرقی ایشیا،جنوبی ایشیا اوروسطی ایشیا کے درمیان رابطے بڑھیں گے بلکہ محفوظ اورسستے ٹرانسپورٹ پرمبنی تجارت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

Exit mobile version