Site icon Daily Pakistan

اسلام آباد کا خودکش حملہ

اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ محض ایک اور خونی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس سوچ کا اظہار تھا جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا، قوم کو خوف میں مبتلا کرنا اور معاشرے کو باہم تقسیم کرنا ہے۔ دہشت گرد کبھی افراد کو نشانہ نہیں بناتے، وہ دراصل ریاستی رِٹ، قومی یکجہتی اور عوام کے حوصلے پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ دہشتگردی کی بنیادی حکمتِ عملی ہی یہ ہے کہ عام آدمی خود کو غیر محفوظ سمجھے، اداروں پر اعتماد متزلزل ہو اور قوم نسلی، لسانی، مذہبی یا سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے سے الجھتی رہے ۔ اسلام آباد جیسے حساس اور وفاقی دارالحکومت میں خودکش حملہ اس بات کا اعلان ہے کہ دشمن خوف کو دارالحکومت کے دل تک لے جانا چاہتا ہے تاکہ پورا ملک لرز جائے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم ہر واقعے کے بعد چند رسمی بیانات، تعزیتی پیغامات اور وقتی سیکیورٹی الرٹس تک محدود ہو جاتے ہیں، مگر اصل سوالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ کیا ہماری ریاستی ترجیحات درست سمت میں ہیں؟ کیا جن اہلکاروں کو قومی سلامتی کے تحفظ پر مامور ہونا چاہیے، وہ واقعی اسی مقصد کیلئے استعمال ہو رہے ہیں؟یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں، وزرا اور بااثر شخصیات کے طویل پروٹوکول میں درجنوں نہیں بلکہ بعض اوقات سینکڑوں پولیس اور سیکیورٹی اہلکار مصروف ہوتے ہیں، جبکہ عوامی مقامات، داخلی راستے، تعلیمی ادارے اور شہری مراکز سیکیورٹی کے فقدان کا شکار نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاست افراد کی حفاظت کیلئے ہے یا اداروں اور عوام کے تحفظ کیلئے؟ حکمرانوں کو اب سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ذاتی نمود و نمائش اور شاہانہ پروٹوکول سے نکل کر قومی سلامتی کو اولین ترجیح بنائیں۔ اگر ایک وزیر یا افسر کم پروٹوکول میں سفر کر لے تو شاید اس کی شان میں کمی نہ آئے، لیکن اگر وہی اہلکار عوام کی حفاظت پر لگ جائیں تو کئی قیمتی جانیں بچ سکتی ہیں۔دہشتگردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں ہوتا، اس کیلئے قومی یکجہتی، ریاستی انصاف اور درست ترجیحات ضروری ہوتی ہیں ۔ جب قوم یہ دیکھتی ہے کہ اس کے محافظ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، نہ کہ صرف اقتدار کے ایوانوں کے گرد، تو دہشت گردی خود بخود اپنی زمین کھو دیتی ہے۔اسلام آباد کے واقعے نے ایک بار پھر ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ دشمن ہمارا اتحاد توڑنا چاہتا ہے، اور ہمیں جواب میں اتحاد ، شعور اور ذمہ دار قیادت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اب وقت ہے ریاستی وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑا جائے کیونکہ محفوظ قوم ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔

Exit mobile version