مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑا فوجی بحران اس وقت پیدا ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے 28فروری 2026کو ایران پر مشترکہ اور وسیع پیمانے پر حملہ کیا، جس میں جوہری تنصیبات، میزائل اڈوں اور قیادت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی حالیہ دہائیوں کی سب سے سنگین فوجی کشیدگیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے اور اس نے فوری طور پر خطے کو ایک وسیع جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ حملوں کا خاص ہدف تہران اور دیگر اہم مقامات تھے جہاں ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں سیکڑوں طیارے اور جدید رہنمائی شدہ میزائل استعمال کیے گئے جنہوں نے ایران کے مختلف حصوں میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا۔ فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ سائٹس اور کمانڈ سینٹرز بنیادی اہداف میں شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے جن میں بتایا گیا تھا کہ ایران کی اعلی قیادت تہران کے ایک محفوظ مقام پر موجود ہے۔سب سے اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ان حملوں میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی وفات کے ساتھ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط قیادت کا اختتام ہو گیا اور ایران کے اندر ایک بڑا سیاسی خلا پیدا ہو گیا۔ ایرانی حکام نے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے اس قتل کو سنگین جرم قرار دیا اور عزم ظاہر کیا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔سپریم لیڈر کے ساتھ کئی سینئر ایرانی عہدیدار اور فوجی کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق سینئر مشیر علی شمخانی اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر محمد پاکپور بھی تہران میں ہونے والے حملوں میں مارے گئے۔ اعلی قیادت کی اس بڑی تعداد میں ہلاکت نے ایران کے کمانڈ ڈھانچے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور ملک کے مستقبل کی سمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے کئی شہروں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ابتدائی مراحل میں دو سو سے زائد افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی خبر دی گئی۔ جنوبی ایران میں ایک مہلک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک میزائل حملے میں طالبات کا ایک اسکول تباہ ہو گیا جس سے بھاری جانی نقصان ہوا اور عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوئی۔حملوں کے فورا بعد ایران نے سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا۔ ایرانی افواج نے اسرائیلی علاقے اور مشرقِ وسطی میں امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون داغے۔ کئی خلیجی ممالک نے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی اطلاع دی، جبکہ خطے کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ صورتحال تیزی سے ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ایران کی انقلابی گارڈ نے خبردار کیا کہ اسرائیل اور امریکی افواج کے خلاف مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایرانی رہنماں نے کہا کہ سپریم لیڈر اور سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا اور ملک اپنی خودمختاری کے خلاف کسی جارحیت کو قبول نہیں کرے گا۔ ایران بھر میں فوجی الرٹ کی سطح بلند کر دی گئی جبکہ خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کو بھی تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔اس بحران کے اثرات پورے مشرقِ وسطی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ کئی ممالک نے کشیدگی کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے۔ تجارتی پروازیں معطل ہو گئیں اور ہزاروں مسافر مختلف ممالک میں پھنس گئے۔ خلیج میں تیل کی اہم گزرگاہیں بھی خطرے میں سمجھی جا رہی ہیں، خاص طور پر اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے۔حملوں پر بین الاقوامی ردعمل شدید اور منقسم رہا۔ بعض مغربی رہنماں نے ان کارروائیوں کو سیکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ کئی ممالک نے فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقوامِ متحدہ نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور خبردار کیا کہ جاری لڑائی ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے عالمی نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔اس بحران کے اثرات مشرقِ وسطی سے باہر بھی محسوس کیے گئے۔ ایرانی رہنما کی ہلاکت کے بعد کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ پاکستان میں مظاہرے پرتشدد صورت اختیار کر گئے اور مظاہرین نے کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ یہ واقعات مسلم دنیا میں اس تنازع کے باعث پیدا ہونیوالے شدید جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے کیونکہ فوجی کارروائیاں اور جوابی حملے جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتی ہے۔ طویل تنازع کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، اور دونوں جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو مزید فوجی کارروائی ممکن ہے۔
امریکہ اسرائیل کا ایران پر حملہ

