خاص خبریں

اسرائیل کے مظالم نے انسانی جانوں اور عالمی ضمیر کے قبرستان بنا دیئے: اسحاق ڈار

اسرائیل کے مظالم نے انسانی جانوں اور عالمی ضمیر کے قبرستان بنا دیئے: اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے بلاتفریق مظالم انسانی جانوں اور عالمی ضمیر کے لیے قبرستان بن گئے ہیں۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے وقار، آزادی اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، فلسطین میں انسانی مصائب کی غیر معمولی شدت پر عالمی برادری فوری اور مؤثر ردعمل دے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن کیلئے مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شرکت کے لیے فوج بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطینی مزاحمتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل اور غزہ امن منصوبہ تشدد کے تسلسل کو روکنے اور پائیدار امن کے حصول کا موقع فراہم کرتے ہیں، اسرائیل کو فوری طور پر انسانی امداد تک رسائی، افواج کی مکمل واپسی اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی اجازت دینی ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع فلسطینی علاقوں کی یکجہتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے، پاکستان فلسطینی مسئلے کے منصفانہ، دیرپا اور جامع حل کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور اس فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ آزادی، وقار اور خود ارادیت کے حق کی جدوجہد میں یکجہتی میں کھڑا رہے گا۔
علاوہ ازیں دفتر خارجہ سے جاری بیان میں پاکستان نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن پر غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی عوام نسلوں سے جارحیت، محرومی اور بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اسرائیلی مظالم نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، یہ بربریت برداشت نہیں کی جاسکتی، اسرائیل کے جنگی جرائم اور نسل کشی جیسے اقدامات پر جواب دہی ناگزیر ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں دو ریاستی حل کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزاد، خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کی حمایت دہراتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے