Site icon Daily Pakistan

ایران پر اسرائیلی امریکی جارحیت اور ایک غیر یقینی عالمی منظرنامہ

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر گزرتا دن حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بظاہر سفارتکاری کی کوششیں جاری ہیں، بیانات میں نرمی بھی دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اسکے برعکس ایک بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ سیاسی بیانات، معاشی دباؤ اور خفیہ حکمتِ عملیوں کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ تاہم ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دبا میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔ ایران کا مقف ہے کہ پہلے اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، اس کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور بین الاقوامی سطح پر سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے، تب ہی کسی بامعنی مذاکرات کی طرف پیش رفت ممکن ہوگی۔اطلاعات کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایک جامع منصوبہ ایران تک پہنچایا جس میں جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے نکات شامل تھے۔ پاکستان نے یہاں ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا، نہ کہ مکمل ثالث کا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کوششیں یقینا قابلِ ذکر ہیں، مگر اس نوعیت کے عالمی تنازعات میں محض پیغام رسانی کافی نہیں ہوتی بلکہ اعتماد سازی کیلئے بڑے اور ٹھوس اقدامات درکار ہوتے ہیں۔دوسری جانب عسکری محاذ پر صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ان حملوں میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے۔ ایران کے مختلف علاقوں میں بجلی، مواصلات اور تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی خبریں عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔اگر یہ سلسلہ اسی شدت سے جاری رہا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، شدید خطرے میں ہے۔ پہلے ہی تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، اور اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔امریکہ کی جانب سے عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نہ صرف بحری بیڑوں کی موجودگی بڑھائی جا رہی ہے بلکہ زمینی جنگ کے امکانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوجی قوت میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ 82nd Airborne Division جیسے دستوں کی تعیناتی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو تنازع ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔تاہم اس پوری صورتحال کا ایک اہم پہلو امریکی داخلی سیاست بھی ہے، جو اس وقت شدید دبا کا شکار ہے۔Republican Party کو ریاست فلوریڈا کے حالیہ انتخابات میں دھچکا لگا ہے، جس نے پارٹی کی مقبولیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، عوامی ناراضگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔اسی تناظر میں The Wall Street Journal کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے قریبی حلقوں میں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی طور پر بھی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔مزید برآں، امریکی سیاست میں ایک اور حساس معاملہ بھی زیرِ بحث ہے، یعنی Jeffrey Epstein سے متعلق فائلز کا تنازع۔ ان فائلز کا دوبارہ منظرِ عام پر آنا اور اس پر جاری بحث نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تنازع سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگی بیانیے کو تقویت دی جا رہی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں جہاں امریکہ ایک طرف عالمی سطح پر طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف داخلی دبا اسے محتاط فیصلے کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔دوسری جانب ایران بھی کسی کمزور پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔ اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں اب بھی برقرار ہیں، اور وہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ایران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ دبا میں آ کر جھکنے والا نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر مذاکرات چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو ایک اسٹیلمیٹ کہا جا سکتا ہے۔ نہ امریکہ اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہے، نہ ایران کسی سمجھوتے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ دونوں فریق ایسے راستے کی تلاش میں ہیں جہاں وہ اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی طرف بڑھ سکیں۔اس تناظر میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا موجودہ سفارتکاری کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک عالمی سطح کی بڑی طاقتیں اس عمل میں شامل نہیں ہوں گی، کوئی پائیدار حل نکلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر China اور Russiaجیسے ممالک کا کردار نہایت اہم ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں طاقتیں نہ صرف ایران پر اثر و رسوخ رکھتی ہیں بلکہ عالمی سفارتی توازن میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔اگر یہ ممالک ثالثی کے عمل میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ایران کو اپنے مقف میں نرمی لانے پر آمادہ کر سکتے ہیں، جو کسی بھی ممکنہ معاہدے کیلئے ضروری ہے۔ بصورت دیگر، موجودہ یک طرفہ دبا کی پالیسی شاید ایران کو مزید سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کرے۔یہ کشیدگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشت، سیاست، میڈیا اور سفارتکاری بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔ اگر دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ تنازع ایک بڑے علاقائی یا حتی کہ عالمی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے عالمی نظام کو ہلا سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق جذبات کے بجائے عقل و حکمت سے کام لیں، ورنہ اس آگ کی لپیٹ میں صرف مشرقِ وسطی نہیں بلکہ پوری دنیا آ سکتی ہے۔

Exit mobile version