امریکہ اسرائیل کے غیر قانونی اور غیر انسانی ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطی ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ چکا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا بلکہ عالمی طاقتوں کی حکمت عملی اور سیاسی بصیرت پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ مختلف عالمی اخبارات اور تجزیوں کو سامنے رکھا جائے تو ایک حقیقت واضح ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے جو توقعات پیدا کی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔پہلی وجہ ایران کے ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی ہے۔ مغربی حلقوں میں یہ تصور عام تھا کہ سخت معاشی پابندیوں، فوجی دبا اور اندرونی بے چینی پیدا کرکے ایرانی نظام کمزور ہو چکا ہے اور کسی بڑے جھٹکے کے بعد وہ بکھر سکتا ہے یا ریت کی دیوار ثابت ہوسکتا ہے تاہم عملی طور پر ایسا بالکل نہیں ہوا۔ ایران کا سیاسی اور عسکری ڈھانچہ کئی دہائیوں کے دبا اور پابندیوں کے باوجود اپنی جگہ قائم رہا۔سید علی خامنہ اور سول و عسکری قیادت میں تقریبا پانچ سو کے قریب ٹاپ لیڈرشپ شہید کیے جانے کے باوجود ایرانی ریاستی اداروں، بالخصوص سکیورٹی نظام اور سیاسی قیادت نے بحران کے باوجود اپنی گرفت برقرار رکھی۔دوسری اہم وجہ ایرانی قوم پرستی اور بیرونی دبا کے خلاف عوامی ردعمل ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب کسی ملک پر بیرونی طاقتوں کی جانب سے حملہ یا شدید دبا ڈالا جاتا ہے تو اکثر داخلی اختلافات وقتی طور پر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایران میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات کے باوجود بیرونی حملوں اور دھمکیوں نے عوام کو ریاست کے ساتھ کھڑا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جس عوامی بغاوت کی امید لگائی جا رہی تھی وہ حقیقت میں تبدیل بالکل نہ ہو سکی۔تیسری وجہ خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست ہے۔ ایران محض ایک ملک نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطی کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے خطوں میں اس کے اتحادی یا اثر و رسوخ موجود ہیں۔ اس لیے ایران پر کسی بڑے حملے یا اس کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ یہی خدشہ عالمی طاقتوں کو بھی محتاط بناتا ہے۔ اگر جاری حملوں میں ایران میں اچانک سیاسی خلا پیدا ہو جائے تو اس کے نتائج بھی پورے خطے کے لیے غیر متوقع اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔اس جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یورپ کے بڑے ممالک نے اس پالیسی کی مکمل حمایت نہیں کی۔ پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوا کہ امریکہ کے قریبی یورپی اتحادی بھی اس حکمت عملی سے پوری طرح مطمئن نہیں۔ یورپی حلقوں میں یہ رائے عام ہے کہ کسی ملک میں صرف فوجی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کئیر سٹارمر کا یہ مقف درست ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ آسمانوں سے بم برسا کر حکومتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں”اس صورتحال نے امریکہ اور یورپ کے درمیان بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کئی یورپی رہنماں کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطی میں مسلسل جنگی حکمت عملی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر یورپی ممالک کے اندر بھی امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید سامنے آئی یورپین ممالک اور امریکہ کے درمیان یوکرائن کی جنگ کی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اقدامات سے پہلے سے جاری اختلافات کو زیادہ شدت میں تبدیل ہوتا ہوا اس وقت نظر ایا جب امریکہ کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ روس سے تیل ایک ماہ کے لئے خریدا جائے جس پر پہلے ہی اقتصادی پابندیاں ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی صورتحال بھی گھمبیر اور پیچیدہ ہوگی ہے۔ ان ممالک میں سے کئی پہلے ہی علاقائی کشیدگی، معاشی دبا اور داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایران پر حملے اور اس کے بعد ہونے والی جوابی کارروائیوں نے خطے کے کئی ممالک کو براہ راست یا بالواسطہ متاثر کردیا ہے بعض ممالک کو بری طرح معاشی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ کچھ کو سکیورٹی خدشات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس وجہ سے خطے کے اندر امریکہ کی پالیسیوں کے بارے میں سخت تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی عرب اور مشرقِ وسطی کے ممالک اس صورتحال سے شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ کا دائرہ مزید پھیلتا ہے یا جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات سب سے زیادہ اسی خطے کو برداشت کرنا پڑیں گے اسی لیے اب یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ آیا مستقبل میں یہ ممالک اپنی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر امریکہ کے زیر اثر رکھنا چاہیں گے یا نہیں۔اسی تناظر میں عالمی سیاست میں ایک اور اہم تبدیلی کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں پر اعتماد کم ہوتا ہے تو مشرقِ وسطی کے بعض ممالک متبادل عالمی طاقتوں کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر چین کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعاون میں اضافہ ایک ممکنہ راستہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔اس جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے امریکہ کی داخلی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی حالات زیادہ سازگار نہیں رہے۔ جنگ کے باعث تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کا براہ راست اثر امریکی معیشت اور عوام پر پڑا۔ اس کے علاوہ جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی عوامی رائے کو متاثر کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق صرف دو ہفتوں کے اندر اس جنگ پر تقریبا 16 بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے بدلے میں کوئی واضح سیاسی یا فوجی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اندر اس جنگ کے بارے میں شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔ مختلف سرویز اور سیاسی تجزیوں کے مطابق اس صورتحال نے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو بھی متاثر کیا ہے اور بعض حلقوں میں ان کی مقبولیت کم ہو کر تقریبا 19 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے خلاف اس جنگ نے اگرچہ خطے میں بڑی تباہی اور انسانی نقصان کو جنم دیا لیکن سیاسی طور پر وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔ ایران کا نظام اپنی جگہ قائم ہے، عالمی رائے عامہ منقسم ہے اور مشرقِ وسطی کی سیاست مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ بڑی فوجی طاقت اور شدید دبا کے باوجود مطلوبہ سیاسی مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ اسی لیے بہت سے مبصرین اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اس تمام صورتحال کے بعد سیاسی طور پر یہ جنگ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے کامیابی کے بجائے ایک مشکل امتحان اور بڑی ناکامی کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔
ایران میں ٹرمپ اور نیتن یاہو ناکام کیوں ہوئے؟

