دنیا آج جس تیز رفتار تبدیلی، فکری انتشار اور سماجی کشمکش کے دور سے گزر رہی ہے، اس میں سب سے بڑا چیلنج مختلف مذاہب، عقائد اور تہذیبوں کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کو کم کرنا ہے۔ مذہب انسان کو اخلاق، محبت، صبر اور عدل کا درس دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے جب مذہبی تعلیمات کو تعصب، نفرت اور طاقت کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی مذہب اختلاف اور تصادم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔بین المذاہب ہم آہنگی سے مراد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام، برداشت اور پرامن بقائے باہمی کا فروغ ہے، جبکہ رواداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسرے کے عقائد، عبادات اور طرزِ زندگی کو تسلیم کریں، چاہے ہم ان سے متفق ہو یا نہ ہوں۔ یہ دونوں عناصر کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں۔اسلام، جو پاکستان کا ریاستی مذہب ہے، بین المذاہب رواداری کی روشن مثال پیش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا: دین میں کوئی جبر نہیں۔ حضور اکرم ۖ کی سیرتِ طیبہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، انصاف اور احترام کا برتا کیا جائے۔ مدینہ کا میثاق، جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق دیے گئے، تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام زبردستی نہیں بلکہ مکالمے اور ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہے۔پاکستان ایک کثیرالمذاہب ملک ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، مگر عیسائی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتیں بھی صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947 کی تاریخی تقریر میں واضح کیا کہ ریاست کا ہر شہری مذہب سے بالاتر ہو کر برابر کا حق رکھتا ہے۔ یہ پیغام دراصل بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد تھا، مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم اس سوچ سے دور ہوتے چلے گئے۔موجودہ دور میں انتہاپسندی، مذہبی عدم برداشت اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نفرت نے معاشرتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مذہبی جذبات کو بھڑکا کر فساد پیدا کیا جاتا ہے، جس کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اختلافِ رائے کو اختلافِ وجود میں بدل دینا دانشمندی ہے؟ یقینا نہیں، اختلافات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، مگر انہیں برداشت اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، نہ کہ تشدد کے ذریعے۔بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں تعلیم کا کردار بنیادی ہے۔ نصاب میں ایسے اسباق شامل ہونے چاہییں جو بچوں کو احترامِ انسانیت، تنوع کی قدر اور مشترکہ اخلاقی اقدار سکھائیں جب بچہ یہ سمجھے گا کہ انسان کی پہچان اس کا مذہب نہیں بلکہ اس کا کردار ہے، تو معاشرے میں نفرت کی جگہ قبولیت جنم لے گی۔ اساتذہ، علما اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو نفرت نہیں بلکہ برداشت کا سبق سکھائیں ۔میڈیا بھی اس ضمن میں ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر میڈیا سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دے، مختلف مذاہب کے مثبت پہلوں کو اجاگر کرے اور مکالمے کی فضا قائم کرے تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر اوقات منفی خبروں کو نمایاں کر کے نفرت کو ہوا دی جاتی ہے، جو معاشرتی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔بین المذاہب مکالمہ ایک موثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے مختلف عقائد کے لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ مکالمہ بحث یا مناظرہ نہیں بلکہ سننے اور سمجھنے کا عمل ہوتا ہے۔ جب ہم دوسرے کے نقط نظر کو کھلے دل سے سنتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان اختلافات کے باوجود بہت سی مشترکہ اقدار موجود ہیں، جیسے امن، انصاف، رحم اور انسان دوستی۔رواداری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنے عقائد سے دستبردار ہو جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے ایمان کا احترام کریں۔ یہی سوچ معاشرتی استحکام اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی اقوام ترقی کرتی ہیں جو اختلاف کو طاقت اور تنوع کو خوبصورتی سمجھتی ہیں۔آج جب دنیا ایک عالمی گاں بن چکی ہے تو ایسے میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا میل جول ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگر ہم نے رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ نہ دیا تو تصادم اور خلفشار ہمارے مقدر بن جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نفرت کے بیانیے کو مسترد کریں اور محبت، احترام اور انسانیت کے مشترکہ اصولوں کو اپنائیں۔دیکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کوئی وقتی نعرہ نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ فکر ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں امن، استحکام اور ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔ اگر ہم ایک پرامن اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں مذہب، نسل اور فرقے سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان سمجھنا ہوگا۔ یہی پیغام تمام آسمانی مذاہب کا نچوڑ اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی ، روشن مستقبل کی ضمانت

