Site icon Daily Pakistan

ایران امریکہ جنگ ! عالمی انرجی بحران

امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ ایرانی شہروں کو امریکی اور اسرائیلی فضائیہ نے نشانہ بنایا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جینوا میں مزاکرات جاری تھے اور بات چیت کافی اگے بڑھ رہی تھی نیوکلیر اور ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی بات ہو رہی تھی۔ ایران میزائل پروگرام ختم کرنے پر تیار نہیں تھا دونوں فریق کسی معاہدے پر پہنچنے والے تھے۔اچانک امریکی اور اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے ایرانی سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنائی کے گھر پر بمباری کرکے ہلاک کر دیا۔ اس کاروائی میں ایرانی حکومت کے 49اعلیٰ عہدیدار بھی ہلاک ہوئے ۔ ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں کہرام مچ گیا اور ایرانی عوام غم اور غصے کی حالت میں سڑکوں پر نکل آئے ۔ امریکہ نے ایرانی قیادت کو مزاکرات میں الجھا کر ان کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا۔ اس وقت دونوں ممالک میں جنگ زوروں سے جاری یے ۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے رد عمل میں خلیجی ممالک سعودی عرب بحرین عمان قطر اور متحدہ عرب عمارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو اپنے میزائلز اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ۔ ایران نے ابنائے ہرمز کو بند کر دیا جو بہت بڑی تجارتی گزر گاہ ہے۔ ابنائے ہرمز سے خلیجی اور دیگر ممالک کے گیس اور تیل سے بھرے ہوئے تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔یہ ابی گزر گاہ دنیا بھر میں انرجی کی سپلائی کی کنجی ہے۔ دنیا بھر کی 20 فیصد ائل اور گیس کی سپلائی گلف کے اس تنگ ابی راستے سے ہوتی ہے ۔ 28وری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جہازوں کی امد کم ہو گئی ہے ۔ ابنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں اشیا اور سروسز کی لاگت بڑھ جائے گی اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ خام تیل درامد کرنیوالے ممالک چین جاپان اور انڈیا کی معیشتیں متاثر ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس تجارتی گزرگاہ کو بزور طاقت کھلوائیں گے۔ قطر نے ایل پی جی کی پروڈکشن روک دی ہے۔ سعودی عرب کی ریفائنریز پر ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے تیل کی پیداوار کم ہو گئی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ادھر سپین نے بھی امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک بھی امریکہ کی مدد کو آگئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اوول افس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانیہ اور سپین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنائی کے جانشین کے بارے میں بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں ایران کا نیا سپریم لیڈر ہمارے مشورے سے منتخب کیا جائے۔ دراصل آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت کے بعد امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنائی کی پالیسیوں کو جاری رکھے۔ مبینہ طور پر نیا سپریم لیڈر علی خامنائی کا بیٹا مجتبی خامنائی ہو سکتا ہے۔ ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور اس کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ لبنان اور بیروت پر بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں ۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے شہروں میں تباہی مچا دی ہے ۔ ایران نے خلیجی ممالک کے امریکی سفارت خانوں کو میزائلز اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی ڈرون حملے سے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کی عمارت سے آگ کے شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔امریکہ ایران میں زمینی فوج اتارنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ ہمارے خیال میں جہاں ایران میں غدار موجود ہیں وہاں ایرانی قوم منظم ہے اگر امریکہ نے ایران میں زمینی فوج اتارنے کا رسک لیا تو ایران امریکی فوجیوں کا قبرستان ثابت ہو سکتا ہے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں ان حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں پاسداران انقلاب کا دعوی ہے کہ جنگ میں امریکہ کے 160 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں ۔ اس جنگ میں امریکہ کے پچاس ہزار فوجی اور اسرائیل کے 200سے زائد بمبار طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس قرانچی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عداوت کی وجہ سے مذاکرات کی میز پر بمباری کی ہے ۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے اگر امریکہ ایران پر حملہ نہ کرتا تو وہ ایٹم بم بنا لیتے اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ سے مسلسل ملاقاتیں کرکے انہیں ایران پر حملے کیلئے تیار کیا ۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ تو کر دیا ہے ۔ یہ جنک کیا رخ اختیار کرے گی کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی بلکل خاموش ہے۔ تمام عرب ممالک اپنا اپنا اقتدار بچانے کے چکر میں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار جنگ طول پکڑنے کی صورت میں تیسری عالمی جنگ کی نوید سنا رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی سے زیادہ تباہی ہوگی ۔ جس طرح یوکرین جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پڑے اور مہنگائی نے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے اسی طرح اگر موجودہ جنگ طول پکڑتی ہے تو مہنگائی کا ایک طوفان ائے گا ۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس کے اثرات کمزور معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے ایک حکم جاری کیا ہے کہ بحرین سعودی عرب یو اے ای اور دیگر گلف ممالک میں مقیم امریکی شہری محفوظ ممالک کی طرف چلے جائیں۔ خلیجی ممالک میں مقیم امریکی شہریوں کو بے یارو مددگار چھوڑنے پر کانگرس کے ڈیموکریٹ ممبرز نے ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی حکمت عملی ایرانی ردعمل کو سامنے رکھ کر نہیں بنائی گئی ۔اس میں منصوبہ بندی اور رابطوں کی کمی تھی ۔ اب جنگ کی وجہ سے ہوائی اڈے بند ہیں اور امریکی شہری فلا ئیٹس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ اب رجیم چینج کی بات کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ خامنائی کا بیٹا بطور سپریم لیڈر قبول نہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ہر چیز تباہ کر دی ہے ایران کے پاس لڑاکا طیارے اور میزائل ختم ہو گئے ہیں لیکن ایران نے تل ابیب پر میزائلز اور ڈرون حملے کرکے اسرائیل میں کئی سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر شعیہ کمیونٹی پاکستان اور دنیا بھر میں سراہا احتجاج ہے۔ امریکہ ابنائے ہرمز کو ایرانیوں سے چھڑانے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہو گیا ہے ۔ وا شنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ قطر سے ایل پی جی جی کی امپورٹ میں کمی کی وجہ سے انڈیا سے اٹلی تک انرجی کا بحران پیدا ہو گیا ہے ۔ یہ گیس انرجی کا سستا ترین زریعہ ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں تیل کے زخائر ایک ماہ کیلئے کافی ہیں اور سعودی عرب نے تیل کی باقائدہ سپلائی کا یقین دلایا ہے ۔ بین الاقوامی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ملک بھر میں پٹرول اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ۔ اگر جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو انرجی بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔

Exit mobile version