کالم

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنےوا

بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کے انسانی حقوق کی پامالی اور ان پر مشق ستم جو اسرائےل کر رہا ہے وہ صرف شےاطےن ہی سمجھ سکتے ہےں ۔ہزاروں فلسطےنی اسرائےل کے شوق انتقام کی بھےنٹ چڑھ چکے ہےں ۔لاکھوں بے گھر اور زخمی ہوئے ہےں اور غزہ کو عملاً تورا بورا بناےا جا چکا ہے ۔ غزہ مےں اب تک 9ہزار سے زائد خواتےن ماری جا چکی ہےں ۔فلسطےنی بچے ےتےم ہو گئے ، ماﺅں کی گودےں اور بےوےوں کے سہاگ اجڑ گئے ،فلسطےنی جوانوں کےلئے کفن ملنا مشکل ہو گئے ، فلسطےن کی بےٹےوں کےلئے سر ڈھانپنے کے دوپٹے جلا دئےے گئے ۔ہر شخص کو بادےدہ تر دےکھ رہے ہےں ،ےہ درد بھی اب اہل نظر دےکھ رہے ہےں ، سب اڑ گئے پت جڑ کے فضاﺅں کے پرندے ، اجڑی ہوئی شاہوں کے شجر دےکھ رہے ہےں ۔ ابھی تک 35ہزار کے قرےب مردو زن کی بڑی تعداد اس ےکطرفہ جنگ مےں کام آ چکی ہے لےکن عالمی ضمےر ابھی تک گہری نےند سو رہا ہے ۔ شاےد وہ آخری فلسطےنی کے شہےد ہونے کے منتظر ہےں ۔غزہ کے مسلمانوں نے عےد اپنے مرنے والوں کے سوگ اور برستے بارود مےں منائی ۔اسماعےل ہانےہ کے تےن بےٹے اور تےن پوتے عےد کے موقع پر اسرائےلی بارود کا نشانہ بنے ۔کےا اس پر انسانےت کے ناتے ہی کسی کا دل پسےجا ؟مسلم دنےا مےں بھی سوائے رسمی مذمتی قراردادوں کے ،کےا کسی کی آنکھ سے حقےقت مےں آنسوبہے ہےں ؟ ابھی تک کوئی اسرائےل کا بال بےکا نہ کر سکا ۔بھلا ہو اےران کا کہ اس نے غزہ پر بمباری کے جواب مےں نہ سہی اپنے قونصلےٹ پر حملے کے جواب مےں ہی اسرائےل کو رد عمل تو دےا ۔دنےا بھر کے 56مسلم ملکوں نے اسرائےل پر حملے کا کبھی سوچا بھی نہےں تھا ،ےہ اعزاز اےران نے حاصل کر لےا ۔ےکم اپرےل کو اسرائےل نے شام کے دارالحکومت دمشق مےں اےران کے قونصل خانے پر فضائی حملہ کےا ۔ اسرائےلی بمباری سے 8افراد ہلاک ہو گئے ۔ مرنے والوں مےں پاسداران انقلاب کے اےک کمانڈر بھی شامل تھے ۔اےران نے اسی روز اس حملے کو اسرائےلی دہشت گردی قرار دےتے ہوئے اعلان کےا تھا کہ وہ مناسب وقت پر اس حملے کا بھرپور جواب دے گا اور اسرائےل جواب کےلئے تےار رہے ۔کسی بھی ملک کا سفارتخانہ اس ملک کی سرزمےن تصور ہوتا ہے ۔ےہ اےسی سنگےن جارحےت تھی کہ اس کا جواب دےنا لازمی تھا ۔ اےران نے اسرائےل پر جوابی حملہ کر کے بڑی جرا¿ت کا کام کےا ۔حقےقت ےہ ہے کہ پورے مڈل اےسٹ مےں اےران کے سوا اےسی جرا¿ت کوئی ملک نہےں کر سکتا ،اےسا کرنا تو کجا سوچ بھی نہےں سکتا ۔ہفتہ اور اتوار کی درمےانی شب اےران نے پہلی مرتبہ اسرائےل کوڈرونز ، بےلسٹک مےزائل اور کروز مےزائل سے نشانہ بناےا ۔ اسرائےل کے دعویٰ کے مطابق اس نے بےشتر مےزائل ،کروز اور ڈرون اپنے ائےر ڈےفنس نظام سے تباہ کر دئےے جبکہ امرےکہ برطانےہ نے بھی اپنے جنگی جہازوں سے ان کو تباہ کےا اور بہت کم مےزائل ، کروز اور ڈرون اسرائےل تک پہنچے ۔ اسرائےل نے تسلےم کےا کہ اس کے فوجی اڈے کو نقصان پہنچا ہے اور اےک اسرائےلی لڑکی بھی زخمی ہوئی ہے ۔