Site icon Daily Pakistan

انقلاب یا فتنہ،خارجی نور ولی محسود کی کتاب کا فکری جائزہ

خارجی نور ولی محسود پچھلے چند برسوں سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ہیں۔ انقلاب محسودانکی ایک مشہور کتاب ہے، جسے کالعدم ٹی ٹی پی کے حلقے اور ان کے اتحادیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کے مندرجات کو فتنہ خوارجیت پر مبنی ویب سائٹس بھی نقل کرتی اور پھیلاتی ہیں۔ خارجی نور ولی محسود کے ساتھیوں کے نزدیک یہ دراصل کالعدم ٹی ٹی پی کا فکری بیانیہ ہے۔اس کتاب کا فکری جائزہ اور تجزیہ کرتے ہیں، مگر پہلے یہ بات بتاتے چلیں کہ خارجی نور ولی محسود کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق سربراہان بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ ان کی شناخت محض ایک جنگجو کی نہیں بلکہ ایک نظر یہ سازکی بھی ہے۔ خارجی نور ولی محسود کو کالعدم ٹی ٹی پی اور ان کے شدت پسند اتحادیوں کے حلقے میں سب سے نمایاں عالم مانا جاتا ہے۔ ان کے دور میں کالعدم ٹی ٹی پی کو عسکری کیساتھ ساتھ فکری سطح پر ری لانچ کرنے کی کوشش کی گئی ۔یہ کتاب انقلابِ محسوداسی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے۔ اپنی کتاب میں دراصل انہوں نے شورش زدہ علاقوں کی تاریخ اور شدت پسندی کو ایک علمی بیانیہ دینے کی کوشش کی ہے۔کتاب میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کو جائز قرار دیا گیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی گئی جبکہ پاکستانی فوج پر الزامات عائد کیے گئے۔ کتاب کے ابتدائی ابواب میں برطانوی راج اور سوویت حملوں کے دور کا تذکرہ، جہاں مقامی قبائل کی مزاحمت اور جہاد کی بنیاد رکھی گئی۔جبکہ درمیانی حصے میں دو ہزار ایک کے بعد امریکی حملوں، ڈرون اسٹرائیکس، اور ضربِ عضب جیسے آپریشنز کی تفصیلات، بشمول بہادری کی خود بیان کردہ کہانیوں اور معاہدوں کی ناکامی کا تذکرہ ہے۔ آخری حصے میں کالعدم ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی کارروائیوں کا دفاع، جیسی ذمہ داریوں کا جواز اور مستقبل کی حکمت عملی بیان کی گئی ۔اس کتاب کے تین بنیادی مقاصد نظر آئے:تاریخی تسلسل: کتاب میں محسود قبائل کی برطانوی راج کیخلاف مزاحمت کو موجودہ ریاستِ پاکستان کے خلاف جنگ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔منہج: اس میں عسکری کارروائیوں کی تفصیلات کیساتھ ساتھ انکے پیچھے موجود مبینہ مذہبی و سیاسی جواز فراہم کیے گئے ہیں۔خارجی نور ولی کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی ریاست اور اسکا آئین غیر اسلامی ہے، لہٰذا اسکے خلاف خروج فرض ہے۔قبائلی عصبیت کا استعمال: وہ اسلامزم اور پشتون/محسود قوم پرستی کا ایک عجیب ملغوبہ سا پیش کرتے ہیں تاکہ مقامی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ عالمی جہادی بیانیے کو مقامی رنگ دے کر نوجوانوں کو ریاست کیخلاف اکساتے ہیں۔ کتاب میں کئی تضادات ہیں ۔ کتاب میں فقہ اور شریعت کی اصطلاحات کا سہارا تو لیا گیا ہے، مگر خونِ مسلم کی حرمت جیسے بنیادی اصول کو اپنی سہولت اور آسانی کے لئے نظر انداز کر دیا گیا۔ جگہ جگہ پر تاریخی تحریف بھی کی گئی، حقائق مسخ کئے گئے،جیسے برطانوی سامراج کیخلاف محسود قبائل کی مزاحمت آزادی کی جنگ تھی، مگر پاکستان جیسی ایک اسلامی ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانا بغاوت ہے۔ ان دونوں کو ایک ہی پلڑے میں تولنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
