اردو کا ایک بہت مشہور مقولہ ہے، "کنویں کا مینڈک”۔ ہم میں سے ہر ایک نے اسے بارہا پڑھا اور سنا ہے لیکن اس کی عملی اور جیتی جاگتی تفسیر آج ہمیں پاکستان کے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے پردوں پر بخوبی نظر آتی ہے۔ فکری نارسائی کا عالم یہ ہے کہ بہت سے تبصرہ نگار پیچیدہ ترین معاملات پر ایسے تبصرے فرما رہے ہوتے ہیں جیسے ان موضوعات پر انہوں نے برسوں تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہوں۔ علم کی پیاس بجھانے کے لیے اگر ان کا سب سے مستند ماخذ ڈھونڈا جائے تو اکثر وکی پیڈیا کی چند سطریں نکلتی ہیں۔ چند ایک استثنی کو چھوڑ کر، یہ صورتحال کم و بیش ہر تجزیہ نگار کی ہے لیکن شرمندگی کا مقام تب آتا ہے جب کسی ایسی سیلیبریٹی کو، جس کی شہرت کا مدار محض شوبز کی چکا چوند یا کھیل کے میدان کی کوئی کارکردگی ہو، ٹی وی سکرین پر بٹھا کر اس سے ملک کے پیچیدہ سماجی و اقتصادی حالات کا تقابلی جائزہ مانگا جاتا ہے۔ وہ صاحبِ ثروت بھی ایک لمحے کو خود کو "انسانی ترقی کا انڈیکس” سمجھ کر ایسی رائے زنی شروع کر دیتے ہیں جسے مخصوص نفرتوں اور سیاسی عصبیتوں میں لپٹے افراد سوشل میڈیا پر حرفِ آخر سمجھ کر پھیلا دیتے ہیں۔ اسی ادراکی مغالطے کا ایک عظیم شاہکار ہمارے میڈیا کا ایک مقبول بیانیہ ہے جو لاہور کے کینٹ، گلبرگ یا ڈیفنس کے چند کلومیٹر کے ٹکڑے کو بنیاد بنا کر پورے پنجاب کو "کامیاب”اور کراچی کے چند انتظامی مسائل کو بنیاد بنا کر پورے سندھ کو "ناکام” ریاست قرار دے دیتا ہے۔ یہ سطحی موازنہ اس "افقی تفاوت” کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتا ہے جو پنجاب کے اندر ایک کینسر کی طرح پھیل چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کی یہ مصنوعی چمک دمک جنوبی پنجاب کے فنڈز، سی پیک کے میگا پراجیکٹس اور وفاقی حکومت کی "عمودی مالیاتی منتقلی” کی مرہونِ منت ہے۔ پنجاب کا ترقیاتی ماڈل "مرکزیت” کا شکار ہے جہاں پورے صوبے کے وسائل کا رخ صرف جی ٹی روڈ کی مخصوص بیلٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔ اور جب ہم اعداد و شمار کے آئینے میں اس معاشی ناانصافی کو دیکھتے ہیں تو ایک ہولناک تصویر سامنے آتی ہے۔ جہاں لاہور میں غربت کی شرح بیس فیصد تک ہے، وہاں راجن پور، تونسہ اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں ہر دوسرا شخص خطِ غربت سے نیچے سسک رہا ہے۔ لاہور میں سکول سے باہر بچوں کی شرح دس فیصد سے کم ہے، مگر تونسہ کے کوہ سلمان اور بھکر کے صحراں میں یہ شرح پچاس سے ساٹھ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح ہو یا بنیادی طبی سہولیات، لاہور کے مقابلے میں پنجاب کے دوسرے اضلاع کسی دوسرے سیارے کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ "ترقی کی جغرافیائی قیمت” ہے جو پنجاب کے دور دراز اضلاع نے لاہور کی اورنج لائن اور میٹرو کیلئے اپنی جانوں اور مستقبل کی صورت میں چکائی ہے۔ راجن پور کی تحصیل جام پور ہو یا خوشاب کی تحصیل نورپور تھل، لاکھوں کی آبادی پر مشتمل ان تحصیلوں کا المیہ یہ ہے کہ وہاں صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی کوئی ایک بنیادی سہولت بھی موجود نہیں۔ لاہور کے تخت سے محض دو سو ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع، تین لاکھ نفوس پر مشتمل تحصیل نورپور تھل کی مثال لیجیے تو احساس ہوتا ہے کہ لاہور کی چمک دمک کی قیمت پنجاب کے کن پسماندہ علاقوں نے اپنے مستقبل کی قربانی دے کر چکائی ہے۔ اس تحصیل کے صدر مقام پر قائم گرلز اور بوائز کالجوں میں آٹھ سو سے زائد طلبا و طالبات محض "آرٹس” کے مضامین پڑھنے پر مجبور ہیں، کیونکہ وہاں سائنس اور کامرس کی تعلیم کیلئے نہ تو سٹاف میسر ہے اور نہ ہی لیبارٹری کی سہولت۔ مسیحائی کا عالم یہ ہے کہ پوری تحصیل میں سرکاری سطح پر ایک بھی ماہرِ امراضِ نسواںموجود نہیں، نہ ہی وہاں کوئی ماہرِ امراضِ چشم، ناک، کان، گلہ یا سینہ دستیاب ہے ۔ صاف پانی کی فراہمی تو وہاں کے باسیوں کیلئے ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر شاید ان کی اگلی نسلوں کو بھی نہ ملے۔ بدحالی کی یہ دلخراش داستاں صرف نورپور تھل تک محدود نہیں، بلکہ اس سے آگے بسنے والے پنجاب کے لاکھوں باسی بنیادی انسانی حقوق کے ایک ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ میانوالی سے مظفر گڑھ اور خوشاب سے جھنگ تک پھیلی ہوئی خستہ حال سڑکیں اب شاہراہیں نہیں بلکہ "مقتل” بن چکی ہیں، جہاں روزانہ کئی قیمتی زندگیاں انتظامی لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ عوام کی مایوسی اور حکومتی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ تونسہ لیہ پل، جس کا سنگِ بنیاد چار دہائیاں قبل میاں نواز شریف نے رکھا تھا، آج تک تشنہِ تکمیل ہے۔ تھک ہار کر اور ریاست سے امیدیں توڑ کر اب وہاں کے غریب عوام نے اس پل کو اپنے خون پسینے کی کمائی اور چندے سے خود مکمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم کوہِ سلیمان کی سنگلاخ وادیوں کا رخ کریں تو وہاں پنجاب کی حدود میں ڈھائی تین سو کلومیٹر تک علم کا کوئی ایک چراغ روشن نہیں۔ اس علمی اندھیرے کے ساتھ ساتھ وہاں گھر گھر میں کینسر کے مریض تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہیں لیکن ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ دوسری جانب روہی اور چولستان کے تپتے صحراں میں انسان اور جانور آج بھی پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ایک ہی جوہڑ پر اکٹھے نظر آتے ہیں۔ غرض راجن پور ہو یا کوہِ سلیمان کا دامن، صادق آباد کے مضافات ہوں یا کوٹ چوبارہ کی پسماندہ بستیاں ، ہر جگہ محرومی کا وہی راج ہے جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر ہونا کسی عیاشی سے کم نہیں۔ یہ وہ "خاموش پنجاب” ہے جس کی چیخیں لاہور کے فلائی اوورز کے شور میں دبا دی گئی ہیں ۔ سندھ کی حکومت کی کارکردگی بھی قطعا مثالی نہیں ہے لیکن سندھ کا ترقیاتی وژن کی خوبی یہ ہے کہ سہولیات کو وہاں لے جایا جائے جہاں انسان بستے ہیں۔ آج سندھ کے ہر ضلع میں "این آئی سی وی ڈی” کے وہ سٹیلائٹ سینٹرز قائم ہیں جہاں دل کا مفت بائی پاس آپریشن ہو رہا ہے جبکہ پنجاب کے دور دراز اضلاع کے مریض آج بھی لاہور کے پی آئی سی کے برآمدوں میں پڑے رہتے ہیں۔ خیرپور کے ایک چھوٹے سے قصبے "گمبٹ”میں ہونیوالی مفت جگر اور گردوں کی پیوند کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ نے دور دراز علاقوں کو "گروتھ پول” بنانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ جہاں پنجاب کا صحرائے تھل اور چولستان زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو ترستے ہیں، وہاں سندھ حکومت نے تھر کے ریگستان میں بین الاقوامی ایئرپورٹ، جدید سڑکیں اور تھر کول جیسے عظیم الشان منصوبے تعمیر کر کے معاشی خوشحالی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ جب ہم پنجاب کے اضلاع کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک ہی صوبے میں دو الگ الگ براعظم نظر آتے ہیں دوسری طرف اس کے برعکس سندھ نے "شہر پرستی” کے بجائے "وسائل کی تقسیم”اور "ڈی سینٹرلائزیشن”کی راہ اپنائی ہے۔”ذوالفقار آباد”جیسے منصوبے کے ذریعے کراچی پر آبادی کا دبائو کم کرنے کی دور اندیش کوشش بھی کی لیکن بد قسمتی سے اسے عدالتی رکاوٹوں کی نذر کر دیا گیا ۔وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے اس "پروپیگنڈا ماڈل”کا پوسٹ مارٹم کریں جو صرف شاہراہوں کی لمبائی کو کامیابی مانتا ہے۔ حقیقی ترقی "انسانی ترقیاتی اشاریے” میں بہتری سے آتی ہے ۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار معاشی نمو وہی ہے جو "جامع ترقی” پر مبنی ہو، جہاں ترقی کا ثمر صرف ایک روڈ یا ایک شہر تک محدود نہ رہے بلکہ تھر کے صحرا اور تھل کی وسعتوں تک مساوی بنیادوں پر پہنچے۔ جب تک ہم کنویں کے مینڈک بن کر صرف سطح کو دیکھیں گے ہمیں گہرائی میں چھپی محرومیاں کبھی نظر نہیں آرہی ہوں گی۔ پاکستان کی بقا ایک شہر کو پیرس بنانے میں نہیں، بلکہ نورپورتھل، جام پور اور کوٹ چوبارہ کے بچوں کو ان کے اپنے گھر کے قریب تعلیم اور صحت کی فراہمی میں ہے۔
ترقی کا سراب اور محرومیوں کا معاشی جغرافیہ