اسرائےل نے اس حقےقت کا اعتراف بھی کےا ہے کہ اےران کے کچھ مےزائلوں نے اس کے فوجی اور ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچاےا ہے اور وہ مےزائل ہدف تک پہنچنے مےں کامےاب ہوئے ہےں ۔سابق امرےکی انٹےلی جنس آفےسر اسکاٹ رائٹر نے اےک ٹی وی چےنل کو انٹروےو دےتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائےل کا ناوا سٹم ائےر بےس مےزائل حملوں کے خلاف زمےن پر سب سے زےادہ محفوظ مقام ہے جو وائٹ ہاﺅس اور کرےملن محل سے بھی زےادہ محفوظ ہے ۔ اےران نے اسے پانچ مےزائلوں سے تباہ کر دےا ۔اس نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اےران نے امرےکےوں سمےت سب پر ثابت کر دےا کہ اےرانی مےزائلوں کا کوئی دفاع نہےں ہے ۔ عمان کے ڈاکٹر حمود الفعالی اپنے اےک تجزئےے مےں لکھتے ہےں کہ اےران 330ڈرونز اور مےزائلوں کے ساتھ اسرائےل پر حملہ آور ہوا ہے ان مےزائلوں مےں سے بعض کا وزن 5سو کلو گرام تھا اور وہ شخص سادہ ہے جو ےہ توقع رکھتا ہے کہ جس پر وہ گرے اسے تباہ نہ کرے ۔ اقوام متحدہ کی شق 51کے تحت اےران کو ےہ حق حاصل تھا کہ وہ جوابی کاروائی کرتا ۔اس نے اپنا حق استعمال کر کے عالمی استعمار کو دوٹوک پےغام دےا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی قبول نہےں ۔اےران کے حملے مےں اسرائےل کا نقصان کےا ہوا ،ےہ قطعی طور پر اہم نہےں ہے بلکہ اےران کی طرف سے پوری تےاری اور اعلان کے بعد اسرائےل کو جواب دےنا اہمےت کا حامل ہے ۔مسلکی تعصب کے زےر اثرسوشل مےڈےا خاص کر فےس بک پر بہت سے لوگوں نے اےران کے خلاف طنزےہ پوسٹےں لگائےں ،اےرانی مےزائلوں کا مضحکہ اڑاےا اور گھٹےا عامےانہ جملے بازی کی ۔بعض نے علم و حکمت کے منافی ےہ شگوفہ چھوڑا کہ حملے سے قبل اےران نے امرےکہ سے جوابی حملے کی اجازت طلب کی جو بخوشی اسے دیدی گئی ۔ان کے خےال مےں اےران دکھاوا کر رہا ہے ،حقےقت مےں اےران امرےکہ کے ساتھ ہے ۔معزز قارئےن کبھی دنےا مےں اےسا ہوا ہے ۔کہا گےا کہ اےران کبھی اسرائےل کو آنکھےں نہ دکھاتا اگر اس کے سفارت خانے پر حملہ نہ ہوتا ۔ اےران نے کب ےہ دعویٰ کےا کہ اس نے غزہ پر اسرائےلی حملے کے جواب مےں جنگ چھےڑی ہے ؟اےران تو ےہی بات کہہ رہا ہے کہ اس کا حملہ اپنے دفاع مےں ہے اور اسے اقوام متحدہ کا چارٹر 51اےسا کرنے کا جواز دےتا ہے ۔ےہ بھی غور طلب ہے کہ اسرائےل نے آخر اےران پر ہی حملہ کےوں کےا ؟مڈل اےسٹ کے دےگر ممالک مےں سے کسی اور پر حملہ کےوں نہےں کر دےا ؟اس لئے کہ اےران ہی پورے خطے کا واحد ملک ہے جو بذات خود اس کے زےر اثر حزب اﷲ،ےمن کے حوثی جےسی تنظےمےں پوری طرح اسرائےل کے سامنے کھڑی ہےں ،مزاحمت کر رہی ہےں ۔ےہ حقےقت بھی اظہرمن الشمس ہے کہ غزہ مکےنوں اور حماس کی کھل کر واضع حماےت اےران نے ہی کی ہے ۔ دوسرا ےہ پروپےگنڈہ کےا جا رہا ہے کہ اس حملے سے اسرائےل کا جانی نقصان نہےں ہوا ،ےہ تو محض اےک ڈرامہ تھا ۔دراصل اےران جنگ سے گرےز کر رہا ہے اور ےہ ہی بہتر اور معقول بات ہے ۔آج اےران کے جو معاشی حالات ہےں ،جو پابندےاں ہےں ،کرنسی جس نہج پر پہنچ چکی ہے ،اس تناظر مےں اسے جنگ سے ہر حال مےں بچنا چاہئےے۔