خارجی نور ولی محسود کے فکری مغالطے:
1: برطانوی راج اور ریاستِ پاکستان کا موازنہ ،کتاب میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ جس طرح محسود قبائل نے انگریزوں کیخلاف اپنی خود مختاری کی جنگ لڑی، آج کی ریاستِ پاکستان کیخلاف جنگ بھی اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ درحقیقت یہ بات درست نہیں۔ انگریز ایک غاصب غیر مسلم قوت تھی جس نے زمین پر قبضہ کیا تھا۔ پاکستان ایک آزاد اسلامی ریاست ہے جسکا آئین قرآن و سنت کے تابع ہونے کا عہد کرتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں مساجد آباد ہوں، اور مسلمان اپنے مذہب پر آزاد ہوں، وہاں وہی ہتھیار اٹھاناشرعی طور پر بغاو ت کے زمرے میں آتا ہے۔
2:نظام کی تبدیلی کا مسلح مطالبہ:دعوی ہے کہ چونکہ ملک کا نظام مکمل طور پر اسلامی نہیں ہے، اس لیے بندوق کے ذریعے تبدیلی لانا شرعی ضرورت ہے۔: اسلام میں نظام کی اصلاح کا طریقہ کار دعوت، تبلیغ اور پرامن جدوجہد ہے۔ مسلح تصادم یعنی ملیٹینسی معاشرے کو اصلاح کے بجائے انتشار اور انارکی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ویسے بھی فقہی اصول اخف الضررین(کم تر نقصان کو اختیار کرنا) کے مطابق، نظام کی چند خامیوں کی بنیاد پر پوری ریاست کو جنگ کی آگ میں جھونکنا، خود شریعت کے مقاصد کیخلاف ہے۔امام احمد بن حنبل، امام نووی اور امام غزالی سب اس بات پر متفق ہیں کہ خونریزی، فساد اور خانہ جنگی کسی شرعی مقصد سے بڑی برائی ہے۔
3: قبائلی عصبیت اور مذہب کا امتزاج:کتاب میں محسود قبیلے کی روایات اور انکی عسکری مہارت کو ایک مقدس مشن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔تجزیہ : عصبیت کی نفی خود شریعت نے کی ہے۔ اسلام نے نسل، قبیلے یا رنگ کی بنیاد پر عصبیت کو جاہلیت قرار دیا ہے۔ نور ولی محسود نے دین کو ایک مخصوص قبائلی رنگ دے کر اسے عالمی آفاقیت سے محروم کر دیا ہے۔ اس بیانیے نے خود محسود قبیلے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔4:جہاد : فرد کا فتوی یا ریاست کا اختیار؟خارجی نور ولی محسود جہاد کوریاست کے اختیار سے نکال کرمسلح گروہ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انقلابِ محسود خوارج کے نظریے سے جا ملتی ہے۔نبی اکرم ۖ نے فرمایا: "جو جماعت سے الگ ہوا، وہ جاہلیت کی موت مرا(صحیح مسلم)۔ امام ابن تیمیہ واضح کرتے ہیں : جہاد کا اعلان وہی کرے گا جسکے پاس اقتدار، نظم اور جواب دہی ہو۔ کتاب میں دہشت گرد حملوں میں مرنے والے بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کو:غیر ارادی نقصان حالاتِ جنگ کہہ کر نظرانداز کیا گیا ہے۔جبکہ قرآن کا دو ٹوک فیصلہ ہے: جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔نبی ۖ نے جنگ میں بھی بچوں ، عورتوں،غیر جنگجووں کے قتل سے سختی سے منع فرمایا۔اے پی ایس پشاور جیسے واقعات کو کسی فقہی موشگافی سے جائز نہیں بنایا جا سکتا۔ نبی ۖ نے خوارج کے بارے میں فرمایا: "وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ انکے حلق سے نیچے نہیں اترے گا(صحیح بخاری)۔حرف آخر:انقلابِ محسود کسی فکری بیداری یا اصلاحی جدوجہد کی دستاویز نہیں،یہ دین کے نام پر ریاستِ پاکستان کے خلاف اعلانِ فکری بغاوت ہے۔نہ مزاحمت۔ یہ سیدھ سادہ فساد فی الارض ہے۔تاریخ کا فیصلہ واضح ہے:جو گروہ شریعت کے نام پر ریاست کو توڑنے نکلے،وہ نہ دین بچا پاتے ہیں، نہ قوم ۔ آخرکار وہ خود اپنے ہی فکری اور اخلاقی ملبے تلے دب جاتے ہیں۔

Exit mobile version