مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے پس منظر میں اس سوال کا جواب ملنا ہرگز مشکل نہیں کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آخر 26جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر کیونکر مناتے ہیں ، سچ یہ ہے کہ بھارت جمہوریت کی آڈ میں نہ صرف مقبوضہ وادی بلکہ کئی دوسری ریاستوں میں عوام کے جائز حقوق کو بزور قوت دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، حیران کن یہ ہے کہ بین الاقوامی غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظمیں اس تلخ سچ سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ نء دہلی میں براجمان مودی سرکار جمہوری اصولوں کے نام پر آمرانہ ہتکھنڈوں کا بازار گرم کیے ہوئے ہے ، مثلا یہ کوئی راز نہیں رہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بدستور انڑنیٹ کی مثالی سہولت دستیاب نہیں، اب بے جے پی سرکار کی اس پابندی کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف وادی کے طلبہ وطالبات اپنی تعلیمی سرگرمیاں مثالی انداز میں جاری نہیں رکھ پارہے بلکہ کاروباری طبقہ بھی مسائل کا شکار ہے ، کشمیر کی جاری صورت حال پر نگاہ رکھنے والوں کے مطابق کہ قابض بے جے پی سرکار کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کسی طورنہیں چاہتی کہ کشمیریوں کی آواز جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سنی جاسکے ، مگر ایک بار پھر 26جنوری کو سرحد کے آرپار کشمیریوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر ثابت کردیا کہ وہ اپنے بنیادی حق یعنی اظہار خیال کی آزادی سے محروم ہیں، سمجھ لینا چاہے کہ بھارت اقوام متحدہ میں تسلیم کرچکا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے گا مگر کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود مقبوضہ وادی کے باسی بدستوراس سے محروم ہیں،اس کے برعکس کشمیر میں نہ صرف ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے بلکہ جبری گشمدگیوں اور خواتین عصمت دری بھی معمول بن چکا ، ایک رائے یہ ہے کہ اگر مقبوضہ وادی میں حالات بدترین ہیں تو پھر اس کی خبریں بین الاقوامی میڈیا کی زینت کیونکر نہیں بنتی ، دراصل امریکہ سمیت بااثر مغربی ممالک بھارت سے سیاسی اور معاشی مفادات وابستہ کرچکے ،یورپی یونین کی صدر کا یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بھارت کا دورہ واضح پیغام ہے کہ تیزی سے تبدیل ہونے والے علاقائی اور عالمی حالات میں نئی صف بندی جاری ہے ، صدر ٹرمپ کی پالیسوں سے نالاں یورپ خود کو نئے انداز سے منعظم کررہا ہے ، روس اور یوکرین کی جنگ اور امریکی صدر کی گرین لینڈ پر قبضہ کی دھمکیوں نے مغربی ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی ازسر نو تشکیل دینے پر مجبور کردیا ، نہیں بھولنا چاہے کہ یورپ چین کو بدستور خطرہ سمجھتا ہے ، طاقتور اور بااثر مغربی ممالک میں یہ تاثر عام ہے کہ روس کی یوکرین پر جنگ مسلط کرنا اس لیے ممکن ہوا کہ اسے چین کی درپردہ خاموش مگر موثر حمایت حاصل ہے، یہی وہ سوچ ہے جو یورپ کو چین کی بجائے بھارت سے روابط بڑھانے کی ترغیب دیتی ہے، امریکہ سمیت دیگر بااثر مغربی ممالک کا خیال ہے کہ تیزی سے عالمی معاشی طاقت بنے والے چین کی راہ میں بھارت ہی رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے ، افسوس دنیا میں انصاف اور انسانی حقوق کی بالادستی کی باتیں محض کہنے کی حد تک ہیں، مثلا 5 اگست 2019کو جس طرح بھارت نے یک طرفہ طور پر آئین کی شق 370 اور 25اے کو ختم کیا اس پر اقوام عالم نے بھرپور ردعمل نہیں دیا ، سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ اور اہم مغربی ممالک اس حقیقت سے اگاہ نہیں کہ عالمی قوانین کے مطابق کشمیر متنازعہ علاقہ ہے لہذا نئی دہلی کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کشمیر کو اعلانیہ اپنا علاقہ قرار دے ڈالے ، یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا بھرپور احتجاج بتارہا ہے کہ نئی دہلی تسلسل کے ساتھ حق شماری دینے سے انکار کی پالیسی پر گامزن ہے ، یوم سیاہ کی صورت میں کمشیری قوم بین الاقوامی سطح پرایک بار پھر یہ پیغام دے گی کہ مہذب دنیا ان کی مشکلات کے ازالہ کیلئے نئی دہلی پر دباو بڑھائے، افسوس غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور پھر امریکی صدر کا غزہ پلا ن یہ بتانے کیلئے بہت کافی ہے کہ دنیا میں عالمی قوانین کی پاسداری کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوچکا ، ادھر حال ہی میں صدر ٹرمپ جس انداز میں وینزویلا کے صدر کو اغوا کرکے اپنے ہاں لے آئے اس نے بین الاقوامی قانون کی رہی سہی وقعت بھی خاک میں ملا دی ، اس پس منظر میں لازم ہے کہ کشمیری قوم صبر وتحمل سے جدوجہد آزادی کو جاری وساری رکھے ، یوں بھارت کے یوم جمہوریہ کو کشمیریوں نے جس انداز میں یوم سیاہ کے طور پر منایا اس نے ایک بار پھر نئی دہلی کے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہنے کا دعویٰ خاک میں ملا دیا ، یقینا قوموں کی زندگیوں میں وقت سے کہیں زیادہ اہمیت جدوجہد آزادی میں استقامت کوحاصل ہے ، مقبوضہ وادی کے باسیوں کیلئے یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان شانہ بشانہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ بلاشبہ آج نہیں تو کل اہل کشمیر کی صدا پر اقوام عالم کو لبیک کہنا ہوگا کیونکہ جنوبی ایشیا میں بالخصوص اور دنیا میں بالعموم قیام امن کی چابی مسئلہ کشمیر کے حل کی صورت میں ہی ہے۔
ایک بار پھر یوم جمہوریہ یوم سیاہ قرار پایا

