قدرتِ الٰہی نے انسان کے وجود کو اس حسنِ ترتیب سے تخلیق فرمایا ہے کہ اس کے ہر عضو کی صحت اور کارکردگی دوسرے اعضا سے جڑی ہوئی ہے۔ جسم کا کوئی ایک حصہ بھی اگر کمزور پڑ جائے تو پورا وجود متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ان اعضا میں سب سے اہم دل ہے، جو لمحہ بہ لمحہ خون کو دماغ کی فکری سلطنت سے لیکر پاؤں کی آخری رگ تک پہنچاتا رہتا ہے۔ اگر غفلت، بیماری یا کسی بیرونی سبب سے شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہو جائے، خون جمنے لگے یا بہاؤ سست پڑ جائے تو ابتدا میں ادویات سے علاج کیا جاتا ہے۔ اگر یہ تدابیر ناکافی ثابت ہوں تو اسٹنٹ کے ذریعے بند رگ کھولی جاتی ہے اور جب خطرہ زندگی تک جا پہنچے تو بائی پاس سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے تاکہ جسم کا نظام باقی رہ سکے۔آج پاکستان کی کیفیت بھی کچھ اسی مانند ہے۔ اقوامِ عالم کے جسم میں پاکستان ایک ایسے دل کی حیثیت رکھتا ہے جو جغرافیائی، سیاسی، تجارتی اور عسکری اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ملک تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے اور اس کے کندھوں پر صرف اپنی سرحدوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون اور قربانی دی، مگر اسے ایک مسلسل ناسور کا سامنا رہا؛ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی، جسے بھارتی سرپرستی اور سازشوں نے مزید ہوا دی۔ اس بیرونی مداخلت نے پاکستان کے امن، استحکام اور فطری قومی رفتار کو بری طرح متاثر کیا۔پاکستان نے غیر معمولی صبر و تحمل کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ان مسائل کے حل کی کوشش کی۔ مگر جب بات چیت مستقل امن کا راستہ نہ کھول سکی تو ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کیلئے عسکری کارروائیاں ناگزیر ہو گئیں۔ یہ اقدامات کسی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ بقاء کی ضرورت تھے۔ افسوس کہ آج بھی سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں اور ان کی ڈوریں بیرونی ہاتھوں سے ہلائی جا رہی ہیں۔ان نازک حالات میں بعض برادر اسلامی ممالک نے ثالثی اور مفاہمت کی مخلصانہ کوششیں کیں۔ قطر اور ترکیہ سمیت کئی دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کو فروغ دینے کیلئے اپنی خدمات پیش کیں تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے ۔ ان کوششوں کے پیچھے یہ امید کارفرما تھی کہ دانائی، برداشت اور باہمی احترام دشمنی اور ضد پر غالب آ جائیں گے، مگر افغانستان کی جانب سے اپنی سرزمین کو دشمنانہ سرگرمیوں سے پاک نہ کرنے کے باعث یہ تمام کاوشیں بے نتیجہ رہیں۔اصل المیہ صرف بدامنی نہیں بلکہ وہ بے شمار مواقع ہیں جو مسلسل کشیدگی کی نذر ہو رہے ہیں۔ وسطی ایشیا، جس میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان شامل ہیں، قدرتی گیس، تیل، یورینیم اور نایاب معدنیات کے عظیم ذخائر رکھتا ہے۔یہ ممالک سمندر سے محروم ہونے کے باعث عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتے۔ ان کے جنوب میں پاکستان اور افغانستان ایسے قدرتی پل کی حیثیت رکھتے ہیں جو ان وسائل کو جنوبی اور مشرقی ایشیا، خصوصاً چین اور بھارت کی توانائی کی ضروریات سے جوڑ سکتے ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا توانائی استعمال کرنیوالا ملک ہے جبکہ بھارت تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت رکھتا ہے، اور دونوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد زمینی راہداریوں کی شدید ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان کے راستے گیس و تیل کی پائپ لائنیں، جدید شاہراہیں اور تیز رفتار ریل نیٹ ورک قائم ہو جائیں تو یہ راہداری ہر سال اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرسکتی ہے۔ اس سے صنعتوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے بیشمار مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو گا اور دونوں ممالک امداد کے محتاج رہنے کے بجائے علاقائی تجارت کے مراکز بن سکتے ہیں۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں عالمی تجارت کے دروازے بن سکتی ہیں جبکہ مجوزہ ریل اور سڑکوں کا جال وسطی ایشیا کے میدانوں کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملا سکتا ہے۔ مگر یہ خواب ایک ہی بڑی رکاوٹ کے باعث حقیقت نہیں بن پا رہا؛ افغانستان میں پائیدار امن اور ذمہ دار حکمرانی کا فقدان ۔ پاکستان اور افغانستان ملکر اس پورے خطے میں رسد اور طلب کے درمیان قدرتی رابطہ ہیں۔ جنگ اور بدامنی کی راہداری کو تجارت اور خوشحالی کی شاہراہ میں تبدیل کرنا ناممکن نہیں، مگر اس کیلئے کابل کو سنجیدہ سیاسی بصیرت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ افغانستان جو خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے، اپنے ہمسایوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تجارتی روابط کے بغیر مستحکم اور خود کفیل مستقبل تعمیر نہیں کر سکتا۔ آج اس کے سامنے واضح انتخاب موجود ہے؛ یا تو وہ تجارت اور ترقی کی راہداری بنے جو اپنے عوام کو خوشحالی دے، یا پھر تنازعات کی گزرگاہ بن کر عالمی امداد پر انحصار اور تنہائی کی زندگی گزارے۔ امن اور رابطہ سازی کے فوائد دونوں ممالک کیلئے یکساں اور بے حد وسیع ہیں ۔ اگر خطے میں استحکام آ جائے تو سرحدی تجارت پھلے پھولے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور ہزاروں پاکستانیوں اور افغانوں کو روزگار ملے گا۔ کابل کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے پاکستان دشمن گروہوں کی حمایت ترک کرنا ہوگی اور بلوچستان و سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانے والے نیٹ ورکس کیخلاف قابلِ اعتماد اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ افغان عوام جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں کی سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ آیا وہ پراکسی جنگوں اور تنہائی سے بھرا مستقبل چاہتے ہیں یا ایسا کل جس میں تجارت ، رابطے اور اجتماعی ترقی کی روشنی ہو ۔ اس پورے منظرنامے کے اثرات صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں۔ بلوچستان نایاب معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونیوالے قیمتی عناصر کے وسیع ذخائر رکھتا ہے۔ مگر جب تک دہشت گردی کا سایہ موجود رہے گا، اس دولت سے بھرپور فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ بلوچستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کے مفاد میں بھی ہے، جو محفوظ تجارتی راستوں اور اہم معدنیات کی متبادل رسد کے خواہاں ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری پر بھی لازم ہے کہ وہ کابل کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے، دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے پر آمادہ کرے۔ قدرت نے اس خطے کو جغرافیے، وسائل اور امکانات کی بے مثال نعمتوں سے نوازا ہے۔ اب یہ اس کے حکمرانوں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوراندیشی، حکمت اور تدبر سے ان رکاوٹوں کو دور کریں تاکہ ترقی، امن اور خوشحالی کا بہاؤ اسی طرح جاری ہو سکے جیسے ایک صحت مند دل پورے جسم میں زندگی کی حرارت اور توازن برقرار رکھتا ہے۔
افغانستان، پاکستان اور خوشحالی کی راہداری

