Site icon Daily Pakistan

امریکہ ایران سمجھ داری کو انا پر فوقیت دیں

کے لیے تیار ہے ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکہ امن مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی کیونکہ پہلے دور کی ناکامی کے بعد ابھی تک کسی حتمی پیش رفت پر اتفاق نہیں ہو سکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران اس آبی راستے کو بند کر کے امریکہ کو بلیک میل نہیں کر سکتا اگر بدھ تک کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے کیونکہ اس روز دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے درست سمت میں آگے بڑھنے والے مذاکراتی عمل میں اچانک پیدا ہونے والا یہ تعطل بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ آیا یہ محض وقتی رکاوٹ ہے یا کسی بڑی پیش رفت سے قبل دبا بڑھانے کی حکمت عملی؟ ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا ایرانی فوج نے اسے دوبارہ بند کردیا کیا ایرانی سیاسی اور فوجی قیادت ان مذاکرات پر ایک صفحے پر نہیں؟ کیا سیاسی قوتیں امریکہ سے ڈیل کرنا چاہتی ہیں جبکہ پاسداران انقلاب اس کے مخالف ہیں ایران میں فیصلہ سازی کے مراکز کئی گروہ میں تقسیم ہیں ایسے میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اس صورت حال میں مذاکرات کس حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوں گے؟دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے تناظر میں لبنان جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیوں نے بھی صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے الغرض یہ صورت حال ایران اور امریکہ کے درمیان بد ترین اعتماد کے بحران کی عکاس ہے اگرچہ دونوں فریق مداکرات کی پیش رفت کے لئے پر امید نظر آتے ہیں مگر ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے یا مذاکراتی عمل میں دوسرے فریق کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن کے تاثر کو بر قرار رکھنا چاہتے ہیں مذاکراتی عمل میں ایسا ہونا حیران کن نہیں موجودہ مرحلے پر اس صورت حال کو بہرحال مذاکرات میں ڈیڈ لاک قرار دینا قبل از وقت ہوگا حقیقت یہ ہے کہ پس پردہ رابطے جاری ہیں مگر باضابطہ مذاکراتی فریم ورک کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی تاخیر تکنیکی اور پس پردہ بارگینگ کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے ایران کو امریکی قیادت پر مکمل اعتماد نہیں جبکہ امریکہ کو ایران کے علاقائی کردار پر تحفظات ہیں جس کے باعث غیر یقینی کی فضا قائم ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل سے واپسی مشکل ہے جنگ بندی خود دونوں فریقین کی ضرورت بن چکی ہے توقع یہی ہے کہ جنگ بندی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے متعلق کوئی بڑی پیش رفت سامنے آسکتی ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین تحمل برد باری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں او رایسے بیانات یا لب ولہجہ سے گریز کیا جائے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے یا امن عمل کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہو ایران امریکہ مذاکرات اور جنگ بندی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل ذکر ہیں جن کی بدولت فریقین کو عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں مصروف کرنا ممکن ہوا ہے تاہم یہ احسن کوششیں اسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں جب ایران اور امریکہ سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ مذاکرات کو مستقل حل کے طور پر دیکھیں اور بیان بازی کی بجائے سنجیدہ سفارت کاری پر توجہ دیں تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں وہی ہوتی ہیں جو وقت پر سمت بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں سخت موقف ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتا بعض اوقات لچک ہی اصل طاقت ہوتی ہے اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جنگ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی ایک نہ ایک دن اسے ختم ہونا ہی ہوتا ہے مذاکرات میں کوئی ایک فریق مکمل طور پر نہیں جیتتا بلکہ دونوں کو کچھ لے اور دے کرنا پڑتا ہے ایران اگر نیو کلیئر پروگرام آبنائے ہرمز اور پراکسیز سے متعلق امریکی شرائط مان لیتا ہے تو امریکہ ایران کے فریز کئے گئے 6 ارب ڈالر قطر سے ریلیز کرا سکتا ہے تہران پر عائد پابندیاں ختم کراسکتا ہے دنیا بھر سے تجارت شروع ہوسکتی ہے ایران دوبارہ تعمیر ہوسکتا ہے ایرانی قیادت کا اس موقع پر لچک دکھانا اس کی کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک فیصلہ ہوگا چالیس روز سے زائد جنگ کا سبق یہی ہے کہ فریقین میں مزید لڑائی کا جاری رہنا دونوں کے علاوہ خطے اور دنیا کے لئے شدید نقصان دہ ہے جنگوں کا خاتمہ اور پائیدار امن ہی انسانوں کو ترقی کے مثالی مواقع فراہم کرسکتا ہے چنانچہ فریقین اور ثالثوں کو مخلصانہ جذبے کے ساتھ بھرپور کوششیں کرنی چاہیے کہ اس بحران کا کوئی آبرو مندانہ حل نکل آئے- اگر امریکہ اور ایران اس وقت اپنی اپنی اناں کو بالائے طاق رکھ کر کوئی درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں تو یہ صرف ان دو ممالک نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے بہترین ریلیف ہوگا امریکہ اور ایران دونوں کو اس جنگ کو ختم کرکے نئی شروعات کرنی چاہیے او ریہ ناممکنات میں سے نہیں۔

Exit mobile version