Site icon Daily Pakistan

تیل کی جنگ کیا بنے گی تیسری عالمی جنگ

دنیا میں پہلی مرتبہ کسی ملک کے حکمران پر حملے کا فیصلہ انسان کے بجائے اے آئی نے کیا اور یہ حملہ مکمل اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ایران پر حملے کی صبح پلانٹیئر کو ایکٹو کیا گیا اور آیت اللہ خامنہ ای کو اپنے 48 قائدین کے ساتھ شہید کر دیا۔ اے آئی کلائوڈ نے پلانٹیئر کے اس ڈیٹا کے بعد سپیس ایکس سٹار کے ذریعے سپیس سے زمین تک ایک ایسا رابطہ بنا دیا جسے نہ ہیک کیا جا سکتا تھا اور نہ انٹر سیپٹ۔ اس رابطے کو کسی انسانی فیصلے کی ضرورت نہیں ہوتی بس اسے ایک کمانڈ چاہیے ہوتی ہے اور حملہ ہو جانا ہے۔ اس میں ایک سافٹ ویئر اینڈورل (Anduril) نے اہم کردار ادا کیا اس نے زمینی ڈیٹا کو خلائی ڈیٹا اور ان دونوں کو واشنگٹن کے کمانڈ سنٹر کے ساتھ جوڑا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی گو کہنے کے بعد کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ہی تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای کے کمپائونڈ پر تیس میزائل باری باری گرے اور سکرینوں پر آیت اللہ خامنہ ای کی میت کی تصویر بھی آ گئی۔ یہ جنگ کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔اس حملے میں مشین اور سافٹ ویئر نے اہم رول ادا کیا۔ مشین اور سافٹ ویئر عقل اور جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے صرف ایک مقصد تھا اور وہ یہ تھا آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کی اعلی قیادت کو بیک وقت ہلاک کرنا اور اس نے یہ ہدف حاصل کر لیا۔ اے آئی کلائوڈ نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر اپنے وجود کو تو منوا لیا لیکن اس نے دنیا بھر کے ماہرین اور حکمرانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب امریکا میں بھی اس وقت یہ سوال کھڑا ہے اگر ہم یہ کر سکتے ہیں تو چین روس اور شمالی کوریا کیوں نہیں کریں گے۔ انہیں یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر ان کے سسٹم میں بھی یہ کلائوڈ ایکٹویٹ ہو گئے تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔ اس جنگ میں انسان اے آئی کلائوڈ وار میں داخل ہو کر تجربہ بھی کر چکا ہے اور آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوجانے کا اس جنگ کا پہلا رزلٹ ہے۔کل کون کون اس کا شکار بنے گا یہ اب کوئی نہیں جانتا لیکن لگتا یہی ہے کہ اب کسی کا بچنا مشکل ہے ۔ اس حملے کے بعد ایک ہفتے سے زیادہ جنگ جاری ہے دعا ہے یہ تیسری عالمی جنگ ثابت نہ ہو۔ یہ جنگ دراصل تیل پر کنٹرول کرنے کی جنگ ہے۔ جہاں جہاں دنیا میں تیل نکل رہا ہے ان ممالک کے حکمران ان کے تابع ہیں اب ایران کو بھی اپنے تابع کرنے کے لیے اس پر جنگ جاری ہے کیونکہ ایران کی موجودہ رجیم ان کے ساتھ راضی نہیں تھی۔ وہ تیل اپنی مرضی سے پیدا اورفروخت کرتے تھے۔اب ایران سے اس رجیم کا خاتمہ تو کر چکے ہیں مگر انہیں متبادل قیادت وہاں نہیں مل رہی جو ان کے تابع کام کرنے پر راضی ہو۔ ادھر تیل میں ایران کے ساتھ روس چین اور شمالی کوریا بھی دلچسپی رکھتے ہیں لہذا یہ بھی ایران کا ساتھ دینے کو تیار ہیں تانکہ ایران تیل کی مارکیٹ امریکا کے ہاتھ میں نہ لگے۔ جس قسم کے ایٹمی ہتھیار بن چکے ہیں وہ دنیا سے انسانوں کے خاتمے کے لیے کافی ہیں ۔قیامت بھی قریب ہے۔اس کے بعد کوئی جنت میں جائے گا اورکوئی جہنم میں۔انسانوں کو ان کے کرتوتوں کی بنا پر جزا اور سزا ملے گی۔ اس وقت اسرائیل اور امریکن نے فلسطین کے بعد اب ایران پر بم برسانے شروع کر رکھے ہیں نہ سکول دیکھے نہ اسپتال نہ بچے دیکھے نہ بوڑھے اور نہ بیمار دیکھے۔ ایران کے سکول کی بچیوں پر بم برسا چکے ہیں جس سے ایک سو ستر بچیاں جن کی عمریں سات سے بارہ سال تھیں۔ان کے اسکول پر بم مارے۔ اس ظلم کا حساب اسی دنیا میں ہو گا۔ دیکھتے ہیں یہ اب کب اللہ کی گرفت میں اتے ہیں۔ جو کچھ غیر قانونی کام یہ کر رہے ہیں ہمیں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔مگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو ایران کے حملے کے بعد تیش دلا کر اپنی سیاسی دوکان چمکانے کی خاطر کراچی میں امریکی ایمبیسی گھسنے کی کوشش کی ۔کیا ان نوجوانوں کا ایسا کرنا کوئی قانونی جواز بنتا تھا اور کیا جواب میں ان کو گولیوں کا نشانہ بنانا بنتا تھا۔ دونوں اطراف نے غیر قانونی راستہ اپنایا۔ہم نے غلط طریقے سے احتجاج کیا۔ ہم خاموش احتجاج کرنے کا حق تو رکھتے ہیں مگر قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق نہیں رکھتے۔ایسا کرنے سے یہ اپنی مشکلات میں اور ملکی مشکلات میں اضافہ کیا۔ جبکہ صبر سے کام لینا ہمارا اس رمضان کی وجہ سے بھی فرض بنتا تھا۔
