کون نہیں جانتا کہ بلوچستان ایک حساس مگر اہم خطہ ہے جہاں کئی دہائیوں سے امن، ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس خطے کو درپیش چیلنجز صرف معاشی یا انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک منظم بیانیاتی جنگ بھی بلوچستان کے حالات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کردار پر سوالات مسلسل اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں ناقدین کے مطابق یہ تنظیم انسانی حقوق کی حقیقی نمائندہ کے بجائے شدت پسند عناصر کیلئے ایک”بیانیاتی ڈھال ” کے طور پر کام کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ جان کاروں کے مطابق بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیمیں جیسے بی ایل اے اور بی ایل ایف صرف مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے سوشل میڈیا، جذباتی بیانیے اور مبینہ انسانی حقوق کے نعروں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر کو”لاپتہ افراد”یا”سیاسی کارکن”کے طور پر پیش کر کے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی نوجوانوں میں ریاست سے بداعتمادی پیدا کرنے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف تاثر قائم کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بعض ایسے واقعات بھی منظرِ عام پر آئے جن میں ابتدائی طور پر لاپتگی کے دعوے کیے گئے، مگر بعد ازاں حقائق مختلف نکلے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طیب بلوچ کا معاملہ اسی نوعیت کی ایک مثال قرار دیا جاتا ہے، جہاں سوشل میڈیا پر جذباتی مہم چلائی گئی لیکن بعد میں وہ ایک خودکش حملہ آور کے طور پر سامنے آیا۔ اسی طرح زرینہ مری کے مبینہ لاپتہ ہونے کے دعوؤں پر بھی حکومتی سطح پر سوالات اٹھائے گئے اور انہیں من گھڑت قرار دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق ایسے واقعات اس بیانیے کو تقویت دیتے ہیں کہ ہر”لاپتہ فرد”کا معاملہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ بعض کیسز کو سیاسی و پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی تناظر میں سکیورٹی ماہرین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں، خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو بھی اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے ذہنی و جذباتی اثر و رسوخ قائم کر کے نوجوان نسل کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تشدد ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ حالانکہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت تعلیم، روزگار، صحت، امن اور ترقی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق خواتین کی شمولیت کو بھی ایک منظم بیانیاتی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ خواتین کی قیادت میں ہونے والے احتجاجات کو عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نمایاں کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے عام شہریوں، اساتذہ، مزدوروں اور پولیو ورکرز کے مسائل نسبتاً پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین بلوچ یکجہتی کمیٹی پر”انتخابی انسانی حقوق”کا الزام عائد کرتے ہیں، جہاں صرف مخصوص بیانیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے جبکہ دہشت گردی کے متاثرین کی آواز کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔اسی ضمن میں بعض ریاستی اداروں اور سکیورٹی حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کے روابط کالعدم تنظیموں سے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حکومت کی جانب سے بعض کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا اقدام اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جسے ریاست قومی سلامتی کے تناظر میں ایک قانونی و آئینی قدم قرار دیتی ہے۔ تاہم دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقے ان اقدامات پر تنقید بھی کرتے ہیں، جس سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل اپنی نوعیت میں نہایت حساس اور پیچیدہ ہیں، جن کا حل صرف طاقت یا صرف بیانیے سے ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی، شدت پسندی اور بیرونی مداخلت کے عناصر کو بے نقاب کرتے ہوئے بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، سیاسی شعور اور معاشی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات موجود ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ حقائق اور پروپیگنڈے میں واضح فرق قائم کیا جا سکے ۔ مبصرین کے مطابق بلوچستان کا مستقبل نفرت، تشدد اور خوف کے بیانیے میں نہیں بلکہ ترقی، مکالمے اور آئینی عمل میں پوشیدہ ہے کیوں کہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت ایک پُرامن اور مستحکم معاشرے کی خواہاں ہے جہاں نوجوان قلم، تعلیم اور ہنر کے ذریعے آگے بڑھیں، نہ کہ تشدد اور شدت پسندی کے راستے پر چلنے پر مجبور ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں جاری بیانیاتی جنگ کو سمجھنا اور حقائق کو جذباتی پروپیگنڈے سے الگ کرنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں سبھی حلقے اپنی معاشرتی اور انسانی ذمہ داریوں کو مزید احسن ڈھنگ سے نبھائیں گے۔
بلوچستان ۔امن کیخلاف بیانیے کی محاذ آرائی

