کالم

بھارتی کا اشتعال انگیز رویہ، سفارتی جمود

بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر کا پاکستان کی فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف حالیہ اشتعال انگیز اور بے بنیاد بیان ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے لاتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امن،مکالمے اور تعاون کی خواہش کے باوجود بھارت بات چیت کے لیے سنجیدہ نہیں۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بنیادی ذمہ داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے وہ چاہے تو پرانے جارحانہ رویے کو جاری رکھے یا پھر جنوبی ایشیا کو استحکام کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کرے۔جنوبی ایشیا کی سیاست ہمیشہ سے حساس اور غیر یقینی رہی ہے، مگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات اس خطے کی سب سے نازک کڑی ہیں۔ تقسیم ہند، کشمیر کا تنازع، پانی کے مسائل، بھارتی الزامات اور باہمی عدم اعتماد نے دہائیوں سے اس تعلق کو کمزور رکھا ہے۔ امن کے مختصر وقفے ہمیشہ کشیدگی کے طویل ادوار کے سامنے بے بس رہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی تنا بھی بڑے بحران میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کے جلد بازی پر مبنی اقدامات نے صورتحال کو نہایت خطرناک سمت میں دھکیل دیا تھا، لیکن پاکستان نے ذمہ دارانہ اور متوازن ردِعمل کے ذریعے نہ صرف خطے کو بڑی جنگ سے بچایا بلکہ عالمی برادری کے سامنے ذمہ دار ریاست ثابت ہوا۔ اس کے باوجود بھارت کی سیاسی قیادت نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے مسلسل ایسے بیانات، دعوے اور اقدامات کیے جنہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان موجود اعتماد کو مزید کھوکھلا کر دیا۔بھارت کی جانب سے وقتاً فوقتاً سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے، لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی، پاکستان کے خلاف بلا ثبوت الزامات اور سندھ یا گلگت بلتستان جیسے حساس موضوعات پر بے بنیاد اور غیر ذمہ دار بیانات سب اسی جارحانہ حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ جے شنکر کا بیان اس پالیسی کی تازہ مثال ہے جو بجا طور پر منظم پروپیگنڈا اور اور اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پوری طرح متحد ہیں اور کسی بھی بے بنیاد پروپیگنڈے سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو دھندلایا نہیں جا سکتا۔خطے کے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرنے والے اقدامات میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، سرحدی تنازعات پر سخت گیر طرزِ عمل، اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی رویہ شامل ہیں۔ یہ تمام یک طرفہ اقدامات نہ صرف معاہداتی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ بھارت نے نہ صرف اپنے اقدامات واپس لینے سے گریز کیا بلکہ انہیں پاکستان مخالف قوم پرستانہ بیانیے کے طور پر بھی استعمال کیا، جس سے مذاکرات کی فضا مزید مسموم ہوئی۔بھارت میں اندرونی سیاست میں سخت قوم پرستی کا استعمال مستقل رجحان بن چکا ہے۔ پاکستان اسی سیاست کا آسان ترین ہدف رہا ہے، جہاں ہر بڑے انتخاب یا داخلی بحران کے وقت پاکستان کے خلاف بیانات اور الزامات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ روش نہ صرف علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ بھارت کی اپنی جمہوری اور معاشرتی ساخت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ پاکستان بجا طور پر اس جانب توجہ دلاتا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف بیانات دینے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل، بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر غور کرنا چاہییوہ مسائل جو خود بھارت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مقف اختیار کیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان امن، مکالمے اور تعاون کا خواہاں ہے۔ پاکستان بارہا عالمی فورمز پر مذاکرات کی پیشکش کر چکا ہے اور ہر اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا دامن تھاما ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ یہ مقف اصولی بھی ہے اور بین الاقوامی سفارتی ضابطوں کے عین مطابق بھی۔خطے کو امن کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی، معاشی دبا، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے عوامی مسائل دونوں ممالک سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ تنازعات کو بڑھانے کے بجائے کم کریں اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھیں۔ لیکن بھارت کے اشتعال انگیز بیانات، قوم پرستانہ سیاست، پروپیگنڈا اور عدم اعتماد کا تسلسل اس سمت میں پیش رفت کو مشکل بنا رہا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے۔ تنازع نہیں ۔ لیکن امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنا غلط فہمی ہو گی۔ پاکستان اپنے قومی وقار، سرحدی تحفظ اور علاقائی سالمیت پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے