Site icon Daily Pakistan

بی جے پی کی مردم شماری کے نام پر فرقہ واریت

کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مودی کی بھارتی حکومت اپنے ہندوتوا آر ایس ایس ایجنڈے کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا ہے کہ بی جے پی اور دیگر ہم خیال رہنمائوں اور جماعتوں کی طرف سے مردم شماری کے نئے فارمیٹ میں کشمیر مخالف اور فرقہ وارانہ ایجنڈوں کی عکاسی کرنے والے کئی نجی، غیر منطقی اور غیر ضروری سوالات شامل کئے گئے ہیں۔ یہ سوالات کشمیری معاشرے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ایک سازش ہے۔ اگست 2019 میں بندوق کی نوک پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو غیر قانونی طور پر تقسیم کرنے کے بعد، بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اب مردم شماری کی مشق کے ذریعے ایک بار پھر مقبوضہ علاقے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مردم شماری میں ایسے سوالات شامل ہیں جیسے: "ایک خاندان کا تعلق کس مسلک سے ہے کشمیر کے اندر اور باہر کون کون سے رشتہ دار موجودہیں خاندان کی کون سی جائیدادیں ہیں، خاص طور پر سسرال والوں کا کسی عسکریت پسند (مجاہد)یا حریت کیمپ سے کوئی تعلق ہے” یہ مشق مردم شماری کی آڑ میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے مترادف ہے۔مردم شماری کے نام پر اس طرح کے دخل اندازی اور مشکوک سوالات جموں و کشمیر میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی دانستہ کوشش کے اندیشوں کو تقویت دیتی ہیں ، جہاں مسلمان تاریخی طور پردیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھائیوں اور بہنوں کی طرح ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ بی جے پی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ خاص طور پر اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو غیر قانونی طور پر منسوخ کرنے کے بعدمقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میںظلم و جبر اور بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں فوری مداخلت کریں۔ بھارتی حکومت نے حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر نظر بند کر رکھا ہے، جو بھارت اور مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں مسلسل قید ہیں۔ اس وقت جموں و کشمیر میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ایک منتخب نمائندوں کی اور دوسری افسر شاہی کی جو یونین ٹیریٹری نظام کے تحت کام کررہی ہے۔ بیجبہاڑہ کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر بسیر احمد ویری نے جموں کشمیر اسمبلی میں کہا کہ بیجبہاڑہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں متعدد تاریخی اور مذہبی مقامات موجود ہیں، جنہیں مناسب توجہ اور بنیادی سہولیات فراہم کر کے سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دیا جا سکتا ہے۔ مذہبی مقامات تک سڑکوں کی بہتری، قیام و طعام کی سہولیات، صفائی ستھرائی اور تشہیری مہمات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت کو فروغ ملے۔ بی جے پی نے جموں و کشمیر اور لداخ کو تقسیم کر کے خطے کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ایک منتخب نمائندوں کی اور دوسری افسر شاہی کی جو یونین ٹیریٹری نظام کے تحت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی مکمل منتقلی منتخب نمائندوں کو ہونی چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا حل ممکن ہو اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے اور وہ اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں سے ان کے گھروں، زمینوں اور دیگر املاک سمیت ہر چیز ہتھیانا چاہتی ہے۔ مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی مکمل طور پر سلب کی گئی ہے اور جو بھی بھارتی جبر کے خلاف بولنے کی کوشش کرتا ہے اسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت فوری طور پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ پورا مقبوضہ علاقہ ایک فوجی چھاؤنی کامنظر پیش کررہا ہے، جس نے کشمیریوں کو اپنے ہی مادر وطن میں انتہائی مشکلات اور مصائب برداشت کرنے پر مجبور کردیاہے۔ حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے حل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔متاثرہ اضلاع میں ڈوڈہ، اودھم پور، کشتواڑ، کٹھوعہ، کپواڑہ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت رہائشیوں کو ہراساں اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور تباہ کیا جا رہا ہے۔

Exit mobile version