عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک محاذ پر جنگ ٹلتی ہے تو اس کے اثرات کسی دوسرے خطے میں عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایران پر امریکی حملہ وقتی طور پر ٹلنے کے بعد یہی کیفیت آج یورپ میں محسوس کی جا رہی ہے، جہاں امریکی فیصلوں نے نہ صرف نیٹو اتحاد کو دبا میں ڈال دیا ہے بلکہ امریکہ اور یورپ کے درمیان اعتماد کی فضا بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی جانب سے ایران میں مجوزہ طور پر حکومت کی تبدیلی کا ایک ممکنہ منصوبہ زیرِ غور تھا۔ اس منصوبے کی بنیاد اندرونی بے چینی اور عوامی مظاہروں کو بڑھاوا دے کر ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔ تاہم ایرانی حکومت نے مظاہرین پر قابو پا کر اس منصوبے کو وقتی طور پر ناکام بنا دیا، جس کے بعد اسرائیل اور امریکہ کو ایک بڑا سیاسی اور اسٹریٹیجک دھچکا لگا ہے ۔اسی تناظر میں امریکہ نے ایران پر براہِ راست فوجی حملے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ وقتی طور پر موخر کر دیا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے ممکنہ شدید ردعمل یا حملہ تھا جو نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ عالمی سطح پر جنگ کے دائرہ کار کو خطرناک حد تک وسیع کر سکتا تھا ایران نے واضح پیغام دیا تھا کہ حملے کی صورت میں ردعمل محدود نہیں ہوگا بلکہ خطے میں امریکی مفادات براہِ راست نشانے پر آ سکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے مسلسل اشتعال دلایا جا رہا تھا مگر اس کے باوجود پاکستان مشرق وسطی سمیت امریکہ کے تقریبا تمام اہم اتحادی اس جنگ کے خلاف تھے۔ اتحادی ممالک کا مقف واضح تھا کہ ایران پر حملہ نہ صرف خطے کو آگ میں جھونک دے گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور نیٹو کے داخلی اتحاد کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔ایران پر حملہ رکنے کے فورا بعد امریکہ نے ایک نیا محاذ کھول دیا اور وہ محاذ یورپ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ جون سے 25 فیصد تک ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دے دی گئی۔ یہ فیصلہ محض تجارتی نہیں بلکہ واضح طور پر سیاسی اور عسکری پس منظر رکھتا ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکے اور یورپ پر ٹیرف عائد کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ نیٹو ممالک نے اپنی افواج گرین لینڈ میں تعینات کر دی ہیں۔ گرین لینڈ، جو جغرافیائی طور پر آرکٹک خطے میں واقع ہے آج عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے اسٹریٹیجک مقابلے کا مرکز بن چکا ہے۔صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ گرین لینڈ کو یا تو خرید لیا جائے یا کسی صورت فوجی دبا کے ذریعے امریکی کنٹرول میں لایا جائے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے گرین لینڈ خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جسے ڈنمارک نے دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا تھا۔ڈنمارک، برطانیہ اور یورپی یونین کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق گرین لینڈ سلطنتِ ڈنمارک کا حصہ ہے جو ناقابلِ فروخت ہے اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کریں گے۔ اس معاملے پر یورپ کا مقف نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بھی سخت الفاظ میں امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر دبا یا دھمکیوں کی پالیسی نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ نیٹو کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط خصوصی تعلقات اس وقت شدید آزمائش میں ہیں اور باہمی اعتماد میں واضح دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔ برطانوی حکومت کا موقف بالکل واضح ہے ۔ گرین لینڈ کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے یہ سلطنتِ ڈنمارک کا حصہ ہے اور اس کا مستقبل گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کا فیصلہ ہے۔ہم یہ بات بھی واضح کر چکے ہیں کہ آرکٹک کی سلامتی پورے نیٹو کے لیے اہم ہے اور اتحادیوں کو مل کر آرکٹک کے مختلف علاقوں میں روس کی جانب سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے مزید اقدامات کرنے چاہئیں ۔ نیٹو کے اتحادیوں کی اجتماعی سلامتی کیلئے کی جانیوالی کوششوں پر اتحادی ممالک پر محصولات عائد کرنا بالکل غلط ہے اور ہم اس معاملے پر امریکی انتظامیہ سے براہِ راست بات کرینگے ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ آرکٹک خطہ تیزی سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ روس پہلے ہی وہاں اپنی عسکری موجودگی بڑھا چکا ہے، چین معاشی اور سائنسی بنیادوں پر داخل ہو رہا ہے، جبکہ امریکہ اب یورپ پر دبا ڈال کر اپنی برتری قائم رکھنا چاہتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے اتحادیوں پر معاشی پابندیاں عائد کر کے نیٹو کو مضبوط بنا سکتا ہے؟ یا یہ اقدامات دراصل مغربی اتحاد کو اندر سے کمزور کر رہے ہیں؟ ایران پر حملہ ٹالنے کے بعد یورپ پر دبائو ڈالنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی پالیسی اس وقت دفاعی کم اور جارحانہ زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔اگر یہی روش جاری رہی تو ایران پر جنگ نہ سہی، مگر یورپ اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ جیسی کیفیت ضرور جنم لے سکتی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں عالمی طاقتوں کو جذبات نہیں بلکہ دانش مندی سے فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر بندوق سے نہیں بلکہ غلط فیصلوں سے شروع ہوتی ہیں۔
امریکی جنگ کے بادل یورپ پر منڈلانے لگے

