امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات بلکہ تہران پر تمام حملوں کو 5 دن کے لئے موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے ایران نے خود رابطہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ امریکا اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی معاہدہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطی کیلئے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے بات چیت کی اگر معاملات طے پا گئے تو آبنائے ہرمز بہت جلد کھول دی جائے گی جیسے ہی معاہدہ طے پائے گا تیل کی قیمتیں یکدم تیزی سے گر جائیں گی میرے خیال میں اہم نکات پر بلکہ تقریبا تمام نکات پر اتفاق موجود ہے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ دن کی ایک مدت رکھی ہے ، دیکھتے ہیں یہ کیسی گزرتی ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم اس معاملے کو نمٹا لیں گے بصورتِ دیگر ہم اپنی پوری جان لگا کر بمباری جاری رکھیں گے امریکی صدر نے یہ بھی دعوی کیا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کیلئے 15 نکات پر بات کر رہے ہیں جن میں ایران کا جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا پہلا دوسرا اور تیسرا نکتہ ہے تاہم ایران کے ساتھ معاہدے کی گارنٹی نہیں دے سکتا ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پراپنے بیان میں لکھا کہ بات چیت کی خبریں فیک نیوز ہیں جو تیل کی مارکیٹ کو متاثر کرنے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیںتاہم ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کی کوششیں ہو رہی ہیں دوسری جانب روس نے مشرقِ وسطی میں جاری جنگ کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی حل نکالنے پر زور دیا ہے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ حالات کو معمول پر لانے کیلئے فریقین کو سیاسی اور سفارتی حل کی جانب بڑھنا چاہئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پر امن طریقے سے حل کیا جا سکے انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے ۔۔ (جاری ہے )
بدمعاشی۔۔۔۔شوکت کاظمیجنگ بندی کی کوششیں

