سال 2025ء پاکستان کی معیشت کیلئے انتہائی مثبت رہا۔خصوصاًبیرونی سرمایہ کاری نے جہاں ملکی معیشت کوبھرپورسہارادیاوہیں بین الاقوامی تاجروں نے بھی گزشتہ سال کی نسبت پاکستان میں تجارت کے حوالے سے بھرپور دلچسپی لی اوربیرون ملک کی چیمبرز پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بہترین ملک قراردے رہے ہیں۔ خصوصاًعالمی سطح کی نئی کمپنیاں بھی توانائی کے شعبے میں پاکستان آرہی ہیں۔حکومت کی جانب سے نئے سال 2026ء تک بین الاقوامی کمپنیوں کی پاکستان میں تجارت کے حوالے سے بھی مزیداضافے کی اُمید کی جارہی ہے۔اِسی طرح رواں سال کے آخری مہینوں میںپاکستان کی برآمدات کی کارکردگی بھی پہلے کی نسبت متاثر کن رہی اور مجموعی برآمدات میں 5فیصد جبکہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 20فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ۔اِسی طرح ملک میں ترسیلات جو گزشتہ سال 38 ارب ڈالر تک پہنچی تھی رواں سال 41ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی بھی توقع کی جارہی ہے ۔پاکستان کی معیشت کی مضبوطی کیلئے وزیر اعظم شہبازشریف کے بین الاقوامی دورے بھی انتہائی مثبت رہے۔ خصوصاًسعودی عرب، متحدہ عرب امارات،چین،تُرکیہ ،ا یران ،ملائیشیاء کے ساتھ ساتھ پاکستان نے وسط ایشیائی ممالک سے بھی اپنی دوطرفہ تجارت کومزیدمضبوط کیاخصوصاًآذربائیجان اور پاکستان نے دوطرفہ تجارت کومزید بڑھانے کیلئے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ روزہی وسطی ایشیاء کے اہم ملک کرغزستان کے صدر صادرژپاروف بھی دوروزہ دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں ،آذربائیجان، تُرکمانستان،تاجکستان کی طرح کرغزستان کیساتھ بھی دوطرفہ تجارتی تعلقات نئے دورمیں داخل ہوں گے۔رواں سال جہاں اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری دیکھنے کوملی وہیں یہ سال پاکستان کیلئے امتحان کاسال بھی رہا۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب نے گلگت بلتستان سے سندھ اوربلوچستان سے پنجاب اورآزادکشمیر تک کومتاثر کیا۔ا عدادوشمار کے مطابق سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ 822 بلین روپے( 2.9 بلین ڈالر) سے زیادہ ہے۔ خصوصاً زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جو کل نقصانات کا تقریباً نصف ہے، انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ اور پاور سیکٹر کوبھی نقصان پہنچا۔لیکن ۔حکومتی بروقت اقدامات کے باعث جہاں قیمتی انسانی جانوں کا بچائو کیاگیا وہیں ریلیف کیلئے بھی تیز تراقدامات کئے گئے اِس حوالے سے صوبائی حکومتوں نے بھی وفاقی حکومت کابھرپور ساتھ دیا۔معیشت کے حوالے سے وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کے سربراہ وفاقی وزیربرائے خزانہ محمد اورنگزیب نے تمام مصائب اور مشکلات کے باوجود معیشت کیلئے بہترین کام کیا۔گزشتہ روزہی وزیر اعظم محمدشہبازشریف کی زیر صدارت کسٹمز ڈیوٹی اورتجارتی شعبہ میں دیگر اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر جائزہ اجلاس کاانعقاد ہوا ،وزیر اعظم کو ورکنگ گروپ کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ برآمدات پر مبنی دیر پا معاشی ترقی ملک میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے، حکومتی تحفظ اور انفراسٹرکچر کی بہتری سے ہی ممکن ہو سکتی ہے،ملک کے نمائندہ کاروباری حضرات پر مبنی ذیلی ورکنگ گروپ کی طرف سے محمد علی ٹبہ اور دیگر نے وزیراعظم کو کسٹمز اور ٹیکس وصولی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی سفارشات پیش کیں۔ وزیراعظم نے برآمدات پرمبنی دیرپامعاشی ترقی کیلئے فوری طور پران سفارشات کا خیر مقدم کیا اور کاروباری ، سرمایہ کار حضرات کو ہر ممکن سہولت دینے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو خصوصی ہدایات دیں۔اجلاس میں وزیر اعظم نے اقتصادی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی صنعتی پیداوار اور تجارت میں اضافے کے لیے شعبہ جاتی مخصوص تجاویز اور مسائل کی نشاندہی نا گزیر ہے۔ دہائیوں سے معاشی و صنعتی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کو ریسرچ اور ٹریننگ پر استعمال نہیں کیا گیا، ملکی برآمدات اور درآمدات کے شعبہ میں ماہرین کی طرف سے سفارشات اور اصلاحاتی تجاویز حقیقت پر مبنی اعداد و شمار کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت و تجارت اور مقامی آبادی کے لیے صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،حکومت کی طرف سے منظور کردہ قومی ٹیرف پالیسی ایک انقلابی قدم ہے جو ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ مقامی اور عالمی منڈیوں میں کاروبار کو مسابقتی بناتی ہے۔وزیراعظم نے اجلاس میں ہدایت کی کہ دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور راہداری (ٹرانزٹ) تجارتی مصنوعات کی بارڈر پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کی کڑی نگرانی کی جائے۔ قارئین کرام! رواں سال 2025ء پاکستان کی معیشت تمام ترمشکلات اور مصائب کے باوجود مزیدبہتری کی جانب گامزن ہے اور اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری حکومتی اقدامات کامنہ بولتاثبوت ہے ۔اُمیدواثق ہے کہ آنیوالاسال پاکستان کی ترقی کیلئے انتہائی نیک شگون ہوگا اورانشااللہ وُہ وقت دورنہیں جب پاکستان خطہ میں تجارتی مرکزکی حیثیت اختیار کرے گا۔

