ہر سال دسمبر میں منایا جانے والا عالمی یومِ انسانی حقوق محض ایک رسمی دن نہیں، بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونا صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ عزت، آزادی، انصاف اور برابری کے ساتھ جینے کا حق بھی انسان ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر انسان کو انسان سمجھا جاتا ہے؟ اس تناظر میں دیکھا جائے توانسانی حقوق کا تصور بہت پرانا ہے، مگر اسے باقاعدہ عالمی حیثیت 1948 میں اس وقت ملی جب دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق منظور کیا۔ کروڑوں انسانوں کی ہلاکت، نسل کشی، جبر اور ظلم نے دنیا کو یہ باور کرا دیا تھا کہ اگر انسان کے حقوق کو تسلیم نہ کیا گیا تو انسان خود انسان کا سب سے بڑا دشمن بن جائے گا۔ یہ اعلامیہ دراصل انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ایک کوشش تھا۔عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے مطابق ہر انسان کو زندگی، آزادی، تعلیم، اظہارِ رائے، مذہبی آزادی، انصاف تک رسائی اور باعزت روزگار کا حق حاصل ہے۔ یہ حقوق کسی ریاست کی مہربانی نہیں بلکہ پیدائشی حق ہیں۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں یہ حقوق کاغذی نعروں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو انسانی حقوق کی پامالی کی بے شمار مثالیں سامنے آتی ہیں۔ کہیں جنگوں میں معصوم بچے بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، کہیں عورتیں بنیادی حقوق سے محروم ہیں، کہیں اقلیتوں کو ان کی شناخت کی سزا دی جا رہی ہے، اور کہیں غربت انسان سے اس کا وقار چھین لیتی ہے۔ یہ سب سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا عالمی یومِ انسانی حقوق واقعی منایا جا رہا ہے یا صرف مناتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے؟
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہاں غربت، ناخواندگی، طبقاتی فرق اور کمزور قانون کی عملداری انسانی حقوق کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک طرف آئین ہر شہری کو برابر کے حقوق دیتا ہے، تو دوسری طرف عملی زندگی میں طاقتور کمزور کو کچل دیتا ہے۔ مزدور کی محنت سستی، عورت کی آواز کمزور اور بچے کا مستقبل غیر محفوظ نظر آتا ہے۔عورتوں کے حقوق آج بھی ایک بڑا سوال ہیں۔ اگرچہ قوانین موجود ہیں، مگر سماجی رویے اب بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کہیں غیرت کے نام پر قتل، کہیں جبری شادیاں، کہیں تعلیم سے محرومی یہ سب انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ قوانین کیوں ناکام ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ انصاف کو قبول کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں؟
بچوں کے حقوق بھی شدید خطرے میں ہیں۔ تعلیم، تحفظ اور خوشگوار بچپن ہر بچے کا حق ہے، مگر گلیوں میں کام کرتے بچے، فیکٹریوں میں مشقت کرتے ننھے ہاتھ اور اسکول سے محروم چہرے ہمیں خاموشی سے مجرم ٹھہراتے ہیں۔ ایک معاشرہ جو اپنے بچوں کو محفوظ نہ رکھ سکے، وہ اپنے مستقبل کو خود اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔اظہارِ رائے کی آزادی انسانی حقوق کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، مگر جب سوال پوچھنا جرم بن جائے، اختلاف دشمنی میں بدل جائے اور سچ بولنے والا خطرہ بن جائے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا مطلب صرف بولنے کی اجازت نہیں بلکہ بغیر خوف کے بولنے کا حق ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی صرف ریاستوں کی جانب سے نہیں ہوتی، بلکہ ہم خود بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ جب ہم کمزور کو خاموش دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، جب ہم ناانصافی کو نظرانداز کرتے ہیں، جب ہم اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں تو ہم بھی اس ظلم کے حصہ دار بن جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کا دفاع صرف تقاریر سے نہیں بلکہ رویوں سے ہوتا ہے۔عالمی یومِ انسانی حقوق ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم نے انسانیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا ہم نے کسی کی عزت مجروح کی؟ کیا ہم نے کسی کا حق دبایا؟ کیا ہم نے کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھائی؟ یہ دن ہمیں آئینہ تو دکھاتا ہے، مگر اکثر اس آئینے میں نظر آنے والی تصویر ہمیں پسند نہیں آتی۔تاہم مایوسی حل نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ شعور بیدار ہو تو تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔
تعلیم، آگاہی، انصاف اور مضبوط ادارے انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیاد ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔اپنے بچوں کو احترام سکھا کر، عورت کو برابر سمجھ کر، اختلاف کو برداشت کر کے اور قانون کو سب کے لیے یکساں مان کر۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی یومِ انسانی حقوق ہمیں صرف یاد دہانی نہیں کراتا بلکہ ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت زندہ رکھنی ہے تو انسان کے حقوق کا تحفظ لازم ہے۔ کیونکہ جس دن انسان کے حقوق مر جاتے ہیں، اس دن معاشرہ بھی مردہ ہو جاتا ہے۔انسانی حقوق کا احترام دراصل انسان ہونے کا احترام ہے۔
کالم
انسانی حقوق کا عالمی دن
- by web desk
- دسمبر 15, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 126 Views
- 3 ہفتے ago

