نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ بھارت بھر میں تقریبا 7 ہزار 993 سکولوں میں طلبا کے داخلے کی شرح صفر ہے ۔بھارت میں سکول ایجوکیشن سسٹم: کوالٹی میں بہتری کیلئے تجزیہ اور پالیسی روڈ میپ” کے عنوان سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ سکول انتظامی ریکارڈ میں کام کرتے نظر آتے ہیں، لیکن اب وہ کسی بھی طالب علم کی خدمت نہیں کرتے۔رپورٹ میں اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ یہ سکول صفر اندراج کے باوجود مالی اور انسانی وسائل استعمال کر رہے ہیں جو زمینی حقیقت اور منصوبہ بندی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ میں خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں کے سکولوں میں میں اساتذہ کی نمایاں کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ایک لاکھ سے زیادہ سکول صرف ایک استاد کے ساتھ کام کررہے ہیں جو مجموعی سکولوں کی تعداد کا 7 فیصد سے زائد ہیں۔جھارکھنڈ، نگر حویلی ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں طالب علم اوراستاد کا تناسب قومی اوسط سے کافی زیادہ ہے۔بھارت کے 98 ہزار 592 سے زائد طالبات کے سکولوں میں جبکہ طلبہ کے 61ہزار540میں قابل استعمال بیت الخلا موجود نہیں ہیں۔رپورٹ میں کئی ریاستوں میں تدریسی عملے کی شدید کمی کابھی انکشاف کیاگیاہے۔ صرف بہار میں پرائمری سکولوںمیں 2لاکھ سے زائد آسامیاں خالی ہیں، ثانوی اور سینئر سیکنڈری سطح کے سکولوں میں اساتذہ کی بالترتیب 36اور33ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ کرناٹک، ہریانہ اور مہاراشٹرکے سکولو ں کو بھی اساتذہ کی نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں باون فیصد غیر مسلم طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ تیار کرنیوالوں کے مطابق اس رپورٹ نے مسلم اداروں کے حوالے سے بے بنیاد الزامات کو غلط ثابت کردیا ہے۔ دہلی کے ایک غیر سرکاری ادارے سینٹر فار اسٹڈی اینڈ ریسرچ انڈیا نے ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے زیر انتظام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں غیر مسلم طلبہ کی تعداد مسلم طلبہ کے مقابلے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر مسلم طلبہ کی تعداد52.7 فیصد ہے جبکہ مسلم طلبہ کی تعداد صرف 42.1 فیصد ہے۔یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ اور دائیں بازو کی تنظیمیں دیگر مسلم اداروں کے اقلیتی کردار کو بھی ختم کرنے کے درپے ہیں۔سی ایس آر انڈیا کے ڈائریکٹر کے مطابق اس رپورٹ نے اس غلط تصور کو پاش پاش کردیا ہے کہ مسلم کالجوں میں صرف مسلمان ہی پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا،”میں اس رپورٹ کو ‘متھ بسٹر’ کہتا ہوں کیونکہ ملک میں وسیع پیمانے پر یہ پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں تو صرف مسلم بچے اور بچیاں ہی پڑھتی ہیں۔ جبکہ اعدادوشمار سے ظاہرہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکیوں کے مقابلے غیر مسلم لڑکیوں بھی تعداد زیادہ ہے۔” بھارت کی 1113 یونیورسٹیز میں 23 مسلم اقلیتی ہیں، جہاں ہندو طلبہ کی تعداد 52.7 فیصد اور مسلم کی تعداد صرف 42.1 فیصد ہے۔ اسی طرح 1115 مسلم اقلیتی کالجوں میں غیر مسلم طلبہ اکثریت میں ہیں۔ ان کالجوں میں ہندو طلبہ کی تعداد 55.1 فیصد ہے جبکہ مسلم طلبہ کی تعداد صرف42.1 فیصد ہے۔ دیگر اقلیتی گروپ کے 2.8 فیصد طلبہ بھی مسلم تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ تعلیمی سال 2021/22 میں مسلمانو ں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکوں کی تعداد 47.18 فیصد اور لڑکیوں کی تعداد 52.8 فیصد تھی ۔ سفاک مودی کے دور میں بھارت پر ہندوتوا راج مسلط ہے جس سے تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔فاشسٹ مودی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی آزادیِ رائے کو جرم بنا دیا، آر ایس ایس کے ہاتھوں غاصب مودی نے تعلیمی اداروں کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا۔جنسی ہراسانی کے ملزم پروفیسروں کیخلاف کارروائی نہ ہونے پر سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے طلبا سراپا احتجاج بن گئے، پونڈیچری یونیورسٹی میں ایس ایف آئی کے طلبا پر پولیس نے حملہ کر دیا، متعدد طلبہ گرفتارکر لئے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے بے رحمانہ تشدد کیا اور خواتین سے بدسلوکی کی، یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہراسانی کے الزامات کے باوجود ملوث اساتذہ تاحال عہدوں پر برقرار ہیں۔ طلبہ تنظیم کے مطابق ڈاکٹر مدھوائیہ اور ڈاکٹر شیلندر سنگھ پر 16 سے زائد طلبا کے سنگین الزامات عائد ہیں، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضابطے کے باوجود ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے پر بھی سماعت نا مکمل ہے۔سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور حکومت میں قائم کی گئی سچر کمیٹی کی تجویز کردہ سفارشات کی روشنی میں 2009 میں مولانا آزاد فیلو شپ متعارف کرائی گئی تھی جو بھارت کی اقلیت مسلم، بودھ مت، عیسائی، جین مت، پارسی اور سکھ مذاہب سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کو فراہم کی جاتی تھی۔ اس فیلو شپ کو مودی کی متعصب حکومت نے بیک جنبش قلم ختم کردیا ہے۔یہ فیلو شپ اگرچہ تمام اقلیتی برادریوں کے طالب علموں کیلئے دستیاب تھی تاہم اس سے زیادہ تر مسلمان طلبہ ہی مستفید ہوئے۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2018-19 میں یہ فیلوشپ حاصل کرنے والے 70 فیصد سے زائد طالب علم مسلمان تھے۔
بھارتی سکولوں میں داخلے کی شرح صفر

