Site icon Daily Pakistan

بلوچستان: بیانیہ، ترقی اور نوجوان کا انتخاب

بلوچستان ، ایک ایسا خطہ زمین جسے پاکستان میں ہمیشہ خاص اہمیت دی گئی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ہمیشہ قومی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مگر اس توجہ کے ساتھ ایک پیچیدہ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف معاشی نہیں، بیانیاتی بھی ہے۔ یہاں سڑک، اسکول اور اسپتال کی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اس کے ساتھ اعتماد، نمائندگی اور سچائی کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔بلوچستان کے عوام کے مسائل حقیقی ہیں۔ وسیع رقبہ، منتشر آبادیاں، محدود تعلیمی سہولیات، صحت کے مراکز کی کمی، بے روزگاری اور احساسِ محرومی جیسے عوامل نے دہائیوں سے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ ان مسائل پر بات کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ آئینِ پاکستان وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی خودمختاری کی ضمانت دیتا ہے، اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں رقبے اور پسماندگی کو مدنظر رکھ کر حصہ دینا اسی اعتراف کا اظہار ہے کہ ماضی کی محرومیوں کا ازالہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔تاہم ان حقیقی مسائل کے ساتھ ایک دوسرا بیانیہ بھی پروان چڑھا۔قبضہ کا نعرہ، ریاست کو غیر ملکی قرار دینا، اور نوجوانوں کو یہ باور کرانا کہ تشدد ہی واحد راستہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اختلافِ رائے اور نفرت کی سیاست میں فرق واضح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر تشدد اس کی نفی۔ حقوق کی جدوجہد آئینی دائرے میں رہ کر کی جائے تو وہ مضبوط ہوتی ہے؛ بندوق کی گونج وقتی توجہ تو حاصل کر سکتی ہے، مگر پائیدار حل نہیں دیتی۔انتہا پسند گروہ اسی خلا میں جگہ بناتے ہیں جہاں مایوسی اور غلط معلومات موجود ہوں۔ جب نوجوان کو یہ باور کرایا جائے کہ اس کے تمام مسائل کی جڑ قبضہ ہے اور مکالمہ بے معنی ہے، تو وہ خود کو بند گلی میں پاتا ہے۔ ایسی فضا میں بھرتی آسان ہو جاتی ہے، کیونکہ غصے کو سمت مل جاتی ہے،مگر تعمیر کی نہیں، تخریب کی طرف اور اس چکر کو توڑنے کے لیے لازم ہے کہ نوجوان کے سامنے متبادل راستہ رکھا جائے، تعلیم، ہنر، روزگار اور تحفظ کے ساتھ ساتھ سچ بھی شامل حال ہونا ضروری ہے۔سچائی کیوں ضروری ہے؟ اس لیے کہ جب جھوٹ مضبوط ہو جائے تو ہر کامیابی بھی مشکوک لگتی ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبے شروع ہوں مگر ان کے بارے میں شفاف معلومات نہ ہوں، اگر مواقع پیدا ہوں مگر مقامی نوجوان خود کو اس کا حصہ نہ سمجھے، تو بداعتمادی باقی رہتی ہے۔ اعتماد کی بحالی کے لیے سچائی اور عمل دونوں لازم ہیں۔ اعلان سے زیادہ اہم عملدرآمد ہے، اور وعدے سے زیادہ مثر نتیجہ ہے۔حالیہ برسوں میں ترقی کے متعدد منصوبے سامنے آئے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ اور ساحلی ترقی کے اقدامات، جو وسیع تر منصوبے چائناپاکستان اکنامک کوریڈورکا حصہ ہیں، بلوچستان کو علاقائی تجارت کا مرکز بنانے کی کوشش ہیں۔ سڑکوں، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں سے مقامی روزگار، کاروبار اور فنی تربیت کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں جامعات کے کیمپسز، اسکالرشپس اور ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی سمت اہم قدم ہیں۔ صحت کے شعبے میں اسپتالوں کی بہتری، موبائل کلینکس اور صاف پانی کے منصوبے بنیادی ضروریات کی تکمیل کی کوشش ہیں۔سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری نے بھی کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو بحال کیا ہے۔ جب شاہراہیں محفوظ ہوں، تعلیمی ادارے کھلے رہیں اور کاروبار جاری رہے، تو معیشت میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ تاہم یہ سب اسی وقت پائیدار بن سکتا ہے جب مقامی آبادی خود کو اس عمل کا شریک سمجھے، نہ کہ محض تماشائی بنے رہیں۔اصل امتحان یہی ہے کہ کیا ترقی کے ثمرات عام گھر تک پہنچ رہے ہیں؟ کیا مقامی نوجوان کو روزگار میں ترجیح مل رہی ہے؟ کیا اس کی آواز سنی جا رہی ہے اور اس کی شناخت کا احترام کیا جا رہا ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب مثبت ہو تو بیانیہ خود بخود بدلتا ہے۔ لیکن اگر زمینی حقائق اور سرکاری دعوئوں میں فاصلہ ہو تو بداعتمادی گہری ہو سکتی ہے۔اسی لیے مسئلے کا حل دو طرفہ ہے۔ ایک طرف انصاف، شفافیت اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا؛ دوسری طرف غلط معلومات اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کا مدلل جواب دینا ہوگا۔ میڈیا، اساتذہ، دانشور اور سیاسی قیادت سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو سامنے لائیں، اختلاف کو مکالمے میں ڈھالیں اور نوجوان کو یہ احساس دلائیں کہ اس کی بات سنی جا سکتی ہے ۔ بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔ انہیں بندوق نہیں، کتاب اور ہنر تھمانا ہوگا جبکہ مایوسی نہیں بلکہ امید دینا ہوگی۔ روزگار کے مواقع، کاروباری معاونت، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ، اور سیاسی عمل میں شرکت کے حقیقی مواقع نوجوان کو مثبت سمت دیتے ہیں۔ جب نوجوان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی محنت کا صلہ ملے گا اور اس کی شناخت محفوظ ہے، تو وہ تخریب کے بجائے تعمیر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کی بعض کوتاہیوں نے فاصلے پیدا کیے۔ مگر مستقبل کی تعمیر ماضی کے اسباق سے ہوتی ہے۔ شفافیت، احتساب اور کھلا مکالمہ وہ بنیادیں ہیں جن پر اعتماد کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ ریاست اور شہری کا رشتہ طاقت سے نہیں، اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے۔مختصر یہ کہ بلوچستان کے مسائل حقیقی ہیں، مگر قبضہ کا نعرہ ایک الگ چیز ہے۔ ہمیں یہ فرق واضح کرنا ہوگا۔ حقوق کی جدوجہد آئینی دائرے میں رہ کر مضبوط ہوتی ہے، جبکہ نفرت اور تشدد وقتی اشتعال تو پیدا کرتے ہیں مگر پائیدار حل نہیں دیتے۔ اگر ہم انصاف اور ترقی کے ساتھ ساتھ سچائی کی بنیاد پر بیانیہ تشکیل دیں، تو انتہا پسند گروہوں کی بھرتی کا چکر ٹوٹ سکتا ہے۔راستہ بالکل واضح ہیکہ تعلیم، ہنر، روزگار، تحفظ اور سچائی کے ذریعے اصلاحاتی عمل کو تیز تر کیا جائے۔ جب یہ عناصر ایک ساتھ آگے بڑھیں گے تو نہ صرف اعتماد بحال ہوگا بلکہ بلوچستان ترقی کی اس شاہراہ پر گامزن ہوگا جہاں اختلاف مکالمہ بنے گا اور نوجوان تعمیر کا استعارہ بن کر سامنے آئے۔ یہی پاکستان کی مضبوطی اور بلوچستان کے روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔

Exit mobile version