اسرائےل تو اےران کو مسلسل جنگ مےں کھےنچنے کی کوششےں کر رہا ہے ۔اےران نے بڑی احتےاط کے ساتھ کےلکولےٹڈ جواب دےا جس کا اظہار انہوں نے پہلے ہی کر دےا تھا کہ ہم جواب دےں گے مگر ےہ محدود پےمانے پر حملہ ہو گا ۔ اس کا مقصد جنگ بھڑکانا ےا وسےع کرنا نہےں ۔ دراصل ےہ علامتی حملہ تھا جس کا مقصد تباہی پھےلانے سے زےادہ امرےکہ اور اسرائےل کو متنبہ کرنا تھا کہ ان کے پاس اسرائےل کو نشانہ بنانے کی صلاحےت موجود ہے اور اگر اچانک اور بڑے پےمانے پر وہ حملہ آور ہو گا تو کئی اےرانی مےزائل اس کے شہروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہےں ۔ بقول سابق مندوب ملےحہ لودھی کے اےران کی جوابی کاروائی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی تھی جس کا مقصد تباہی نہےں بلکہ تل ابےب کو اےک مضبوط پےغام دےنا تھا کہ وہ بھی اس طرح کے اقدامات کی صلاحےت رکھتا ہے ۔ان منظم ترےن فضائی حملوں نے اسرائےل کے جدےد دفاعی نظام کو چےلنج کےا جسے امرےکہ نے بھی بے مثال قرار دےا ۔ عسکری نقطہ نظر سے دےکھا جائے تو اس آپرےشن نے اسرائےل کے آئرن ڈوم مےزائل سسٹم کو آشکار کےا اور امرےکہ و اسرائےل کے پورے دفاعی نظام پر مبنی جدےد نظام کو بے نقاب کر کے رکھ دےا اور جلد اسرائےل کو جواب دےنے کا اعلان کرتے ہوئے امرےکہ کو بھی باور کرا دےا کہ اگر وہ اسرائےل کی مدد کو آےا تو نتائج کا خود ذمہ دار ہو گا ۔7اکتوبر سے غزہ مےں انسانی خون سے ہولی کھےلنے کے بعد دنےا بھر سے ملنے والی لعنتوں ، نفرتوں اور احتجاج دےکھتے ہوئے اسرائےل نے اےرانی قونصل خانے پر حملہ ہی اس لئے کےا تھا تا کہ وہ امرےکہ کو اس جنگ مےں کھےنچ سکے ۔اےران اپنی بہتر حکمت عملی اور کمال مہارت کے جوابی حملہ کرنے کے دو ٹوک پےغام کے بعد اسرائےل اور اس کے سر پرست امرےکہ و برطانےہ کو جھانسہ دےنے مےں کامےاب رہا اور امرےکہ کو برملا کہنا پڑ گےا کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہےں بنے گا ۔اےرانی حملہ کے جواب مےں اسرائےلی ردعمل اور پرےشانی تو نظر آتی ہے لےکن وطن عزےز مےں مسلکی تعصب کے زےر اثر اےران پر طنز کرنےوالے تنقےدی عناصر کو غزہ کے مظلوم مسلمان کےوں نظر نہےں آ رہے ۔کےا ان کی سوچ مسلکی تعصب کے باعث اسی کی مخالفت کریگی جو اسرائےل کے خلاف جنگ کرےگا ۔ ےہ بھی ےاد رکھنے کی بات ہے کہ اسرائےل پر اےک کنکر پھےنکنے والے کی مخالفت اسرائےل کی حماےت نہےں بن جاتی جو کم از کم بطور مسلمان زےب نہےں دےتی ۔شاےد ہم اسلام دشمنوں کے فرقہ وارےت کی صورت مےں بچھائے گئے جال مےں کس بری طرح پھنس چکے ہےں اور فرقہ وارانہ سوچ کی وجہ سے بالواسطہ طور پر اسرائےل اور اسلام دشمن قوتوں کا ساتھ دے رہے ہےں ۔ اےران نے اقبالؒکی کہی ہوئی بات کو ثابت کر دےا ہے کہ اےران عالم مشرق کا جنےوا بننے کی پوری طرح صلاحےت رکھتا ہے ۔افسوس کہ ہمارے ہاں فرقوں کے اسےر کوتاہ نظر مشرق وسطیٰ کے تنازعہ اور اس مےں لہو کی روانی کو بھی تعصب اور فرقہ وارےت کی آنکھ سے دےکھ رہے ہےں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے