Site icon Daily Pakistan

اکاب سکول برائے نابینا اطفال، روشنی اور عزم کا سفر

کچھ روز قبل معروف کالم نگار، مصنفہ، شاعرہ اور اینکر پرسن عائشہ مسعود کے ہمراہ میرپور، آزاد کشمیر میں واقع اکاب اسکول فار دی بلائنڈ کے دورے کا موقع ملا۔ اس موقع پر پریس کلب برطانیہ کے جنرل سیکرٹری ساجد یوسف بھی موجود تھے جن کی وساطت سے یہ موقع ملا، ہمارے پہنچتے ہی ایک معصوم نابینا بچی نے گلدستہ پیش کر کے خوش آمدید کہا۔ یہ لمحہ ایسا تھا جس نے ابتدائی طور پر دل کو ایک منفرد کیفیت سے دوچار کر دیا اور ہمیں اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ یہاں ہر چھوٹا واقعہ بھی بچوں کی خوداعتمادی اور معاشرتی تعلق کا حصہ بنتا ہے۔ یہ محض ایک ادارے کا دورہ نہیں تھا بلکہ زندگی کے ایک ایسے رخ سے آشنائی تھی جس نے دل کو بیک وقت دکھ اور خوشی کے متضاد احساسات میں مبتلا کر دیا۔ نابینا بچوں کو دیکھ کر دل فطری طور پر بوجھل ہوا، مگر جیسے ہی ان کے چہروں پر اعتماد، لہجوں میں خودداری اور انداز میں وقار محسوس کیا تو وہی بوجھ ایک عجیب سی خوشی میں بدل گیا۔ یہ بچے کسی ترس کے منتظر نہیں تھے، یہ اپنی جگہ بنانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔اسی لمحے یہ احساس شدت سے جاگا کہ اصل اندھاپن آنکھوں کا نہیں، سوچ کا ہوتا ہے۔ اور یہی سوچ آزاد کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں قائم آزادکشمیرایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ نے برسوں پہلے بدلنے کا بیڑا اٹھایا تھا، جسے آج ہم اکاب کے نام سے جانتے ہیں۔ اکاب کی کہانی 1994 میں شروع ہوئی، جب پروفیسر الیاس ایوب، جو خود بصارت سے محروم ہیں، نے اپنی ذاتی محرومی کو اجتماعی طاقت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک گہری روحانی پکار، ایک فکری بصیرت اور اللہ تعالی پر کامل یقین کا مظہر تھا۔ وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ نابینا افراد کا اصل مسئلہ ان کی معذوری نہیں بلکہ وہ معاشرتی رکاوٹیں ہیں جو ان کے راستے میں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ابتدائی دنوں میں اکاب ایک چھوٹے سے دفتر، ایک کمرہ جماعت اور چند رہائشی سہولتوں تک محدود تھا، مگر ان دیواروں کے اندر ایک ایسا خواب سانس لے رہا تھا جو عزت، خودمختاری اور علم سے جڑا ہوا تھا۔ یہ ادارہ خیرات یا ہمدردی کے تصور پر نہیں بلکہ اس اصول پر کھڑا کیا گیا کہ نابینا افراد کو ترس نہیں، برابر کے مواقع دیے جانے چاہئیں۔پروفیسر الیاس ایوب سے ملاقات ایک انمول لمحہ تھی۔ ان کے چہرے پر حوصلہ، عزم اور یقین واضح تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے سفر اور اکاب کے قیام کی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ نابینا بچوں میں خود اعتمادی، قیادت اور سماجی شعور پیدا کرنا ہے۔ ان کے تاثرات میں جو شوق اور جذبہ نظر آیا، اسے دیکھ کر واضح ہوا کہ یہ ادارہ محض تعلیمی مرکز نہیں بلکہ ایک حوصلہ افزا تحریک ہے جو معاشرے میں روشنی پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں بھی ان لمحات اور بچوں سے ہونے والی بات چیت کے تاثرات قلم بند کیے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ محدود آنکھیں محدود خواب نہیں بناتیں۔ اس ملاقات کے بعد ہم کانفرنس روم میں گئے، جہاں اکاب کے تاریخی سفر اور تربیتی پروگرامز پر مبنی ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ یہ ڈاکومنٹری دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کس طرح اکاب نے محدود وسائل میں نابینا بچوں کے لیے تعلیم، کھیل، ہنر اور فنی تربیت کو یکجا کیا اور انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کیا۔ ڈاکومنٹری میں بچوں کی کھیلوں، کلاس روم کی سرگرمیوں، بریل اور کمپیوٹر کے عملی مظاہروں اور سماجی پروگرامز کے مناظر شامل تھے۔ ہر سین میں حوصلے، لگن اور تربیت نمایاں تھی، اور یہ واضح ہوا کہ اکاب کے طلبہ کسی بھی شعبے میں دوسروں سے کم نہیں، بلکہ ان میں خود اعتمادی اور مہارت کی کمی نہیں ۔ دورے کے دوران ایک معلمہ مس آمنہ کی تدریسی قابلیت، تخلیقی ذہانت اور انتظامی مہارت نے خاص طور پر متاثر کیا جنہوں نے اسی سکول سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ وہ محض ایک استاد نہیں بلکہ بچوں کیلئے اعتماد، نظم اور رہنمائی کی علامت ہیں۔ ان کے کلاس روم میں تربیت کا طریقہ، بچوں کو سوال کرنے کی حوصلہ افزائی اور تخلیقی کاموں میں شامل کرنا واقعی قابل دید تھا۔ وہ ہمیں مکمل اعتماد کے ساتھ اس وسیع سکول کے کلاس رومز اور دیگر حصوں، انتظامی و رہائشی سیکشنز کا دورہ کراتی رہیں اور معلومات فراہم کرتی رہیں۔ آمنہ کی رہنمائی میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ یہاں راہداریوں میں نصب سائیڈ پائپنگ اور گائیڈ ریلنگ بچوں کیلئے آزادی اور تحفظ کی علامت تھی۔ بچوں کی گفت و شنید میں یہ جھلک نمایاں تھی کہ وہ ہر معاملے میں حوصلہ مند، پرعزم اور مثبت سوچ کے حامل ہیں۔ کسی ایک بچے نے مایوسی کا اظہار نہیں کیا، بلکہ سب کی باتوں میں ایک مضبوط عزم، زندگی سے جستجو اور تربیت کی روشنی نظر آئی۔کلاس رومز میں بچوں نے نظمیں سنائیں، سوالات کے جوابات دئیے، کمپیوٹر اور ٹائپ رائٹر کے عملی مظاہر پیش کیے۔ ان کی گفتگو، انداز اور عملی مظاہر نے یہ ثابت کیا کہ یہاں کے طلبہ نہ صرف تعلیمی طور پر بلکہ تخلیقی، فنی اور عملی میدان میں بھی مکمل تربیت یافتہ ہیں۔ ہر بات، ہر سوال اور ہر عملی مظاہر میں بچوں کے حوصلے اور عزم کی جھلک واضح تھی۔اسی طرح اکاب کے فارغ التحصیل طالب علم احمد اسماعیل سے ملاقات بھی اس بات کا ثبوت تھی کہ اگر مواقع میسر ہوں تو نابینا نوجوان تعلیمی اور تخلیقی میدان میں کسی سے کم نہیں۔ آج وہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ایک باصلاحیت شاعر کے طور پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ ان سے بات چیت کے دوران یہ بھی واضح ہوا کہ اکاب کی تربیت بچوں کو محض تعلیمی مہارت نہیں دیتی بلکہ انہیں اعتماد، خوداعتمادی اور سماجی شعور بھی عطا کرتی ہے۔اکاب میں بلائنڈ کرکٹ گراؤنڈ، کھیلوں کی سرگرمیاں، معیاری خوراک، صاف ستھری رہائش اور منظم ماحول بچوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کو یکساں اہمیت دینے کی دلیل ہیں۔ یہاں کے بچے کمزوری نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ بچوں کی محنت، لگن اور حوصلے ایسے ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ محدود آنکھیں بھی کیسے بلند خواب دیکھ سکتی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر ایک سوال شدت سے ذہن میں ابھرتا ہے، کیا ہمارا معاشرہ اور ریاست ایسے باصلاحیت نابینا بچوں کو عملی زندگی میں جگہ دینے کیلئے تیار ہے؟ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ بچے ترس یا ہمدردی نہیں چاہتے بلکہ باوقار روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے ایک سابق وزیراعظم سے اکاب نے تربیت یافتہ نابینا جوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی بات کی تو ان کا جواب یہ تھا کہ "یہ بچے کس طرح کام کریں گے؟” اور اس معاملے پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ ردعمل بتاتا ہے کہ ریاستی سطح پر ابھی بھی نابینا افراد کیلئے سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا محض فلاحی کام نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے ۔ اکاب محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک مثال اور تحریک ہے کہ اصل بصارت آنکھوں میں نہیں بلکہ سوچ میں ہوتی ہے۔ یہ روشنی اگر ہم نے پہچان لی اور سنبھال لی تو نہ صرف یہ بچے بلکہ ہمارا پورا معاشرہ روشن ہو سکتا ہے۔ ہر نابینا بچہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حوصلہ، تربیت اور مواقع ہی اصل طاقت ہیں اور انہیں سنبھالنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Exit mobile version