ہم خود نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم بھی حالت جنگ میں ہیں۔افغانستان سے جنگ جاری ہے احتجاج کا مقصد یہ ہونا چاہیے تھا کہ اسرائیل امریکا نے ایران پر وحشیانہ حملہ کیوں کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج کرنے والے اس جنگ کو روک سکتے تھے۔بالکل نہیں۔ یہ اس ایمبیسی کے باہر پہنچ کر وہاں کھڑے ہو کر نعرہ بازی کرتے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے اور واپس آ جاتے۔اتنا ہی کافی تھا لیکن احتجاج کرنے والوں نے قانون ہاتھ میں لیا اور جانی نقصان بھی اپنا اور ملک کا کیا۔کون سا قانون اپ کو خونی احتجاج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اپ کے اس خونی احتجاج سے کئی گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔ ہم تو کوئی ویلفیئر اسٹیٹ بھی نہیں ہے۔جو مرنے والوں کے خاندان کا خیال رکھے گی پھر اپ نے ایسا احتجاج کر کے دشمن کا نقصان کرنے کے بجائے اپنا نقصان کر بیٹھے۔ ایسا ہی ایک احتجاج اسلام آباد آبپارہ میں ہوا۔ ان کا بھی یہی ارادہ تھا کہ ہم امریکن ایمبیسی کی طرف جائیں اور اس کا خاتمہ کر دیں۔ اس احتجاج پر وزیر داخلہ محسن نقوی احتجاج کرنے والوں کو سمجھانے وہاں پہنچے جس پر چند شر پسند عناصر نے انہیں زخمی کیا۔ کوئی بتائے کہ اس احتجاج میں شامل لوگوں نے دشمن کو نقصان پہنچایا یا اپنا اور اپنے ملک کا نقصان کیا۔
احتجاج کرنے سے جمعہ کے روز سارا اسلام آباد کنٹینروں سے بند رہا۔جس سے عام شہریوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ مریض اسپتالوں میں اور میتیں قبرستان نہ پہنچ سکیں۔ سائل اور وکلا عدالتوں میں نہ پہنچ سکے۔ جن کے خلاف یہ احتجاج تھا انہیں تو اپ کے احتجاج کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا وہ تو سکون میں رہے اور احتجاج کرنے والے خود تکلیف میں رہے اور دوسروں کو بھی تکلیف سے دو چار کئے رکھا۔ اس سے بہتر ہوتا اپ احتجاج کرنے والوں کو کسی میدان میں اکٹھا کرتے قرآن کی تلاوت کرتے جنگ میں شہید ہونے والوں کے بلند درجات کیلیے دعا کرتے۔ اللہ بھی خوش ہوتا اور اس کے بندے بھی۔ اس وقت پاکستان وہ واحد اسلامک ملک ہے۔ہمیں تو ہر قدم پھونک پھونک کر چلناچائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ہمیشہ احتجاج میں اپنا ہی نقصان کیا ہے۔ ہم میں وہ تمام برائیاں رمضان کے مبارک مہینے میں بھی موجود ہیں۔ جن کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں ہمارے نبی کریم ۖ کر رکھا ہے آپ نے فرمایا کہ دجال کے انے سے پہلے دنیا میں جھوٹ اور فریب رشوت عام ہو گی۔انصاف کا برا حال ہو گا۔ علم کم جہالت زیادہ ہوگی۔ لگتا یہی ہے یہ ساری نشانیاں ہمارے ہاں تو موجود ہیں۔ ہم نے جیسے قیامت کی تیاریاں پہلے سے ہی کر رکھی ہیں بس اب قیامت آئے اور ہم اس میں داخل ہو جائیں اگر قیامت قریب ہے تو ہم توبہ کرتے نہ کے احتجاج سے سڑکوں کو بلاک کر کے لوگوں کو تکلیف دیتے بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے دن ہیں۔ بخشوانے کے دن ہیں۔حکومت نے تیل کی قیمتی یک دم پچاس روپے بڑھا کر ثابت کیا ہے ہم خدا کی مخلوق کے لیے اسانیاں نہیں مشکلات پیدا کرنے آئے ہیں۔ سب جانتے ہیں پٹرول مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو گی۔یہ تو بتا دیا کہ طلبا گھر بیٹھ کر ان لائن پڑھا کریں گے۔ ججز کے سامنے سائل اور وکلا کو بھی پیش نہ ہونے کی سہولت دی جائیں۔ججز فائلوں کو پڑھ خود ہی فیصلہ لکھ دیا کریں۔ جن مریضوں کے اپریشن ہونے والے ہیں انہیں دم درودوں کی سہولت مہیا کی جائے تانکہ پیرو سے آن لائن دم کرا کر صحت یاب ہو سکیں لیکن یاد ایا ہمارے ملک کے پیر اکثر رمضان میں اپنے مریدوں کے ہمراہ عمرہ کرنے جاتے ہیں۔پیر عمرہ کرتے ہیں اور مرید پیر صاحب کے لیے بھیگ مانگتے ہیں۔ لہزا ہو سکتا مریضوں کو پیر نہ مل سکیں۔ ہم اپنے اعمال کرتوتوں کی طرف دھیان دیں انہیں ٹھیک کریں۔دعا ہے ایران جنگ لمبی نہ ہو جلد رک جائے۔ آمین

Exit mobile version