گزشتہ سے پیوست
سید مودودی ؒ کو جیل میں بند کر دیا۔ سید مودودیؒ اور پاکستان تمام علماءجس میں قائد اعظمؒ کے ساتھی اور اِن کی نماز جنازہ پڑھانے والے والے مولاناشبیر احمدعثمانی ؒ بھی شریک تھے ،نے پاکستان میں دستوری مہم چلائی ہوئی تھی۔ اس پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوا ب ز ادہ لیاقت علی خان نے پاکستان کے آئین میں قراداد مقاسد شامل کی تھی۔ڈکٹیٹر ایوب خان نے پاکستان میں مسلمانوں کے عالی قوانین میں تبدیلی کر کے رائج کیے جو آج تک دستور میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی جو 1941 ءنے میں قائم ہوئی تھی نے پاکستان کے دستور میں قراداد مقاصد شامل ہونے پر ملکی سیاست میںحصہ لیا شروع کیا ۔ ملک میں اسلامی نظام کے لیے منظم جد وجہد شروع کی جو آج تک زور شور سے جاری ہے۔ اسی جد وجہد کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان کاموجودہ اسلامی آئین بنا ۔ اس آئین میں درج ہے کہ ملک پاکستان میں اسلام کے خلاف کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ اگر آئین میں کوئی بھی شک اسلام کے خلاف ہے تو اسے ختم کر سکتے ہیں۔ اس آئین کے تحت ایک اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی۔ جو قوانین کو اسلامی بنانے میں پارلیمنٹ کو سفارش کرے گی اور پارلیمنٹ قانون کو پارلیمنٹ سے پاس کرائے گی۔ مگر آج تک اس آئین پر عمل نہیں کیا گیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے قوانیں کو اسلامی بنانے کے کئی مسودے پارلیمنٹ کو بھیجوائے مگر آج تک نون لیگ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے حکمرانوں نے ان پر عمل نہیں کیا گیا۔بلکہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف بیرانی دباﺅ پر قانوں سازی کی۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان بناتے وقت اللہ تعالیٰ اور برعظیم کے مسلمانوں سے جو وعدے کئے تھے کہ پاکستان میں اسلامی نظام حکومت قائم کریںگے۔ ان کے وعدوں پر برعظیم کے جن علاقوں پاکستان نہیں بننا تھا ان علاقوں کے مسلمانوں نے صرف اور صرف اسلام کے نام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے حق میں رائے دی تھی۔ قربانیاں برداشت کی تھیں۔ اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی۔ لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں تھی۔ پاکستان بننے کے بعد مسلم لیگ کے گھوٹے سکوں نے رائیگاں کر دیں اور ملک میں سیکولر نظام حکومت قائم کر دیا۔ پاکستان کی اسلامی اساس کی مخالفت میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کے نام پر پیپلز پارٹی بنائی۔ غدار وطن شیخ مجیب نے بنگالی قومیت کے نام پر پارٹی بنائی۔ مشرقی پاکستان میں قومیت اور لسانیت اور مغربی پاکستان میں سوشلزم کے نام پر الیکش میں حصہ لیا۔ آپس میںلڑ کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ وہ پاکستان جو اسلام اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں پر حاصل کیاگیا تھا، سوشلزم اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کر دیا گیا۔ بھارت کے اہلکاروں نے سیکوزم کی بنیاد پر پاکستانی سیاستدانوں میں نقب لگا کر پاکستان کی اسلامی اساس سے ہٹا کر پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنا دیا۔ اندرا گاندھی نے اس تاریخی واقعہ پر کہا تھا کہ قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میںڈبوادیا ہے اور مسلمانوںسے ہندوستان پرہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے۔اس کے بعد بھی حکمرانوں کو شرم نہیں آئی اور قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کی مخالفت میں پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت کے مخالف میں بھارت کے سیکولر نظام حکومت پر چلتے ہیں۔ نواز شریف 13اگست2011 ءلاہور میں بھارتی دانشوروں کے اجتماع میں کہا تھا۔کہ ہم” مسلمان اورہندو ایک قوم ہیں۔ ہماری ایک ہی کلچر اور ایک ہی ثقافت ہے۔ہمارا کھانا بھی ایک جیسا کھاتے ہیں۔ درمیان میں ایک سرحدکا فرق ہے“۔ جبکہ قائد اعظم بانی پاکستان 23 مارچ1940 ءاسی لاہو رمیں قراداد پاکستان پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”کہ ہم مسلمان ہندوﺅں سے علیحدہ قوم ہیںہمارا کلچر، ہماری ثقافت،ہماری تاریخ، ہمارا کھانا پینا،ہمارا معاشرہ سب کچھ ان سے یکسر مختلف ہے“ نوا ز شریف کے لیے بھارت کے خفیہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ بھارت نے نواز شریف پر انوسٹمنٹ کی ہوئی ہے اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اب پھر لگتا ہے کہ امریکہ کے کہنے پر نواز کو واپس لایا گیا ہے جو بھارت کے قاصد پورے کرے گا۔پیلز پارٹی کا تو منشور ہی سیکولرزم پر ہے ۔ بلاول زردادی چیئرمین پیپلز پارٹی کہتے ہیں ہم روشن خیال ہیں۔ بے نظیر نے تو راجیو گاندھی کے پاکستان دورے پر اسلام آباد کی سڑکوں سے کشمیر کے بورڈ بھی ہٹا دیا تھا۔ بھارت نوازی میں سکھ آزادی پسندوں کی فہرستیںبھارت کے حوالے کی تھیں ۔ اسی بنیاد پر بھارت نے سکھ علیحدگی پسندوں کو چن چن کر ہلاک کا تھا۔پی ٹی آئی کے عمران خان نے بھی زبانی مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کی باتیں کر کے وقت ضائع کیا۔ قائد اعظمؒ کے اسلامی اساس کی وارث صرف اور ہے۔ ان نے قائد اعظم کے پاکستان کو بچانے کے لیے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔ اس کی پاداشت میں بنگلہ دیش کی بھارتی پٹھو حکمران حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کے مرکزی چھ رہنماﺅں کو پھانسنیوں پر چڑھا دیا۔ سیکڑوں کو جیلوں میں بند کر دیا دو قومی نظریہ اور قائد اعظم ؒکے اسلامی اساس پر قائم جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی ۔ مگر پھر بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں دو قومی نظریہ کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ پاکستان میں اگر کوئی جماعت قائد اعظم کی جانشین ہی تو صرف جماعت اسلامی ہے۔ اب بھی موقعہ ہے کہ 8 فروری کے قومی انتخابات عوام قائد اعظمؒ کی جانشین جماعت اسلامی کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں بھیجے تاکہ اسلام نظامِ حکومت قائم کر کے ملک میں امن وامان قائم کرے۔ بھارت میں موددی نے ہندتوا کے نام پر حکومت بنائی ہے تو کیوں نہ پاکستان میں اسلام کے نام پر حکومت بنے۔ جو بھارت کے مسلمانوں کی بشتی بان ہو۔ کشمیر کے مسلمانوں کے زخموں پرمرہم رکھے۔ کشمیر آزا کرائے۔ یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے پاکستان میں جماعت اسلامی کی حکومت قائم ہو۔ پاکستانی عوام قائد اعظمؒ کو خراج تحسین ،اس کی جانشین جماعت اسلامی کو الیکشن میں جیتوا کر ہی پیش کر سکتے ہیں۔ قائد اعظم ؒ کے یوم پیدائش 25 دسمبر پر یہ پاکستانی عوام کے نام پیغام ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ آمین۔ پاکستان زندہ باد۔
٭٭٭٭٭
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ

